صفحہ اول / Uncategorized / بوکھلائی ہوئی قوم بمقابلہ پر اعتماد قوم

بوکھلائی ہوئی قوم بمقابلہ پر اعتماد قوم

بوکھلائی قوم بمقابلہ پراعتماد قوم
حافظ ابتسام الحسن

موجودہ صورتحال جس میں انڈیا اور پاکستان کے حالات میں کافی تناؤ ہے ۔انڈین عوام ،گورنمنٹ اور فوج کافی غصے میں اور بے حد سنجیدہ نظر آرہی ہے ۔پاکستان کو تھوک کے حساب سے جنگ اور نام و نشان مٹانے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں ۔خصوصا انڈین میڈیا تو تقریبا بوکھلایا ہوا ہے،صبح اٹھنے سے لے کر رات سونے تک رٹو طوطے کی طرح ” پاکستان، پاکستان ” کا راگ گلے کے پورے زور سے الاپ رہا ہے ۔ساتھ ہی دنیا کو یہ باور کرانے میں لگا ہے کہ بلا تحقیق و بلا دلیل ،بلاعقل و شعور اور بلا تمیز و لحاظ کے کیسے بولتے ہیں، یہ ہم سے سیکھو ۔یا شاید اپنے اینکرز اور پروگرامز میں بلائے ہوئے مہمانوں کو یہ کہہ رکھا ہے، جتنا گلا پھاڑ پھاڑ اور منہ سے جاگ نکال نکال کر بولو گے، مودی سرکار اتنا خوش ہوگی اور اتنا موٹا مال ملے گا ۔چنانچہ شاہ سے وفاداری نبھانے کے چکر میں یوں لگ رہا ہے کہ انڈین میڈیا میں چینلز، چینلز نہیں بلکہ کوئی جلسہ گاہ ہیں ، جہاں اینکرز اور مہمان اپنی رائے دینے نہیں بلکہ دھواں دھار تقریروں سے جلسہ کو گرمانے آئے ہیں ۔اور آج وہ مجمعے میں آگ لگا کر ہی جائیں گے ۔ اور ان مجمعوں میں ہذیان بکنے کی انتہا کی جا چکی ہے ۔وزیراعظم سے لے کر چپڑاسی تک ہر ایک جنگ کے خبط میں مبتلا ہے ۔بنا یہ جانے کہ جنگ ہوتی کیا ہے، جنگ کرنی کیوں ہے اور طرفین میں اس کے نقصانات کتنے خطرناک اور اثر دار ہوتے ہیں ۔کیا ہماری فوج اس قابل بھی قابل ہے، مقابلے میں جو قوم ہے اس کی بہادری کتنی ہے؟ کچھ غور وفکر اور شعور نہیں ۔بس جنگ، جنگ اور جنگ!

