صفحہ اول / بلاگرز فورم / بھارتی جنگی جنون خاک میں۔۔۔ محمد فہیم شاکر

بھارتی جنگی جنون خاک میں۔۔۔ محمد فہیم شاکر

بھارتی جنگی جنون خاک میں
تحریر: محمد فہیم شاکر

( جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں، مصنف تحریر ہذا کو اپنے نام سے وائرل کرنے سے منع کرتا ہے)
بدھ 13مارچ2019
یہ صبح دس بجے کا وقت تھا جب پاکستانی فائیٹر جیٹس نے نوشہرہ، پونچھ اور راجوری میں ہندوستانی فضائی حدود کو پامال کرتے ہوئے ہندوستان پر اپنی دھاک بٹھائی اگر وہ یہیں تک محدود رہتے تو بات کچھ اور ہوتی لیکن اس کے بعد انہون نے جو کچھ کیا وہ انتہائی جارحانہ تھا اور پاکستانی فائیٹر جیٹس نے چھ مختلف جگہوں پر بم گرائے جس سے کسی بھی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا اور پاکستانی نے دعوی بھی کیا کہ آبادی کو نشانہ بنانا ہر گز اس کا مقصد نہ تھا بلکہ بھارت پر اپنی طاقت اور برتری کا مظاہرہ کرنا مقصود تھا
پاکستانی فائیٹر جیٹس کا ارادہ محض حملہ آور ہندوستانی فائیٹر جیٹس کو مار بھگانے کا ہی نہیں تھا بلکہ ان کا عزم ہندوستانی تنصیبات، ملٹری انسٹالیشنز، اور ایمونیشن ڈپوز کو تباہ کرنے کا بھی تھا یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے راجوری کے گاوں نادیاں میں فوجی اسلحہ ڈپو پر حملہ بھی کیا
اسی طرح ضلع راجوری کے لام اور جھنگر میں قابض ہندوستانی افواج کے بٹالین ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا

(ضروری وضاحت: یہ تمام معلومات ہندوستانی چینلز سے لی گئی ہیں، حقائق مختلف ہونے کی صورت میں راقم ذمہ دار نہ ہوگا)
لیکن اب آءیے چند ایسی باتوں کی طرف جو حقیقت ہیں
آپ کو یاد ہوگا کہ ہندوستانی جنونی طیاروں کی طرف سے پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہندوستان نے رات کے اندھیرے میں جو کیا سو کیا لیکن ہم اس کا جواب اپنی مرضی کی جگہ اور اپنی مرضی کے وقت پر دیں گے اور یہ بھی کہا کہ ہم سرپرایز دیں گے۔


Widget not in any sidebars

تو آئیے ! بات کرتے ہیں اس سرپرائزکی۔

آزاد کشمیر کے ضلع کوٹلی کی تحصیل نکیال کے بالکل سامنے تھنہ منڈی میں انڈین فوج کا ٹیک ہیڈ کوارٹر ہے جہاں ہندوستانی فوج کے اعلی سطحی اجلاس ہوتے ہیں اور پاکستان کے ساتھ حالیہ چھیڑ خانی میں ہندوستان نے بہاولپور سے چھ، سیالکوٹ سے چھ اور کوٹلی سے بارہ جنگی طیاروں کے ذریعے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی، اور کوٹلی سے آنے والے طیاروں مین سے چار جہاز پاکستانی حدود میں داخل ہو چکے تھے جنہیں دو پاکستانی جے ایف 17 تھنڈر نے انگیج کیا جبکہ باقی آٹھ جہاز جو پاکستانی حدود میں داخل نہیں ہویے تھے ان کے استقبال کے لیے مزید دو جے ایف 17 تھنڈر فضا میں بلند ہو چکے تھے

