صفحہ اول / رائٹرز / بائیک کی سواری، خواتین اور حجاب

بائیک کی سواری، خواتین اور حجاب

بائیک  کی سواری، خواتین اور حجاب

از: در صدف ایمان

آدھے بال کلپ کر کے سر پر اچھی طرح بڑا سے اسکارف کو چھوٹا کر کے اسٹائلش انداز میں باندھا، ابھی کل ہی تو حجاب ٹیوٹر سے سیکھا تھا اتنی محنت کے بعد حجاب بہت محنت سے چھوٹا سا باندھنے کے بعد شانوں پر دوپٹہ پھیلایا…. اب یہ الگ بات تھی کہ اسکارف کا اسٹائل گردن سے نیچے نہیں تھا… اور دوپٹہ شرٹ کے ڈیزائن سے……… خیر مکمل تیاری کے بعد شوہر کے ساتھ جانے کے لیے نکلی… بائک کی تیز ہوا کے ساتھ، اسکارف مزید گردن میں چلا گیا،، زلفیں تو ویسے ہی ہوا کے سپرد تھیں اور دوپٹہ ظاہر ہے بائیک میں آجائے گا سمیٹنا تو پڑے گا نا؟؟؟مرنا کوئی ہے
یہی نہیں اور بھی خواتین جن میں شادی شدہ، غیر شادی شدہ سب ہی تھیں جو بائکس پر تھی لیکن… منظر دعوتِ گناہ، دعوتِ نظارہ کا ہی منظر تھا….
اس کے علاوہ وہ خواتین جو عبایے کے ساتھ ہوتی ہیں وہ بھی کم از کم بے پردگی کا سماں اس صور ت میں تو کر رہی ہوتی ہیں کہ جب بیٹھتی ہیں تو عبایہ پیچھے سے کھینچ جاتا اور پھر ٹائر میں نہ آجائے اس خوف سے سمیٹا بھی جاتا ہے نتیجتاً بے پردگی…..(غلطی آپ کی خریدتے وقت فٹنگ کا نہیں خریدنا تھا نہ)
کچھ مناظر ہے کہ یا تو لڑکی خود گھر سے بے پردہ ہوکر نکلتی ہے یاایسا پردہ کر کے.کہ *صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں کی عملی تفسیر* یا پھر ایسی ڈریسنگ کر کے مرد بھی لاحول پڑھتے ہیں
ایسا بھی نہیں کہ تمام خواتین یہ جان بوجھ کر کر رہی ہوتی ہیں اکثر ایسا بھی ہوتا ہے وہ گھر سے مکمل پردے کے ساتھ ہی نکلتی ہیں اور سواری پر بھی اپنے پردے کا خیال رکھتی ہیں لیکن بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ انھیں بھی نہیں معلوم ہوتا ان کی بے احتیاطی کا اور انجانے میں ہوتی ہے پردگی کا میرا مقصد تنقید نہیں اصلاح ہے اس لیے اگر چند باتوں کاخیال رکھ لیں تو ان شاء حادثے سے محفوظ رہیں گی اور قصداً و انجانے گناہ سے بھی….
* عبایہ کم از کم اتنا ڈھیلا ضرور ہو کہ اسے جس مقصد کے لیے لیا گیا وہ ادا ہوجائے
* بیٹھتے وقت احتیاط یہ کریں کہ اوپر عبایہ ڈھیلا چھوڑیں تاکہ بیٹھنے کے بعد کھینچے نہیں اور بے پردگی نہ ہو….
*اپنی لمبی، پست، درمیانی زلفیں یا تو فولڈ کر کے کلپ کرلیں یا عبایہ کے اندر ہی رہنے دیں یہ زیادہ فائدے مند ہے گرد و غبار کے ساتھ ساتھ نا محارم کی نظروں سے بھی محفوظ رہیں گی
* حجاب آگے پیچھے سے پن اپ کرلیں کیونکہ عموما بائک پر موجود خواتین کے اسکارف اوپر کی طرف اڑ رہے ہوتے ہیں. اور بچے یا سامان شاپرز، ہینڈ بیگز کے ساتھ سنبھالنا بہت دقت زدہ ہوجاتا ہے
* مرد حضرات بائکس کی رفتار پل وغیرہ پر آہستہ کرلیا کریں کیونکہ وہاں سڑک کی بانسبت زیادہ ہوا چلتی ہے اور اکثریت کے ہاتھوں میں سامان یا بچے بھی ہوتے ہیں تو ایسے میں عبایہ، اسکارف، دوپٹے سنبھالنا مشکل ہوجاتا ہے کافی……
*ایک اور احتیاط یہ لازمی کرلیں کے سوکس استعمال کریں کیونکہ عموماً دیکھا گیا آپ کے اسٹائلش ٹراوزر ،ٹخنوں سے اوپر تک ہوجاتے ہیں، اگر بلاقصد ہے تو احتیاط کا تقاضا پھر موزے استعمال کرنا ہی ہے

عبایہ لازمی سمیٹ کر بیٹھیں نیچے پیروں کی طرف سے خاص طور پر ورنہ بائکس پر آتے جاتے مرد آپ کو بتانے کے ساتھ ساتھ تاکید کرتے گذریں گے *برقع سنبھال لیں۔
یہ چند باتیں اگر ہم اپنالیں تو فائدہ ہی فائدہ ہے…. جو خواتین عبایہ، حجاب کا اہتمام نہیں کرتیں ان سے گذارش کپڑے ٹھیک پہنا کریں. ایسا نہ ہو کہ خواتین بھی شرمندہ ہوجائیں یہ ہدایت نامہ لکھا بھی ایک بہن کے کہنے پر گیا ہے جو کل کافی دکھی اور شرمندہ تھیں…..
اللہ امت مسلمہ کی تمام بیٹیوں کو حیاء فاطمہ زھرہ کا مظھر بنادے آمین ثم آمین یا رب العالمین۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

اپنے اوپر ترس کھائیے ۔۔۔۔ عرفان صادق

اپنے اوپر ترس کھائیے!!!  از: عرفان صادق   بیٹا صبور کہاں پہنچے ہو؟؟؟ ونہار پہنچ …

Send this to a friend