صفحہ اول / بلاگرز فورم / اپنی پہچان کریں ۔۔۔ ساجدہ بٹ

اپنی پہچان کریں ۔۔۔ ساجدہ بٹ

"اپنی پہچان کریں”
تحریر: ساجدہ بٹ

میرے ذہن میں ایک سوال اُبھرا۔اس کے جواب کے بارے میں جستجو کی اور کچھ دلچسپ حقائق دریافت کیے۔ سوچا کہ اپنے خیالات قارئین سے بھی شئیر کیے جائیں ۔۔

سوال کُچھ یوں تھا کہ
اپنی پہچان کیوں اور کیسے کی جائے؟؟؟؟

اپنی ذات کی معرفت ایک اہم سوال ہے جس کا جواب پا لینے سے ہم اپنی زندگی کے مقصد کو باآسانی پا لیتے ہیں۔
سب سے پہلے تو ہمیں اپنے آپ میں دیکھنا ہے کہ ہم میں کیا کیا اچھائیاں ہیں ۔یا پھر ہم لوگ کیا بہتر پرفارم کر سکتے ہیں ۔
تو پھر ہمیں اپنے میں جو کوالٹی محسوس ہو اسی کو مزید پالش کریں ۔تا کہ آپ اپنی پہچان کر سکیں اور دوسروں کو اپنی پہچان کروا سکیں ۔

ہمیں اپنے بارے میں نیگیٹیو نہیں سوچنا چاہیے۔
مثال کے طور پر کچھ لوگ احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں کے میرا رنگ ایسا ہے ۔میری ہائیٹ عام لوگوں سے چھوٹی ہے ۔میں بولتی ہوں/ بولتا ہوں تو لفظ صحیح ادا نہیں کر سکتی۔ یا پھر اپنی بات یا اپنے خیالات دوسروں کو سمجھا نہیں سکتی /سکتا ۔میں دوسروں کی طرح ذہین نہیں ہوں ۔۔یا پھر قدرتی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی آپ physical کسی کمی میں ہیں تو کوئی بات نہیں ۔

آپ بس یہ سوچیں اللہ تعالیٰ نے کوئی بھی چیز بیکار پیدا ہی نہیں کی ۔

اس لیے اپنے اور دوسروں کے بارے میں پوزیٹو سوچیے ۔اور پوزیٹو سوچ کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی میں پوزیٹوٹی لائیں۔اور پھر ۔۔
اپنی پہچان کریں ۔

ناصرف اپنی پہچان خود کریں بلکہ دوسروں کو بھی عمل سے بتائیے کہ
You are the best ۔

حالات اور مشکلات کو کبھی اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں اور اپنی صلاحیتوں پر اعتماد کے ساتھ ساتھ عمل سے نہ رکیں۔ کامیابی ضرور آپ کا مقدر بنے گی۔
ہاں مگر ایک ضروری بات
اپنی پہچان کرواتے کرواتے دوسروں کی اہمیت کو بھی مدنظر رکھیں ۔دوسروں کو بھی وہی اہمیت دیں جو خود کو دی ہو۔
آپ ان باتوں پے عمل کریں ان شاء اللہ آپ کی لائف میں بہت پوزیٹوٹی آئے گی ۔
کسی کی زندگی کا ایک صفحہ پڑھ کے اُس کی زندگی کے بارے میں پوری کتاب خود مت بنا لیں ۔۔
میری چھوٹی سی تحریر کا خلاصہ بس یہ ہے کہ۔
اللہ تعالیٰ نے آپ میں جو خوبی رکھی ہے اُس کی پہچان خود کریں اور دوسروں کو بھی کروائیں۔

آخر میں میں اپنی تحریر کا اختتام شیخ سید نصیر الدین نصیر کے شعر پہ کرنا چاہوں گی۔ وہ کہتے ہیں۔

تم اک نگاہ دل پے ڈال کر دیکھو
اس آئینے کی ذرا دیکھ بھال کر دیکھو

نظر کی ٹھیس لگے گی تو ہو گا چکنا چور
دل آئینہ ہے ذرا تم سنبھال کر دیکھو

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

"علامہ اقبال اور فلسفہ خودی”

ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے صرف ایک معروف شاعر ہی نہیں تھے …

Send this to a friend