صفحہ اول / بین الاقوامی / اردو، رو بہ زوال کیوں؟

اردو، رو بہ زوال کیوں؟

*یوم نفاذ اردو*
*خصوصی مضمون۔۔ محترمہ عفت خان*
*اردو رو بہ زوال کیوں*


اردو ہماری قومی زبان ہونے کے باوجود "ستر” سال گزرنے کے بعد بھی نافذ نہیں ہوٸی،اور کیونکر ہوتی جب ہم سامراجی زبان انگریزی کے شکنجے میں بری طرح پھنس گٸے ہیں۔

ہم پاکستانی نجانے کیوں اپنی قومی زبان "اردو” کو پس پشت ڈال کر انگریزی زبان کو فروغ دے رہے ہیں!

کیا ہماری اپنی قومی زبان باعث عار ہے یا ہماری زبان اپنی "اردو” زبان
کسی اور زبان کی محتاج ہے،جو ہم منہ ٹیڑھا کر کر کے انگریزی بولتے ہیں۔

جب تک قوم اپنی حالت بذات خود نہیں بدلتی خدا بھی ان کی حالت نہیں بدلتے ۔

آٸیے:

ہم آواز ہو کر نفاذ اردو کے حق میں آواز اٹھاۓ اور اپنی پہچان کو فروغ دے۔
نہیں تو وہ وقت دور نہیں جب تیسرے درجے کی حیثیت سے بقیہ زندگی گزاروگے۔
حسرت و یاس کی تصویر بن کر ہاتھ ملوگے خدانخواستہ پر وقت گزر چکا ہوگا۔

وہی حال ہوگا پھر ہمارا
"پچھتانے سے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گٸ کھیت”۔

ہم پاکستانيوں کی ذہنی پستی و غلامی کا اندازہ ہم اس بات سے بھی لگا سکتے ہیں کہ ہم ہر قسم کے سٹیٹس تو واٹس ایپ پر لگاتے ہیں مگر اس بات پر آمادہ نہیں کہ ایک ادنی سا پیغام "اردو” کے نفاذ کے حق میں بھی لگاۓ۔

ہم ہر طرح کا نعرہ تو بلند کرتے ہیں مگر "اردو” کے حق میں نعرہ ٕ مستانہ بلند کرنے والے صرف گنے چنے افراد ہیں۔

پاکستان تو ہم سب کا ہے دوستوں!
اور اسی سے پہچان ہے ہماری۔

ہندوؤں پر ذرا نظر ڈالے کہ آج ہم آواز ہو کر پاکستان کے مٹنے کے منصوبے بنارہے ہیں جس سے یقینا ہم سب پاکستانی شدید غم و غصے کے شکار ہیں۔
اور کیوں نہ ہوگے کہ پاکستان ہی تو اپنا پیارا وطن ہے۔

تو آٸیں آج سے عزم کریں کریں کہ ہم سوہنی دھرتی پر اردو کو نافذ کر کے دم لیں گے ان شاء اللہ!

سوہنی دھرتی اللہ رکھے
قدم قدم آباد تجھے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend