صفحہ اول / بلاگرز فورم / اپنے اوپر ترس کھائیے ۔۔۔۔ عرفان صادق

اپنے اوپر ترس کھائیے ۔۔۔۔ عرفان صادق

اپنے اوپر ترس کھائیے!!! 
از: عرفان صادق

 

بیٹا صبور کہاں پہنچے ہو؟؟؟
ونہار پہنچ چکا ابو جان بس آدھے گھنٹے کا سفر باقی ہے میں پہنچا۔
چلو بیٹا سیدھے گھر ہی آنا۔۔
جی ابو۔۔۔ تنویر بھی میرے ساتھ ہے میں پہنچا۔والد حاجی محمد خان صاحب مطمئن ہو گئے کہ بیٹا عبد الصبور بس آدھے گھنٹے میں اپنے آنگن میں پہنچ کر ہماری خوشیاں دوبالا کر دے گا۔ ماں کی بے چینی بھی کم ہوئی کہ جلد ہی اس کے جگر کا ٹکڑا گھر پہنچ جائے گا۔ وہ دل ہی دل میں خوش تھی کہ اکلوتا بیٹا ایک ہفتے بعد گھر آ رہا ہے میں اس کا ماتھا چوم کر اپنی آغوش میں لے لوں گی۔ طرح طرح کے کھانے عبد الصبور کیلئے تیار ہو چکے تھے کیونکہ عبد الصبور چکوال میں ڈسپنسر کا کورس کر رہا تھا اور ہمیشہ کی طرح ہفتے بعد وہ اپنے دوست تنویر کے ساتھ گھر آ رہا تھا۔ادھر عبد الصبور اور تنویر اپنی روٹین کے مطابق موٹرسائیکل پر سوار ونہار کا علاقہ عبور کر کے میال پہنچ چکے تھے۔ ان کے دل میں بھی گھر جانے کی خوشی ہچکولے کھا رہی تھی۔ اور وہ اپنے اتوار کی مصروفیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنے پروگرام بنا رہے تھے لیکن اللہ مالک الملک کچھ اور فیصلہ کیے بیٹھے تھے۔ اور قدرت کا فیصلہ ہماری تمام تر تدبیروں اور پروگرامز پر غالب آ کے رہتا ہے۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ میال پہنچے ہی تھے کہ عبد الصبور کی بائیک سے اچانک ایک گاڑی آن ٹکرائی۔ قدرت کے فیصلے اٹل اور حتمی ہوتے ہیں اور قدرت نے اسی جگہ عبد الصبور اور تنویر کی روح قبض کرنا تھی لہذا دونوں دوستوں کے سر پہ چوٹیں لگی اور وہیں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اگرچہ انہیں بنیادی طبی امداد کیلئے رورل ہیلتھ سینٹر کوٹ قاضی پہنچا دیا گیا لیکن وہ سب عبث کاوشیں تھیں کیونکہ عبد الصبور اور تنویر دونوں دوست اپنی جان مصورِ آفرینش کے سپرد کر چکے تھے۔۔۔یہ سب کچھ چند لمحوں کی دیر میں ہوا۔ایک ماں اپنے اکلوتے لخت جگر کو کھو چکی تھی۔ایک باپ اپنے بڑھاپے کے اکلوتے سہارے سے بے سہارا ہو چکا تھا۔ آج اس واقعہ کو لگ بھگ چھے ماہ ہو چکے ہیں اور کہنے کو تو یہ چند لمحے تھے لیکن اس کے پیچھے کئی ایک وجوہات ہیں جو دیر پایہ مگر حل طلب ہیں۔ ان میں سے دو سب سے اہم ہیں۔نمبر ایک یہ کہ عرصہ دراز سے تلہ گنگ میانوالی روڈ پر حادثات پیش آرہے اور ان حادثات کا شکار راولپنڈی سے کراچی تک تمام لوگ بالعموم اور لاوہ و تلہ گنگ کے لوگ بالخصوص ہوتے آرہے ہیں اس میں کچھ حکومتوں کی نااہلی اور سیاسی پارٹیوں کی آپس میں رنجشیں ہیں کہ اب تک تلہ گنگ میانوالی روڈ ڈبل نہیں بن سکا۔ ق لیگ نے این اے 65 اور پی پی 23 ، 24 پر اس دفعہ کا الیکشن بھی بہت حد تک اسی وعدے پر جیتا کہ ق لیگ حکومت میں آتے ہی میانوالی سے بلکسر تک روڈ کو یک طرفہ بنائے گی اور پھر حکومتِ وقت نے روڈ کی تعمیر کا اعلان بھی کیا اور باقاعدہ نوٹیفکیسن جاری کیا کہ سب سے پہلے جو ترقیاتی کام ہوں گے ان میانوالی سے بلکسر روڈ شامل ہے لیکن اب سال مکمل ہونے کو ہے مگر تاحال اس روڈ کو یکطرفہ بنانے پہ عملی طور پر کوئی پیش رفت نا ہو سکی۔ جبکہ یہاں کی عوام ماضی کی طرح اب بھی یہاں سے لاشیں اٹھا رہی ہے۔ لہذا تلہ گنگ و لاوہ کے باسیوں کا مطالبہ ہے کہ اس روڈ کو فی الفور یکطرفہ بنا کر عوامی قتلِ عام کا یہ دروازہ بند کیا جائے۔ وگرنہ ہم یہ کہنے میں ہرگز گریز نہیں کریں گے کہ اس روڈ پر جان بحق ہونے والوں کے قاتل حکومتی نمائندے اور حکومت ہیں جو اپنی عیاشیوں اور شہ خرچیوں کےلئے تو رقم مختص کر لیتے ہیں لیکن جہاں غریب عوام اپنی جانیں کھو رہی ہو وہاں کسی کے بال پر جوں تک نہیں رینگتی۔۔اور دوسری وجہ ہم سب کی طرف سے صادر ہونے والی ایک اجتماعی کوتاہی ہے۔ ذرا غور کریں کہ مذکورہ ایکسیڈنٹ میں دونوں نواجونوں کے سر پر چوٹیں آئیں جبکہ باقی دھڑ سلامت تھے۔ تو اگر انہیں نوجوانوں نے اگر ہیلمٹ پہنے ہوتے تو شاید ان کی جان بچ جاتی۔ موت برحق ہے اور اپنے وقت پر آنی ہی آنی ہے اس سے انکار نہیں لیکن اسباب اختیار کرنے کا حکم بھی تو اللہ اور اس کے رسول نے ہی دیا ہے۔ جیسا کہ ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے کہ ایک صحابی نبی کریم ص کی مجلس میں آیا تو آپ نے پوچھا کہ اپنا اونٹ کہاں ہے؟ تو کہنے لگے کہ وہ میں نے باہر چھوڑ دیا ہے تو آپ ص نے دریافت کیا کہ اس کو باندھا نہیں تو کہا کہ نہیں میں نے اللہ پہ توکل کیا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "پہلے اس کے گھٹنے باندھ اور پھر اللہ پہ توکل کر” یعنی توکل بھی دنیاوی اسباب کو حتی الوسع اختیار کرنے کے بعد کا عمل ہے۔ مثلا ہم جو کہیں کہ ہم گھر بیٹھتے ہیں اللہ پہ توکل کر کے اور ہمارے حصہ میں جو ہو گا وہ رزق ہمیں مل جائے گا تو یہ تو ممکن ہی نہیں کہ ہمارے گھر میں کوئی رزق ڈال جائے
لہذا دنیاوی اسباب کو اختیار کرنے کے بعد اللہ پہ توکل کرنا مستحسن ہے۔ بہرحال ہم بات کر رہے تھے ہیلمٹ کی کہ یہ ایک موٹرسائیکل سوار کیلئے ناگزیر ہے۔ہیلمٹ پر سخت پابندی کی جانی چاہئے۔ حال ہی میں حکومت کی جانب سے ایک اچھا اقدام کیا گیا تھا کہ بغیر ہیلمٹ کے موٹرسائیکل سواروں کو پٹرول نہیں دیا جاتا تھا۔ لیکن ایک تو ہم نے اس کے چور راستے بھی بہت نکال لئے اور دوسرا پھر یہ پابندی بھی چند دن ہی رہی۔ حکومت کو چاہئے کہ موٹر سائیکل بنانے والی کمپنوں کو مجبور کرے کہ وہ ہر نئے موٹرسائیکل کے ساتھ ہیلمٹ ضرور دیں اور پھر موٹرسائیکل میں ہیلمٹ رکھنے کی مناسب جگہ بھی بنا دی جائے۔
دوسرا یہ کہ ہیلمٹ نہ پہننے والے سے کم از کم دو ہزار روپے جرمانہ وصول کیا جائے جس میں ایک ہزار بحق سرکار جمع کیا جائے اور ایک ہزار کا نیا مگر اچھا ہیلمٹ خرید کر اس شخص کو دے دیا جائے۔
اور پھر ہم سب کو بھی من حیث القوم ہی بات سمجھنا ہو گی کہ ہیلمٹ ہمارے تحفظ کا ہی ضامن ہے۔ یہ تب کی بات کہ جب راولپنڈی میں میٹرو بن رہی تھی۔ مری روڈ شدید ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا میں بائیک پہ جا رہا تھا کہ اچانک میرا بائیک پھسلا اور میں ایسے گرا کہ زمین پر میرے جسم کا جو حصہ سب سے پہلے لگا وہ میرا سر تھا لیکن چونکہ میں نے ہیلمٹ پہن رکھا تھا لہذا مکمل طور پر محفوظ رہا اور آگے چل دیا۔
آپ بھی یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ آپ کے ہیئر سٹائل سے کہیں زیادہ ضروری اور اہم آپ کی جان ہے۔ جان ہے تو جہان ہے۔ لہذا اپنے آپ سے دشمنی مت کیجیے اپنے اوپر ترس کھائیے اور خدارا ہیلمٹ کا استعمال ضرور کیجیے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

بائیک کی سواری، خواتین اور حجاب

بائیک  کی سواری، خواتین اور حجاب از: در صدف ایمان آدھے بال کلپ کر کے …

Send this to a friend