صفحہ اول / انیس الرحمٰن باغی / ایک سوال۔۔۔۔انیس الرحمن باغی

ایک سوال۔۔۔۔انیس الرحمن باغی

ایک سوال

از: انیس الرحمن باغی

کیا ہم ان جکڑ بندیوں میں جکڑے ہوئے تو نہیں ہیں؟؟؟
کیا ہم اس سوشل میڈیا میں قید ہو کر اپنی سوشل لائف کو تباہ تو نہیں کر رہے؟؟؟
اس سوشل میڈیا سے باہر بھی آپکی ایک سوشل لائف ہے۔۔۔ جہاں آپکے اپنے آپکی توجہ کے منتظر ہیں۔۔۔
سوشل ہوں مگر یکطرفہ نہیں ہمیں ہمہ جہت سوشل ہونا پڑیگا۔۔۔
سوشل میڈیا سے ہٹ کر بھی ہمیں عوامی ہونا پڑیگا۔۔۔
ورنہ۔۔۔۔۔۔!!!!
ایک دن آئیگا کہ آپ ہونگے۔۔۔
آپکا موبائل ہوگا۔۔۔
آپکا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہوگا۔۔۔
آپکی لاکھوں میں فین فالوئنگ ہوگی۔۔۔
آپ اس میڈیا میں۔۔۔۔
بہت معروف ہو چکے ہونگے۔۔۔
آپکا بڑا نام ہوگا۔۔۔
آپ کا طوطی بولتا ہوگا۔۔۔
آپکا سکّہ چلتا ہوگا۔۔۔
آپکے ہر طرف چرچے ہونگے۔۔۔
لیکن۔۔۔۔!
جب آپ کو آپ کے اپنوں کی۔۔۔
حقیقی دنیا میں ضرورت پڑے گی۔۔۔۔
تو آپ اس دنیائے سوشل میڈیا۔۔۔
سے نظر اٹھا کر۔۔۔۔
حقیقی سوشل دنیا کی طرف۔۔۔
دیکھیں گے۔۔۔
چاروں طرف نظر دوڑائیں گے۔۔۔
تو۔۔۔ تو۔۔۔
آپ کو۔۔۔۔۔!!!!
اپنے ارد گرد اک ہجوم۔۔۔۔
نظر نہیں آئیگا۔۔۔
بلکہ آپ تنِ تنہا ہونگے۔۔۔۔
آپ کے اپنے۔۔۔
آپ سے بہت دور ہو چکے ہونگے۔۔۔
پھر آپ۔۔۔۔!!!
بہت تلاش کرینگے۔۔۔۔
اُن اپنوں کو۔۔۔
جو آپ کے۔۔۔
غم کی گھڑی کے غمخوار تھے۔۔۔
دکھ سکھ کے ساجھی تھے۔۔۔
مشکل وقت کے ہمراہی تھے۔۔۔
خوشیوں کو بانٹنے والے تھے۔۔۔
ہمدرد و غمگسار تھے۔۔۔
لیکن تب وہ آپ کو اس گلیمر کی چکا چوند میں۔۔۔
تنِ تنہا چھوڑ چکے ہونگے۔۔۔
تب آپ پچھتائیں گے۔۔۔
روئیں گے۔۔۔
بلائیں گے۔۔۔
پکاریں گے۔۔۔
صدائیں دیں گے۔۔۔
اپنوں کو لیکن تب وقت گزر چکا ہوگا۔۔۔
تب آپ کو اس زندگی کی جنگ تنِ تنہا لڑنی پڑیگی۔۔۔
اکیلے حالات کے منجدھار کا مقابلہ کرنا پڑیگا۔۔۔
اپنے غم کو تنہائیوں سے ہی غلط کرنا پڑیگا۔۔۔
سوچیے۔۔۔
اور۔۔۔
پھر سے سوچیے۔۔۔
زرا نہیں پورا سوچیے۔۔۔
کہ اس وقت کے آنے سے قبل۔۔۔
ہم ان جکڑ بندیوں سے خود کو آزاد کرا پائیں گے۔۔۔
یا پھر۔۔۔۔۔!!!
یہ سب کچھ ہم پر بیتے گا۔۔۔
تو۔۔۔
ہی ہم حقیقت جان پائیں گے۔۔۔

#از_انیس
#باغیات

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا، ذمہ دار کون؟

پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح میدان سیاست بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں …

سوشل میڈیا کا محاذ پاکستان کے نام ۔۔۔  تحریر : عاصم مجید، لاہور

ہائبرڈ وار میں پاکستان نے انڈیا کو زبردست طریقے سے پچھاڑ دیا ہے۔ اس کا …

Send this to a friend