صفحہ اول / بلاگرز فورم / اصول، تحریر : نعمان علی ہاشم

اصول، تحریر : نعمان علی ہاشم

"اصول”
نعمان علی ہاشم

کام کے تین اصول ہیں. انگریزی میں انہیں کہتے ہیں.
? What to do
? How to do
? Why to do
ہمارے فیسبکی تجزیہ نگاروں کو یہ اصول یاد رکھنے چاہیے. آپ جو کچھ بھی کر رہے ہیں اس پر مکمل دسترس رکھتے ہوں. آپ کو اچھی طرح شعور ہو کہ آپ جو کام کر رہے ہیں وہ کیا ہے؟ . اور آپ کو یہ بھی پتا ہونا چاہیے کام کیسے کرنا ہے؟ اور تیسری اہم چیز یہ ہے کہ آپکو اندازہ ہو کہ آپ یہ کام کیوں کر رہے ہیں.؟
آپ کسی ایک اصول کو نظرانداز کر دیں تو آپکا کام تعمیری نہیں ہوگا. تخریب ہی تخریب ہوگا.
مثال سمجھ لیجیے.
انڈیا نے پاکستان پر سٹرائیک کر لی. کیوں کی یہ سب کو پتا ہے کہ بھارت میں الیکشن ہو رہے ہیں.
مگر کام کیا کرنا ہے اور کیسے کرنا ہے بھارت نے بالکل نظر انداز کر دیا. جس کا نتیجہ آج پوری دنیا میں ذلت ہے. اور بھارتی باشعور عوام سے بھی مودی پر تھو تھو کر رہی ہے.
اس میں کوئی شک نہیں کہ بھارت ازلی دشمن ہے. مگر یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگ میں بھارت کے بھاری نقصان کے باوجود بھی یہ جنگ بھارت کی فتح ہوگی. مودی الیکشن جیت جائے گا اور پاکستان پر حالات مزید تنگ ہو سکتے ہیں.
اس وقت خطے کی سب سے بڑی ضرورت ہے کہ جنگ کو ٹالا جائے . اور پاکستان یہ بات بخوبی جانتا ہے. کہ بھارت کو چت کیسے کرنا ہے. ایک مدت تک پاکستان کو اقوام عالم میں تہنا (آئسولیٹ) کرنے کے لیے بھارت نے لاکھ جتن کئے. اور کامیاب بھی رہا. مگر پچھلے ایک مہینے میں بھارت کو جو خفت ہوئی اس سے کشمیر کا کیس بھی مضبوط ہوا. اور بھارت بھی تنہا ہو گیا.
اگر پاکستان بھی بھارت کی زبان میں جواب دیتا تو ہم بھی کام کے اصولوں سے پھر جاتے. ممکن ہے کہ ہم اپنے لوگوں کے دل جیت لیتے. اور بھارت کا بھاری جنگی نقصان بھی کر دیتے. اور اس تباہی کا زمہ دار پاکستان قرار دیا جاتا. اور پاکستان کا کیس دنیا میں کمزور پڑ جاتا. پاکستان جو ایک مدت سے سرد جنگ لڑ رہا ہے. اسے پتا ہے سرد جنگ گرم جنگ سے کئی گنا بہتر طریقے سے جیتی جا سکتی ہے. دیکھیے.. امریکہ آج پاکستان کو الزام ہی دے سکتا ہے. مگر پاکستان سے براہ راست پنگا نہیں لے سکتا. دنیا سمجھ گئی کہ افغانستان میں کیا ہوا. مگر پھر بھی پاکستان کا نام براہ راست نہیں لیا جا سکتا..
اسی طرح ہم نے پچھلے دنوں ہر بھارتی جارحیت کا جواب دیا. مگر مدبرانہ انداز میں.. ہر طرح سے ہمارا پنجہ بھاری رہا. سفارتی اور عسکری محاذ پر بھی جیت گئے. اور دنیا کے سامنے امن کے چیمپئن بھی بن گئے. اور اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں کہ ہم امن کی چیمپئن ہی ہیں. مگر ہم نے فریڈم مومنٹ آف جموں کشمیر کو کبھی اخلاقی مدد دینے سے انکار نہیں کیا. اور کشمیری عوام کا ہمیشہ حوصلہ بڑھایا.
باڈر پر جوابی کارروائی کے نام پر کئی لاشیں گفٹ کی. اور طیارے بھی مار دیے.
یقینی طور پر ہمارا پاؤں بھاری رہا.
ہمارے کرنے کے کام کیا ہیں.؟
کیا ہم باڈر پر کھڑے فوجیوں اور پالیسی سازوں سے بہتر جانتے ہیں؟؟ ہرگز نہیں.
ہمیں اپنے زاویے سے جو چیز گول نظر آتی ہے ممکن ہے بیضوی شکل میں ہو. سو جن کا کام ہے ان کو کرنے دیں. مشکل حالات میں ریاست کے فیصلوں کو بیک کریں. ایسی فضا کو قائم رکھیں کہ قوم متحد نظر آئے. فیفتھ جنریشن آف وار فیرز بس ایک نکتہ پر مرکوز ہے. وہ نکتہ ہے دشمن قوم کو ذہنی انتشار میں مبتلا کرنا. ہر بندہ دوسرے سے مختلف سوچے اور قوم ہجوم کی مانند نظر آئے. ہم نے ایسی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا. ہمارے اختلاف جنگ کے بعد بھی آگے بڑھ سکتے ہیں. مشکل حالات میں ایسی کسی سوچ کو پروان چڑھانے سے مکمل پرہیز کریں.
خیر بتانا یہ تھا کہ کل رات بھارت کا بھاری نقصان ہوا. تین آفیسرز سمیت دس فوجی ہلاک ہوئے. اور ہم ایک پائلٹ کا سوگ منا رہے ہیں. دشمن کو کہاں کیسے اور کیوں مارنا ہے یہ افواج پاکستان یقیناً آپ سے بہتر جانتی ہیں.
اللہ میرا آپکا کا ہماری افواج کا اور پاکستان کا حامی و ناصر ہو.

#نعمانیات

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

عالمی امن پر منڈلاتے خطرات

آپ بھی جان لیں کہ اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت رکھنے والے ممالک کے مابین 145 …

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت …

Send this to a friend