صفحہ اول / اردو ادب / بچوں کی تربیت (حصہ اول)

بچوں کی تربیت (حصہ اول)

🍃➿🍃➿🍃➿🍃➿🍃➿🍃
بچوں کی تربیت کہانی نمبر…. 1

✍🏻 ام عثمان مظہر

ان ماؤں کے نام جو غلط تربیت فراہم کر کے خود اپنے ہی ہاتھوں اپنے بچے کو متکبر اور خود پسند بنا رہی ہیں.

جی یہ میرا وکی ایسا بچہ ہے کہ دوسرا ایسا کوئی بچہ آپ کو ڈھونڈنے سے نہیں ملے گا ۔۔۔ پورے اسکول میں مشہور ہے وکی ۔۔۔

بات کرتا ہے تو ایسے different اور خوبصورت طریقے سے کہ دیکھنے والا مبہوت رہ جائے ۔۔۔ اس کا ایک ایک انداز نرالا ہے ۔۔۔

یہ بہت خاص ہے ۔۔۔۔ اس کی ٹیچرز کہتی ہیں کہ یہ بہت different بچہ ہے ۔۔۔

یہ نورین تھی ۔۔۔ ثانیہ کی چچا زاد

بس وہ ۔۔۔ جب بھی ملتی سوائے وکی کی تعریفوں کے شائد اس کے پاس بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔۔۔

آج ثانیہ اس کے گھر پر تھی ۔۔۔ وہ ابھی وکی کی بے جا تعریفوں کو ہضم کر ہی رہی تھی کہ وکی کی دادو بولیں ۔۔۔

ہم نے تو وکی کو اس اسکول میں داخل کروایا ہے جہاں ماہانہ فیس بیس ہزار روپے ہے ۔۔۔ وہاں صرف انگلش ہی بولی جاتی ہے ۔۔۔ ہمارے ایک رشتے دار ہمارے گھر آئے تو اپنے بچے کے بارے میں کہنے لگے کہ وہ اسکول میں ساری سرگرمیوں میں حصہ لیتا ہے ۔۔۔ اور بہت ٹیلنٹڈ بچہ ہے ۔۔۔

جب ہم نے بتایا کہ ہمارا وکی اپنی کلاس کا مانیٹر ہے اور تقریری مقابلے میں فرسٹ آیا ہے تو ان کی تو جیسے بولتی ہی بند ہو گئی ۔۔۔

دس سالہ وکی قریب ہی بیٹھا زکریا اور حارث کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔۔۔ اس کے چہرے پر عجیب سی شانِ بےنیازی تھی ۔۔۔

اگرچہ ثانیہ کے بچے بھی غیر نصابی سرگرمیوں میں کسی سے پیچھے نہ تھے ۔۔۔ مگر اس نے بوجوہ اس وقت ان کا ذکر نہ چھیڑا ۔۔۔

ہاں واقعی اس وقت جب وہ ساس بہو پورے زور و شور سے بول رہیں تھی تو اپنے بچوں کا ذکر چھیڑنے کا واضح مطلب یہ تھا کہ ثانیہ مقابلے بازی میں بول رہی ہے ۔۔۔ اور مقابلے بازی سے اسے سخت نفرت تھی ۔۔۔

سو وہ مسکراتے ہوئے ۔۔۔ صبر سے ۔۔۔ وکی کے عظیم کارناموں کے تذکرے سنتی رہی ۔۔۔

کچھ ہی دیر میں گیٹ پر بیل ہوئی ۔۔۔

وکی جاؤ بیٹا! جاؤ ذرا دیکھو کون آیا ہے ۔۔۔؟ وکی کی دادو کا اتنا کہنا تھا کہ وہ بگڑ اٹھا ۔۔۔ فوراً بولا ۔۔۔
سب کام میں ہی کروں ؟؟ مجھے ہی کہنا ہوتا ہے ہر کام ۔۔۔؟؟

وہ ابھی بول ہی رہا تھا کہ حارث بھاگتا ہوا گیٹ تک گیا ۔۔۔

خالہ خان باہر ڈاکیا انکل تھے ۔۔۔ یہ میگزین دے کر گئے ہیں ۔۔۔ حارث نے رسالہ نورین کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا ۔۔۔
اس نے چپ چاپ رسالہ وصول کر لیا ۔۔۔

