صفحہ اول / اسلامک بلاگز / اپریل فول، جھوٹ کی بدترین رسم۔۔۔ از قلم: وفا اسلام

اپریل فول، جھوٹ کی بدترین رسم۔۔۔ از قلم: وفا اسلام

اپریل فول۔۔۔۔۔۔جھوٹ کی بدترین رسم

از قلم 🖋  وفا اسلام

جونہی انگریزی کانیا سال شروع ہوتا ہے تو کچھ من چلوں کے دماغ میں اپریل فول کےلیے نت نئے جھوٹ سوجھنے لگتے ہیں ۔اور جیسے ہی مارچ کا مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو وہ مچلنے لگتے ہیں کہ اس بار کچھ نیا ہو جائے اور موسم بہار میں جشنِ بہاراں منانے کا سوچنے لگتے ہیں ۔۔مگر ان کی اس ذرا سی دل لگی میں ہزاروں بہاریں خزاؤں میں بدل جاتی ہیں ۔کئی گھروں سے بین اور نوحے دیکھنے والوں کے لیے عبرت چھوڑ جاتے ہیں اور آن کی آن میں ہنستے مسکراتے گھر ماتم کدہ بن کر رہ جاتے ہیں ۔۔
جی ہاں !
ہنستی مسکراتی زندگی کو خزاں میں بدلنے والا یہ دن یکم اپریل ہے جو اپریل فول کے نام سے منایا جاتا ہے ۔
یوں تو غیر مسلموں کے کسی بھی تہوار کی پیروی کرنا یا ان کا کوئی بھی انداز اپنانے سے اسلام میں سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔اور اپریل فول تو ہے ہی اپنے ہی مسلمان بھائی بہنوں کو ذلیل کرنے کا دن۔۔
آئیے قارئین کرام اس دن کو تاریخ کے پس منظر میں دیکھتے ہیں ۔۔
وہ یکم اپریل کا ہی دن تھا جب والئی اندلس خلیفہ عبدالرحمن کے ساتھیوں کو فرانس کے بادشاہ شارلیمان نے شکست سے دو چار کیا تھا ۔۔اور فرانسیسی عیسائیوں نے اندلس کے گلی کوچوں میں مسلمانوں کو چن چن کر اپنے نیزوں اور تلواروں کا نشانہ بنایا تھا اور ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا اور بعض مسلمانوں نے خود کو عیسائی ظاہر کر کے اپنی جان بچائی تھی ۔۔عیسائیوں نے بچے کھچے مسلمانوں کو بحری جہاز میں یہ کہ کر سوار کر لیا تھا کہ تمہیں مسلمان ملک میں پہنچا دیا جائے گا لیکن جب جہاز سمندر کے وسط میں پہنچا تو عیسائیوں نے مسلمانوں کو سمندر کی اتھاہ گہرائیوں میں دھکا دے دیا تھا اور اس کے بعد باقاعدہ جشن منایا گیا کہ کس طرح ہم نے اپنے دشمنوں کوبیوقوف بنایا ہے اور پھر یہ اسپین سے پھیل کر پورے یورپ کےلیے فتح کا دن بن گیا اور اسے فرسٹ اپریل فول یعنی یکم اپریل کو بنائے گئے بیوقوف کا نام دے دیا گیا اور یہ سلسلہ آج تک ختم نہیں ہوا ۔۔۔

قارئین ! اس دن کا اور پس ِ منظر دیکھیے ۔۔
اپریل لاطینی زبان کا لفظ ہے۔جس کے معنی پھولوں کا کھلنا ہے۔یا نئی کونپلوں کا پھوٹنا ہے۔۔
جب موسمِ بہار کی آمد آمد ہوتی۔تو رومی قوم اپنے شراب کے دیوتاکی عبادت کرتی۔۔اور اپنے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے ان کے سامنے بیٹھ کر جھوٹ بولتی تھی ۔۔
اور یہی جھوٹ آہستہ آہستہ اپریل فول کا اہم ترین حصہ بن گیا ۔۔ اور بت پرست قومیں اس موسمِ بہار کی آمد پر خصوصی تہوار منانے لگیں ۔۔اور ہندو ہولی منانے لگے جس میں ایک دوسرے پر ھنسی مذاق میں رنگ پھینکا جاتا ہے ۔۔جب کہ یورپین عیسائی ایسٹر کا تہوار مںانے لگے ۔۔

