صفحہ اول / اسلامک بلاگز / اپریل فول، ایک رسم یا تجاہل عارفانہ۔۔۔از ثنا صدیق

اپریل فول، ایک رسم یا تجاہل عارفانہ۔۔۔از ثنا صدیق

اپریل فول یا مسلم فول
از: ثنا صدیق


ایک وقت ایسا تها جب اموی شہزادہ عبدالرحمن الداخل نے سپین میں جا کر ایک شاندار حکومت کی بیناد رکهی یہ مسلم حکومت اس وقت کی بہترین حکومت کی مسلمانوں نے ہر لحاظ سے ہر شعبہ زندگی میں ترقی کی۔ مسلمانوں کی یہ شاندار حکومت کئی سالوں تک سپین میں برقرار رہی 5 سو سال پہلے جب سپین میں مسلمانوں کی حکومت کو زوال آیا تو عسائیوں نے مسلمانوں کو بے دردی سے قتل کرنا شروع کر دیا جو بچے کچهے مسلمان تهے انہوں نے قتل ہونے کے ڈر کی وجہ سے گلوں میں صلیبیں لٹکا لیں عسائیوں کے بادشاہ فرڈیلنڈ نے مسلمانوں سے کہا کہ ان کو افریقہ میں بهیج دیا جائے گا اور اس بات کی یقین دہانی بهی کروائی کہ ان کو امن و امان سے پہنچا دیا جائے گا سب مسلمان غرناطہ میں جمع ہو جائیں مسلمان الحمراء جمع ہو گئے ان کو کشتی میں بٹها کر چل دیئے جب ان کی کشتیاں سمندر کے بیچ میں پہنچی تو انہوں نے اپنے منصوبے کے تحت کشتی کو بیچ سمندر ڈبو دیا اس بات کو عسائیوں نے جشن کے طور پر فرسٹ اپریل فول منایا برصغیر پاک و ہند میں اپریل فول بہادر شاہ ظفر کے دور میں شروع ہوا جب وہ رنگوں میں قید تها انگریزوں نے اسے کچھ بهیجا اور کہا یہ تمہارا ناشتہ ہے جب اس نے پلیٹ سے کپڑا اٹهایا تو پلیٹ میں اس کے بیٹے کا کٹا سر موجود تها سوال یہ ہے کہ یہ اپریل فول تها یا مسلم فول؟ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اسلام ہر لحاظ سے ایک روشن پہلو رکهتا ہے یہ معاشی معاشرتی اخلاقی ہر لحاظ سے ایک مکمل اور جامع ہدایات رکهتا ہے لیکن اس کو ماننے والے اس خرابی کی طرف کیوں چل دیئے کسی بهی معاشرے کی تباہی کا اغاز چهوٹی چهوٹی برائیوں سے ہی ہوتا ہے اغیار کی تہذیب و تمدن اپنانے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اپنی تہذیب اور معاشرے کو ختم کر دینا لیکن ہماری تو قسمت میں تہذیب ہی وہ آئی ہے جو ایک عالمگیر تہذیب رکهتا ہے ہمارے معاشرے کی کمزوری یہ ہے کہ ہم ہر شخص کو نیچا دکهانے کے لے کچھ نہ کچھ کرتے ہے خواہ اس کام کے لے ہمیں جهوٹ ہی کیوں نہ بولنا پڑے ہم صرف جهوٹ ہی نہیں بولتے بلکہ بول کر اس میں کمال بهی رکهتے ہیں رسول اللہ صلہ علیہ و سلم کے فرمان کے مطابق تکبر یہ ہے کہ حق بات کو جهٹلانا اور دوسروں کو حقیر سمجهنا اللہ پاک نے اپنے کلام پاک کے اندر بهی جهوٹوں پر لعنت کی ہے فرمان رسول اللہ صلہ اللہ علیہ وسلم کے مطابق جب کوئی بندہ جهوٹ بولتا ہے تو فرشتے اس کی بدبو کی وجہ سے اس سے دور ہو جاتے ہے ہم جهوٹ بول کر کیوں فرشتوں کو مجبور کرتے ہے کہ وہ ہم سے دور چلے جائیں سوال یہ ہے کہ ہمیں برصغیر میں انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوئے سالوں بیت گے لیکن انگریز کے رسم و رواج ابهی بهی ہم میں موجود ہیں ہم ابهی بهی صرف نام کے ہی آزاد ہیں ذہنی طور پر ہم انگریز کے ہی غلام ہیں رسول اللہ کے مطابق جو کوئی کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کرتا ہے وہ اسی میں سے ہو جاتا ہے ہم نے کفار کی مشابہت اختیار کرنی ہے ہر معاملے میں خواہ اس کے پیچهے ہماری ہی تباہی کیوں نہ ہو ہم کیوں کفار کے پیچهے لگے ہوئے ہیں ہر بات اور حقیقت کو جانتے ہوئے بهی دوسری قوموں کی تقلید کا مقابلہ طب اور ٹیکنالوجی میں کیا جا سکتا ہے نہ کہ جهوٹ کے مقابلے میں ہم کیوں طب اور ٹیکنالوجی کو چهوڑ کر صرف ماڈرن ازم اور لبرل ازم میں ہی دوسری قوموں کا مقابلہ کرتے ہے حضرت صفوان بن سیلم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچها گیا کہ مومن کمزور ہو سکتا ہے فرمایا ہاں؛ مومن بخیل ہو سکتا ہے فرمایا ہاں؛ پهر پوچها مومن جهوٹا ہو سکتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں مومن جهوٹا نہیں ہو سکتا حضرت علامہ اقبال جو کہ پوری مشرق کے لیڈر ہیں وہ اتنا ہی مغرب سے خائف تهے انہوں نے اپنے پیغام میں نہ صرف بلکہ پوری امت مسلمہ کو اپنے شعر کے ذریعے پیغام دیا یہ امت کون ہے اس نے کس کو اپنانا ہے ان کے شعر کے مطابق
اپنی ملت پہ قیاس اقوام مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

مسلم جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

اسلام کے پیروکار کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں؟ حافظ ابتسام الحسن دین اسلام سچا ہے …

یکم اپریل، یومِ سیاہ۔۔۔ از قلم: عشاء نعیم

یکم اپریل یوم سیاہ تحریر: عشاء نعیم عادت ہی پڑ گئی ہے ہر نقل کرنی …

Send this to a friend