وکی کی دادو نے پھر سے لب کشائی کی ۔۔۔ بس یہ میرا بیٹا موڈ کا ہے ۔۔۔ موڈ ہو تو خود ہی بھاگ کر گیٹ کھول آتا ہے ۔۔۔ موڈ نہ ہو تو بھلے منتیں کرتے رہو ۔۔۔ ابھی اس دن کی بات ہے ۔۔۔۔ میری کمر میں شدید درد تھا ۔۔۔ مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔ باہر کی گھنٹی بجی ۔۔۔ میرے بارہا کہنے پر بھی یہ دروازہ کھولنے باہر نہیں گیا ۔۔۔ ہی ہی ہی ۔۔۔

بس یہ موڈ کے بچے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔۔۔ ہی ہی ہی

وکی کی دادو کی ہنسی کی وجہ سے ثانیہ کے لیے یہ اندازہ کرنا مشکل نہ تھا کہ وہ وکی سے متعلقہ یہ واقعہ بھی اس کی صفت کے طور پر سنا رہی تھیں ۔۔۔

اور واقعی وکی کی تنی ہوئی گردن مزید تن چکی تھی ۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں جب سب کھانے پر موجود تھے تو نورین خود وکی کے منہ میں نوالے بنا بنا کر رکھنے لگی ۔۔۔

ثانیہ کی حیران نظروں کو محسوس کرتے ہوئے بولی ۔۔۔
جی یہ ہمارا بے بی ہے ۔۔۔ بے بی ۔۔۔
ہم خوشی سے خود اسے اپنے ہاتھوں سے کھلاتے ہیں ۔۔۔ ورنہ یہ تو خود کھا سکتا ہے ۔۔۔

کھانے کے دوران ہی نورین نے ایک اور عجیب بات یہ بتائی کہ وکی اگر کسی کمرے میں داخل ہو اور بتی گل ہو جائے تو جلانے کی بھی زحمت نہیں کرتا بلکہ اندھیرے میں بیٹھ جانے میں ہی عافیت محسوس کرتا ہے ۔۔۔ بھئی لاڈلا جو ہوا ۔۔۔ ہی ہی ہی ۔۔۔

وکی کی دادو کے چہرے پر اس کی محبت کے پھول کھل رہے تھے ۔۔۔

شام کو وہ نورین کے ساتھ بچوں کو لے کر کالونی کے پارک میں پہنچی تو وکی صاحب کے رویے سے معلوم ہوا کہ وہ وہاں بھی پروٹوکول چاہ رہا ہے ۔۔۔

جس جھولے پر محترم کی نظر پڑتی وہاں کسی دوسرے بچے کو یہ حق حاصل نہ ہوتا کہ اس پر بیٹھا رہ سکے ۔۔۔

نورین بڑی محبت سے بولتی ۔۔۔ بیٹا آپ ذرا swing سے اتر جائیے ۔۔۔ اس پر وکی نے بیٹھنا ہے ۔۔۔ پھر واقعی وکی صاحب کچھ اس طرح جھولے پر چڑھ جاتے جیسے یہ جھولا ان کے ابا نے ان کے لیے ہی لگوا رکھا ہو ۔۔۔

ایک گھنٹے بعد جب واپسی ہوئی تو باورچی خانے میں نورین ثانیہ سے گویا ہوئی ۔۔۔

ثانیہ کیا بتاؤں ۔۔۔ وکی کے بابا کوئی کام نہیں کر کے دیتے ۔۔۔ بس ہر وقت اپنی بڑائی کے زعم میں رہتے ہیں کہ میں بہت خوبصورت ہوں ۔۔۔ شادی سے پہلے تک میں خود کو بہت حسین سمجھتی تھی مگر ۔۔۔ اب تو ان کے ساتھ رہتے ہوئے یوں لگتا ہے کہ شائد میں قبول صورت بھی نہیں ہوں ۔۔۔

گھر میں کسی دراز کا ہینڈل ٹوٹ جائے ۔۔۔ کوئی پنکھا خراب ہو جائے یا کوئی ٹیوب لائیٹ ۔۔۔ کیا مجال ہے جو ٹھیک کروا دیں ۔۔۔