اور یوں یہ دن آہستہ آہستہ مسلمانوں نے بھی اس کا اصل مطلب جانے بغیر منانا شروع کر دیا ۔۔
آج کے دور میں بھی مسلمان اس دن کو منانے کے لیے انگریزوں کے ساتھ ساتھ ہیں اور مسلمان اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی تباہیوں اور بربادیوں پر خوشی منانے ہیں اور اپنے ہی مسلمان بھائی بہنوں کو فول بنا کر مصیبت اور پریشانی میں ڈال دیتے ہیں اور ایسے ایسے سنگین مذاق کرتے ہیں کہ جس سے اکثر اموات بھی واقع ہو جاتی ہیں ۔۔
ہماری نوجوان نسل حتیٰ کہ پڑھا لکھا طبقہ بھی اسے جوش و خروش کے ساتھ مناتا ہے۔۔بلکہ اسے روشن خیالی خیال کرتا ہے ۔
اس دن عوام تو عوام سکولز کالجز میں طلباء وطالبات حتیٰ کہ دینی مدارس میں اپنے اساتذہ کرام کے ساتھ یہ حماقت پر مبنی یہ رسم مناتے ہیں ۔
اپريل فول میں جھوٹ بول کر سنگین مذاق کر کے دوسروں کو بےوقوف بنایا جاتا ہے ۔۔کسی کو اپنے قریبی رشتہ دار کی وفات کی خبر دے دی جاتی ہے اور کسی کو مہلک بیماری کی اطلاع دی جاتی ہے اور حد یہ کہ بعض اخبارات میں سنسنی خیز خبر شہ سرخیوں میں لگوا دی جاتی ہے ۔۔اور بعض اوقات جسے فول بنایا جاتا ہے وہ کسی حادثے کی خبر سن کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔۔
**کسی کی جان گئی اور کسی کی ادا ٹھہری*
دوستوں کا تو مذاق ہو جاتا ہے مگر ان کی بربادی ہو جاتی ہے ۔۔
قارئین کرام۔۔
آپ ہر سال کے دو اپریل کے اخبارات دیکھیں تو بہت سے واقعات ایسے ملیں گے جو اس جھوٹ کی وجہ سے بڑے بڑے نقصانات کا باعث بنیں گے ۔۔
مگر مسلم امہ مغرب کی تقليد میں اس گندی رسم کو جوش وخروش سے مناتی ہے۔۔جھوٹ بول کر۔،گناہ کما کر لوگوں کا ہنسی مذاق اڑا کر تب ان منچلوں کا دل بہلتا ہے۔۔
یہ
رسم بالکل غیر اسلامی ہے۔اور غیر قوموں کے ساتھ مشابہت رکھتی ہے ۔۔
رسول اکرمؐ کا فرمان مبارک ہے
کہ
*جس نے جس قوم سے مشابہت اختیار کی وہ قیامت والے دن انہیں میں سے اٹھایا جائے گا*
(سنن ابی داؤد )

اس حدیثِ مبارکہ سے جان لینا چاہئے کہ جو اس رسم کو مناتا ہے۔۔ اس کا انجام قیامت والے دن یہود و نصاریٰ کے ساتھ ہو گا ۔۔
اسلام میں جھوٹ کی بالکل گنجائش نہیں ہے سوائے چند ایک امور کے ۔۔جس میں کسی کی جان بچانا یا دو لوگوں کے درمیان صلح کروانا۔۔ان چند ایک مقامات کے علاوہ اور کسی صورت جھوٹ بولنا جائز نہیں ۔
اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے۔

*بےشک جھوٹ وہ لوگ باندھتے ہیں جو اللہ کی نشانیوں پر ایمان نہیں لاتے اور وہی لوگ جھوٹے ہیں*
(النحل ;105)
رسول اللہؐ نے منافقین کی ایک نشانی یہ بھی بتائی کہ جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔۔
اور رسولؐ نے یہ بھی فرمایا
*جب بندہ جھوٹ بولتا ہےتو فرشتہ اس کےجھوٹ کی بدبو سے میل بھر دور چلا جاتا ہے ۔*
ترمذی ۔
جھوٹ ایسا برا عمل ہے کہ نبی کریم رحیم وشفیق ہونے کے باوجود جھوٹے آدمی سے اتنی نفرت کرتے تھے کہ اس کی غلطی دل پر جما لیتے تھے اس وقت تک نفرت کرتے جب تک وہ توبہ نہیں کر لیتا تھا ۔۔
(ابن حبان )

مزاح کے طور پر بھی جھوٹ بولنا بالکل جائز نہیں ہے بلکہ شریعت اسکو بھی بالکل حرام قرار دیتی ہے ۔۔
جب لوگوں نے آپؐ سے پوچھا کہ
آپ ہم سے ہنسی مذاق کرتے ہیں ۔
تو فرمایا 🌹
*کہ میں مذاق میں بھی حق بات کرتا ہوں*
(ترمذی )

اور جہاں تک یکم اپریل کی بات ہے تو اس کی بنیاد سراسر جھوٹ ،فریب اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ۔۔اس لئے مسلمانوں کو مزید احتیاط سے کام لینا چاہیے ۔۔
مگر
افسوس در افسوس ہے اس مسلم امہ پر کہ جسے بہترین امت کا اعزاز ملا اور اسے یہود و نصاریٰ کی مخالفت کی تاکید کی گئی ۔۔آج وہی امت اس مغرب کی اندھی تقليد میں لگی ہوئی ہے ۔۔اور انہیں کی پیروی کو اپنے لیے ترقی سمجھتی ہے ۔۔

بہرِ حال اس کبیرہ گناہ سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں ۔۔
جھوٹ سے ہر حال میں بچنا چاہیےجو ۔۔جرائم کی راہ سے جہنم تک لے جاتا ہے ۔۔

اللہ تعالی ہم سب کو اس گناہ کبیرہ سے بچائے۔۔
اور ہمیں حقیقی معنوں میں فلاح کے راستے پر چلائے اور ہم سے وہ اعمال کروائے جو اس کی رضا کا باعث ہیں ۔
آمین ثم آمین
یارب العالمین 🤲

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

مسلم جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

اسلام کے پیروکار کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں؟ حافظ ابتسام الحسن دین اسلام سچا ہے …

یکم اپریل، یومِ سیاہ۔۔۔ از قلم: عشاء نعیم

یکم اپریل یوم سیاہ تحریر: عشاء نعیم عادت ہی پڑ گئی ہے ہر نقل کرنی …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: اپریل فول، جھوٹ کی بدترین رسم۔۔۔ از قلم: وفا اسلام! This is the link: https://pakbloggersforum.org/%d8%a7%d9%be%d8%b1%db%8c%d9%84-%d9%81%d9%88%d9%84%d8%8c-%d8%ac%da%be%d9%88%d9%b9-%da%a9%db%8c-%d8%a8%d8%af%d8%aa%d8%b1%db%8c%d9%86-%d8%b1%d8%b3%d9%85/