دوسری جانب پاکستانی قوم ہمیشہ کی طرح زندہ دل ثابت ہوئی ہے ۔انڈیا کے میڈیا ،حکومت ،فوج اور عوام کو کسی خاطر میں نہیں لارہی۔موجی روحیں اپنے حال اور چال میں مست، مگر پر اعتماد اور اپنے اللہ اور اپنی افواج پر کامل یقین ۔سوشل میڈیا پر جہاں انڈیا کی طرف سے طوفان بدتمیزی اور بد خلقی کی انتہا ہے تو پاکستانیوں کی جانب سے مذاق اور ان لمحات سے پر لطف ہونے کی بھی انتہا ہے ۔جب انڈین میڈیا پر کوئی پاکستان کو سبق سکھانے کی بات کرتا ہے تو یہ اس کی بات کا ایسا بھتنگڑ بناتے ہیں کہ بات کرنے والا آئینے میں جا کر اپنا چہرہ دیکھتا ہوگا اور سوچتا ہوگا کہ بات تو میں نے سنجیدہ انداز میں ہی کی تھی، مگر پاکستانی قوم نے اس سنجیدگی کو شاید کچھ اور سمجھ لیا ہے ۔اگر کوئی جنگ کی بات کرتا ہے تو یہاں اہلا و سہلا و مرحبا کی صدائیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں، لوگ ایٹم کو ٹاکی مارنے کی باتیں شروع کردیتے ہیں، گویا ایٹم نہ ہوا کوئی حلوا ہوا جسے چلانا نہیں کھانا ہے، اگر وہاں سے کوئی کسی چیز کا بائیکاٹ کرتا ہے تو پاکستانی اس کا متبادل سامنے رکھ کر کہتے ہیں، چلو نسو، ہم یہ استعمال کر لیں گے ۔جیسے ابھی ٹماٹروں کے بائیکاٹ کی خبر انڈین میڈیا نے نشر کی کہ انڈیا سے پاکستان ٹماٹر نہیں بھیجے جائیں گے، دوچار کسانوں کے بیان بھی دکھائے گئے کہ ہم پاکستان میں ٹماٹر نہیں بھیجیں گے، یہ بیان سننا اور دیکھنا تھا کہ پاکستانیوں کے ہاتھ میں گویا کوئی لطیفوں کی کتاب یا ابن انشاء کی کوئی تحریر یا محترم یوسفی صاحب کا کوئی چٹکلہ یا عطاء الحق قاسمی صاحب کا کوئی کالم یا گل نوخیز اختر کی نوخیزی ہاتھ لگ گئی ہے یا عمر شریف کی کامیڈی یا امان اللہ کی جگتیں کے یاعزیزی کی مزاحیی اداکاری دیکھ لی ہے جسے پڑھ کر، سن کر اور دیکھ کر بس ہنسنا ہی ہنسنا ہے اور ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہوجانا ہے، اور اتنا ہنسنا ہے کہ پسلیوں میں درد شروع کروا لینی ہے ۔پھر اس پہ جملے بھی کستے ہیں، مثلا : ایک صاحب نے ٹماٹروں کے بائیکاٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے "سبزیکل سٹرائک کا نام دیا ۔ایک حضرت نے اس کو "لال جنگ ” کا خطاب دے ڈالا۔ کچھ حضرات کیچپ کے اب نایاب ہونے پر متفکر تھے اور سوچ رہے تھے کہ آلو کی چپس اور برگر کی تمام اقسام کا سواد بنا کیچپ کے کیسا ہوگا، کچھ سوچ رہے تھے کہ اب سجی، چرغہ اور پکوڑے بنا کیچپ کے کیسے انجوائے کیے جائیں گے ۔کچھ کو مستقبل میں قورمے وغیرہ میں ٹماٹروں کی کمی ستا رہی تھی کہ ان کی بیگمات کے ہاتھ کے قورمے کے گاڑھے مصالحے میں سارا کردار ہی ٹماٹروں کا ہوتا ہے ۔خیر، ان کو تسلی تب ہوئی جب ان کے ایک ہم فکر ان کو یہ آس دلائی کہ ٹماٹر نہ ہوں تو اس کی جگہ قورمہ میں دہی ڈالی جا سکتی ہے ۔اور پکوڑیے ،چرغہ ،چپس بھی دہی کی چٹنی کے ساتھ کھائے جاسکتے ہیں ۔تب ان سب کو کہیں جاکر راحت ملی ۔

پاکستانی قوم کی حس مذاح اس وقت انتہاؤں کو پہنچ جاتی ہے، جب لفظ ” سرجیکل سٹرائیک ” آتا ہے۔ کیونکہ پاکستانی قوم جانتی ہے کہ انڈیا نے ساری سرجیکل سٹرائیکس صرف فلموں میں کر رکھی ہے ،اور مسقبل میں بھی وہیں کرکے اپنا جوش تھنڈا کرے گا ۔صورتحال کو ملاحظہ فرمایا جائے تو ان کے دیس کے جتنے بہادر، نڈر، مافوق الفطرت طاقتوں کے مالک ہیں اور انڈیا کے اصلی ہیروز ہیں سبھی تو بالی ووڈ میں ہیں ۔لہذا انڈیا کو لگی ہر چوٹ کے بعد ایک بڑے بجٹ کی بڑے بینر تلے ایک بڑے سٹار کی فلم ریلیز کی جاتی ہے ۔جسے دیکھ کر ہر انڈین یہ سوچتا ہے کہ اس نے بھی اس نقلی ہیرو کی طرح اکیلے نے ہی راتوں رات پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا کر واپس آکر اپنی حکومت سے میڈل لے لینا ہے۔لیکن بقول پاکستانی فیس بکی دانشوران! کہ ساری سرجیکل سٹرائیک انڈیا میں گھروں میں لیٹرینیں نہ ہونے کے سبب ٹرین کی لائنوں پر ہی کی جاتی ہے ۔اس دفعہ تو تنگ آکر نوجوانان پاکستان نے انڈین حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ سرجیکل سٹرائیک کے لیے ان ہی ویر جوانوں، میجر، جرنل، کرنل کو بھیجیں جنہوں نے فلموں میں پورا پاکستان فتح کر مارا ہو ۔انہیں بھی تو اندازہ ہو کہ اصلی میدان میں کیا بھاؤ بکتی ہے اور جب جان کے لالے پڑتے تو حالت کیا ہوتی ہے ۔کچھ ہمارے جوان موازنے میں بڑے ماہر ہیں اور انڈین آرمی چیف بپن راوت کی شکل و صورت کو بار بار بنظر عمیق دیکھتے ہیں کہ موصوف کے چہرے ہر کوئی بہادری کی جھلک نظر آتی ہو یا ان کی باڈی لینگوئج سے رعب ودبدہ کے آثار نظر آتے ہوں تو ہم پاکستانی ڈرنے کی کوشش کریں، بسیار کوشش کے باوجود جب بہادری کی کوئی نشانی نہیں ملتی اور بپن راوت صاحب اپنے گمان و خیال کے مطابق جب بہت بہادری اور دھمکی آمیز بیان جھاڑتے ہیں تو ان کی ہنسی بے ساختہ نکل آتی ہے۔ ادھر ہمارے جوانوں کے جوان جنرل قمر باجوہ چل کر آرہے ہوتے ہیں تو دور سے ہی لگتا ہے کہ افواج پاکستان کا سپہ سالار آرہا ہے ۔