میں کبھی فواد (اس کا چھوٹا بھائی) کی منت کرتی ہوں اور کبھی ہمسایوں کے لڑکے سے کہہ کر ایسے کام کرواتی ہوں ۔۔۔

ویسے یہ ہیں بہت اچھے ۔۔۔ بہت نائیس ۔۔۔ مجھے ڈانٹتے ڈپٹتے بھی نہیں ۔۔۔ کھانے میں نقص بھی نہیں نکالتے ۔۔۔ اخراجات کا بھی کوئی مسئلہ نہیں ۔۔۔ بس ۔۔۔ یہ جو ان کو اپنی بڑائی کا زعم ہے نا ۔۔۔ اسی نے میری زندگی کے تمام رنگوں کو پھیکا بنا رکھا ہے ۔۔۔

ثانیہ تو خاموشی سے سن رہی تھی مگر کھڑکی کے راستے باورچی خانے میں داخل ہوتی ہوا خاموش نہ رہ سکی ۔۔۔ آہستگی سے بولی ۔۔۔

*اور اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں*
*(سورہ الحدید آیت نمبر 23)*

مزید بولیں ۔۔۔

*رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا*

*تکبر کرنے والے قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح آدمیوں کی شکل میں اکٹھے کیے جائیں گے اور ہر طرف سے انہیں ذلت ڈھانپ لے گی اور انہیں ہنکا کر جہنم کے ایک قید خانے کی طرف لے جایا جائے گا جس کا نام بولس ہے ۔۔۔ اور آگوں کی آگ یعنی بڑی سخت قسم کی آگ ان پر چھا جائے گی اور انہیں دوزخیوں کا خون اور پیپ پلائی جائے گی۔ (ترمذی)*

نورین جو اپنے شوہر کے تکبر سے اور بے انتہا بڑھے ہوئے احساس برتری سے نالاں تھی وہ لاشعوری طور پر اپنے بچے کی بنیادوں میں ۔۔۔ اپنے ہی ہاتھوں سے یہی چیزیں ڈال رہی تھی ۔۔۔

بچے کو ہر وقت دوسروں سے different ہونے کا احساس دلانا ۔۔۔ اسے دوسرے بچوں سے برتر سمجھتے ہوۓ ڈیل کرنا ۔۔۔ دوسرے بچوں کے مقابلے میں اس کی بے جا تعریفیں کرنا ۔۔۔ اس کی منفی عادات کو بھی مثبت بنا بنا کر پیش کرنا ۔۔۔اور اسے ہر طرح کی ذمہ داریوں سے آزاد رکھنا ۔۔۔ اسے کوئی انوکھی اور خاص چیز سمجھنا ۔۔۔

یہ سبھی وہ عادات ہیں جو کسی بھی بچے کے مستقبل کے لیے زہرِ قاتل ہو سکتی ہیں ۔۔۔

*سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے۔ (البقرہ: 197)*

اگر بچہ خوفِ خدا کے تحت زندگی گزارنا سیکھ گیا تو بلندیاں ۔۔۔ کامیابیاں اور ناموریاں خود بخود آ کر اسے اپنی جھولی میں اٹھا لیں گی ۔۔۔

بصورتِ دیگر کسی بھی ماں کے دیے ہوئے different اور prominent جیسے القابات سے کامیابیاں منسلک ہوتیں ۔۔۔ تو بن ماں کے بچے تو پھر شائد بے موت ہی مر جایا کرتے. ۔۔🍃🍃🍃🍃۔🍃🍃 (مصنفہ کی جانب سے پر زور استدعا ہے کہ اگر یہ تحریر آپ کو مفید محسوس ہوئی ہے تو اس آگے بھیج کر اس صدقہ جاریہ میں حصہ دار بن جائیے شکریہ

🍃➿🍃➿🍃➿🍃➿🍃➿🍃

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

گھریلو امور کے سلسلے میں بچوں کی تربیت (حصہ دوم)

🌈🎋🌈🎋🌈🎋🌈🎋 گھریلو امور کے سلسلے میں بچوں کی تربیت 📕 کہانی نمبر 2 ✍🏻 ام …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: بچوں کی تربیت (حصہ اول)! This is the link: https://pakbloggersforum.org/%d8%a8%da%86%d9%88%da%ba-%da%a9%db%8c-%d8%aa%d8%b1%d8%a8%db%8c%d8%aa-1/