صفحہ اول / بلاگرز فورم / اقوام متحدہ کو اب ہم یاد آ گئے

اقوام متحدہ کو اب ہم یاد آ گئے


اقوام متحدہ کو اب ہم یاد آگئے

تحریر : حافظ ابتسام الحسن 

اقوام متحدہ کو اب ہم یاد آگئے

انڈیا اور پاکستان کا مسئلہ تو کب سے ہے، مگر اقوام متحدہ اور امریکہ نے کبھی اس میں دلچسپی نہیں لی اور ہمیشہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھا، مگر اب جب انڈیا کے دو طیارے گرادئیے گئے، ان کا پائلٹ زندہ گرفتار ہوا، اور بارڈروں پر انڈین فوج کو مار پڑی، تو سب دوڑے چلے آرہے ہیں، اور دھڑا دھڑ بیان دیے جارہے ہیں، پاکستانی سیاسی و عسکری قیادت سے مسلسل رابطے کیے جارہے ہیں، اور پاک بھارت کشیدگی کم کرنے اور صلح کروانے کی پیشکشیں کی جارہی ہیں ۔

یہ سارے نکمے تب کہاں تھے، جب انڈیا نے کشمیر میں ستم کی آندھیاں چلا رکھی تھیں، جب معصوم بچوں کی آنکھوں کی بینائی کو پیلٹ گنوں کے ذریعے چھینا جارہا تھا، جب عورتوں کی عصمت دریاں کی جارہی تھیں، جب انڈیا کے ٹارچر سیلوں میں انسانیت دم توڑ رہی تھی، جب ایک ایک دن میں کئی کئی جنازے اٹھتے تھے، جب کشمیری اپنا حق لینے کے لیے مظاہرے کرتے تھے تو بدلے میں انہیں آنسو گیس، ڈنڈے، چھرے اور سیدھی گولیاں ملتی تھیں،

یہ اقوام متحدہ اور امریکہ کشمیریوں پر ہونے والے ظلم کو دیکھ کر آنکھیں بند کیے ہوئے اور منہ پھیرے ہوئے تھے، تب کشمیری اور پاکستانی مل کر اقوام متحدہ کو دہائی دیتے تھے، کہ ہمارا مسئلہ حل کرو، ہمیں اپنی ہی قرارداداوں کے مطابق حق خودارادیت دو، ہماری آواز سنو، ہم ستم کے سائے میں برسوں سی جی رہیں ہیں، ظلم کی طویل کالی رات ہم پہ سایہ کیے ہوئے ہے، اس سائے کو دور کرکے ہمیں آزادی کی روشنیاں دو، ہمارے بچے مارے جارہے ہیں، ہمیں انصاف دو، ہماری عورتوں کی عصت دریاں ہورہی ہیں، انہیں تحفظ دو، ہمیں سربازار گولیاں مار دی جاتی ہیں، ہمیں چند محافظ دو، ہمارے بیشتر جوان ٹارچر سیلوں میں زندگی کی سانسیں گن رہے ہیں، ان کی زندگیوں کو سکون و قرار دیا جائے ۔اس کے لیے کشمیریوں نے کیا کچھ نہیں کیا، سیاسی تحریکیں چلائیں، مذہبی تحریکیں چلائیں، مسلح تحریکیں کھڑی کیں، ہر سال اقوام متحدہ کو یاد داشتیں پیش کیں، دنیا کے ہر پلیٹ فورم پر آواز اٹھائی، ملک ملک گھوم کے اپنا آزادی کے دعوے کو پیش کیا ،

مگر مجال تھا کہ کسی بڑے ملک، انسانیت کا دم بھرنے کا دعوی کرنے والے ملک، انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والے کسی ملک کے کان پر جونک بھی رینگی ہو، ہر ایک اپنی مستی میں مست اور اپنی موج میں غرق تھا، خوش تھے کہ کارخانہ حیات چل رہا ہے ۔لیکن یہ اچانک ایک دم سب کو کیا ہوا، یہ کیوں سب اکٹھے ہو کر بول پڑے ہیں ۔تو جناب ،ان کے ایک پیٹی بھائی کو تکلیف پہنچی ہے تو یہ بولے ہیں، اور ان کو پتہ چلا ہے کہ یہ امن کے ٹھیکیدار ہیں اور ان کا کام ملکوں میں صلح صفائی اور تصفیہ کروانا بھی ہے ۔ابھی تو صرف دو طیارے گرے ہیں تو یہ سب اکٹھے ہو پڑے ہیں، دو چار اور کھڑاک ہوگئے تو ان سب کو نانی یاد آجائے گی۔ اب تمہیں پتہ چلا کہ جب جانیں جاتی ہیں اور طیارے گرتے ہیں تو کیا بیتتی ہے

خیر اس میں امت مسلمہ، پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لیے پیغام ہے کہ نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا ۔یہاں حق مانگا نہیں، چھینا جاتا ہےاور حق چھیننے کے لیے لڑنا پڑتا ہے، دشمن کو آنکھیں دکھانا پڑتی ہیں ،قتل کرنا اور قتل ہونا پڑتا ہے، جنگی سپاہ بنانی پڑتی ہے، اسلحہ کے ذخائر اکٹھا کرنے پڑتے ہیں، نوجوانوں کو عسکری تربیت دینا پڑتی ہے،پلٹنا، جھپٹنا، پلٹ کر جھپٹنا کا عملی مصداق ہونا پڑتا ہے ۔

تب ہی دنیا زندہ رہنے دیتی ہے، ورنہ کھانے کو پڑتی ہے ۔اور پاکستان نے الحمد للہ مذکورہ تمام کام کیے ہیں تو دنیا نے پاکستان کی سالمیت، حقوق اور مضبوط ہونے کو تسلیم کرلیا ہے ۔اب جلد ہی کشمیر کا مسئلہ حل ہوگا، اقوام متحدہ دیر آید، درست آید ۔اگر اب بھی کچھ کر لیں گی تو ٹھیک، ورنہ دنیا نقصان اٹھانے کے لیے اور مظلوموں کو ان کے حقوق دینے کے لیے تیار رہے ۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! ۔۔۔ تحریر : فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

یہ ہیں پاکستان کی عدلیہ میں شفاف ترین نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ لکھ …

کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ۔۔۔ عاصم مجید

یہ جملہ میرا نہیں بلکہ ایسے دور اندیش شخص کا ہے جس کی بصیرت کی …

Send this to a friend