پاکستانی قوم کے اتنے مست، خوش، پرجوش اور پراعتماد ہونے کی میرے نزدیک تین وجوہات ہیں ۔جو کہ نہایت معقول ہیں ۔پہلی وجہ ۔پاکستانی قوم کے ساتھ اللہ کی مدد اور جذبہ شہادت ہونا۔کیونکہ بنا اللہ رب العالمین کی مدد کے اتنے تناؤ کے بعد اس قوم کا اتنا خوش رہنا نا ممکن ہے، اس قوم کو ادراک ہے کہ اگر جنگ ہوگئی تو آسمان سے قطار در قطار فرشتے اتریں گے اور مخالف قوم کے بت انہیں ہمیشہ کی طرح دھوکہ دے جائیں گے ۔دوسری وجہ، افواج پاکستان پر مکمل اعتماد اور کامل یقین، اس بات میں تو کوئی دو رائے نہیں پاکستانی فوج بہادری، دلیری اور نظم و ضبط کے لحاظ سے دنیا کی بہترین فوج ہے ۔اور ان کے ساتھ اللہ احکم الحاکمین کی نصرت و تائید بھی بھرپور ہے ۔تو خوش اور پر امید رہنے کا اہم سبب ہے کہ ہمارے محافظ تیار اور چوکنے ہیں ۔سپہ سالار سے لے کر ادنی سپاہی تک سب مستعد ہیں ۔ تیسری وجہ موجودہ حکومت کا پاکستانی عوام کے ساتھ مخلص اور نڈر ہونا ہے ۔نڈر اس وجہ سے کہ پانچ دن تک انڈیا جنگ جنگ چلاتا رہا ہے، لیکن حاکم پاکستان اپنے مہمان کی خدمت میں مصروف تھا اور ساتھ ہی پر اعتماد بھی ۔اسی لیے پانچ دن تک تو ہمارا وزیراعظم کچھ بولا نہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے جو گرجتے ہیں وہ برستے نہیں، اس لیے اعصاب پہ ایسوں کو سوار کیوں کرنا ۔پانچ دن کے بعد بڑی نپی تلی اور ہوش مندی والی گفتگو کی ۔جس میں جناب عمران خان نے انڈیا کو مذاکرات کی دعوت دی اور دعوے کے ثبوت طلب کیے، یقین دہانی کروائی کہ الزام سے بہتر ثبوت فراہم کیجیے، قوانین کی روشنی میں کاروائی ہم خود کریں گے جس پر آپ بھی مطمئن ہوں گے ۔پھر انڈیا کو سمجھایا بھی کی انڈیا ان عوامل پر غور کرے جن عوامل کی بنیاد پر کشمیر میں بغاوت کی چنگاری شعلوں میں بدل گئی ہے ۔جنگ کی دھمکی کے جواب میں کہا جنگیں شروع کرنا بہت آسان ہیں لیکن ختم کرنا بہت مشکل، اس کے باوجود تمہیں جنگ کا کچھ زیادہ ہی بخار چڑھ گیا ہے تو پاکستان تیار ہے اور منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور اہلیت بھی رکھتا ہے ۔

مذکورہ تین وجوہات ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی قوم پر اعتماد اور خوش ہے اور کسی بھی طرح کے دباؤ کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنے معمولات زندگی میں مصروف ہے ۔جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور نہ ہم پاکستانیوں کو اس کی خواہش ہے، ہم جیو اور جینے دو کے اصول پر پوری طرح سے کار بند ہیں ۔لیکن ہمارے دشمن کو اگر کسی طرح کا نشہ ہے تو وہ بھی ہم بھرپور اتارنے کی صلاحیت رکھتے ہیں

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

سنیپ چیٹ اسلامی تعلیمات کے آئینے میں

چند دن قبل کچھ پرانے دوست اکھٹے ہوئے۔ کچھ انجینیئرنگ کے سٹوڈنٹس اور کچھ ایم …

محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ایک عالمگیر شخصیت ۔۔۔ رحمت اللہ شیخ

امام الانبیاء حضرت محمدﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر اور رسول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے …

Send this to a friend