دراصل ہندوستان بار بار گیپ تلاش کرتے ہوئے پاکستانی فضائی حدود کی پامالی کی کوشش کر رہا تھا اور وہ اس کوشش میں تھا کہ کہ پاکستان میں کسی تارگٹ کو تلاش کر کے حملہ کیا جائے اور جنگ شروع کی جا سکے
زرا بہاولپور چلئیے، ہارون آباد میں زور دار دھماکوں کی افواہیں زیر گردش رہیں اور اسی طرح سیالکوٹ میں بھی، تو وہ پاک فضائیہ کے چوکنا ہونے کی نشانی تھی جو انہون نے ہندوستانی طیاروں کو بتایا تھا کہ تم بھلے آجاو لیکن ہم پوری طرح تیار ہیں،
اب واپس کوٹلی چلتے ہیں، تو در انداز ہندی طیارے پاک فضائیہ کے چوکس طیاروں کے حصار میں آچکنے کے بعد واپس بھاگے تو پے لوڈ ویران جگہ پر گرا دیا جس سے چند درخت تباہ ہویے اور ایک کوا مردہ پایا گیا
(اسی کوے پر راقم کی ایک مزاحیہ تحریر جلد آپ احباب کی خدمت میں پیش کی جایے گی)
ایک مردہ کوے اور چند درختوں کو لے کر ہندوستانی میڈیا نے چائے کی پیالی میں طوفان بد تمیزی بپا کیے رکھا کہ پاکستان میں دہشتگردوں کے تربیتی کیمپ کو تباہ کر دیا گیا ہے وغیرہ
اس سب کے بعد میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس اور سرپرایز والی بات سامنے آئی، تو تھنہ منڈی کے ٹیک ہیڈ کوارٹر سے ان بارہ طیارون کو احکامات جاری کیے جا رہے تھے اور اگلا پلان بھی یہی تیار ہو رہا تھا کہ جنگ کہاں سے اور کیسے شروع کرنی ہے
اور اس پلان میں ہندوستانی آرمی چیف سمیت اعلی ہندی فوجی قیادت اور اسرائیلی ماہرین بھی موجود تھے۔
شاید بھارت انٹرنیشنل بارڈر سے چھیڑ خانی کی بجائے لاین آف کنٹرول سے دست درازی کرنا چاہتا تھا تاکہ بین الاقوامی پریشر سے بچا جا سکے۔
چھبیس فروری کی رات پاکستانی آرمی چیف کی زیر قیادت اجلاس میں طے پایا کہ دن کے اجالے میں ہندوستان کو جواب دیا جائے گا
اور دن کے اجالے کا وہی وقت منتخب کیا گیا جب تھنہ منڈی میں پلان تیار کیا جا رہا تھا
پھر کیا ہوا؟
آپ کو یاد ہوگا کہ میجر جنرل آصف غفور نے دوسری پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہم نے چھ تارگٹس لاک کیے تھے
کیا آپ کو معلوم ہے کہ لاک کرنا کیا ہوتا ہے؟


Widget not in any sidebars

جنگی طیاروں میں نصب میزائلز کو ان کے ٹارگٹس کی لوکیشن اور درست معلومات فراہم کر دی جاتی ہیں جس کے بعد مطلوبہ ہدف میزائل کی زد میں ہوتا ہے اور بس بٹن دبانے کی دیر اور ٹارگٹ تباہ شد،
بس یہی کچھ پاک فضائیہ نے کیا اور اور عین اس وقت کیا جب تھنہ منڈی کے قریب ٹیک ہیڈ کوارٹر میں ہنگامی اور اعلی سطحی میٹنگ جاری تھی۔
جیسے ہی ٹارگٹس کو لاک کیا گیا وہاں موجود ریڈار سسٹم نے پاکستانی میزائلز کی زد میں آنے کا اعلان کر دیا جس پر بھارتی حکام سر پکڑ کر رہ گئے کہ پاکستان کو ان کی پن پوائنٹ لوکیشن بارے کیسے درست معلومات فراہم ہوئیں۔
پاک فضائیہ نے مطلوبہ ٹارگٹ یعنی ٹیک ہیڈ کوارٹر کو ہٹ کرنے کی بجائے اس کے ارد گرد میزائل فائر کرکے دھماکوں کی گونج پیدا کر دی اور دشمن کو خوفزدہ کر کے پیغام دیا کہ

کہاں بنتے ہیں منصوبے بڑی پہچان رکھتے ہیں
مت ہمیں تم بے خبر سمجھو نگاہ و کان رکھتے ہیں

اس سرپراءز کے بعد ہندوستان کو خوب تسلی ہوگئی کہ پاکستان کوئی تر نوالہ نہیں ہے جسے آسانی سے ہڑپ کیا جا سکے گا
اب آئیے! دوسری طرف،
ہندوستانی جنگی طیارے جو سامان پاکستانی حدود میں پھینک کر فرار ہوگئے تھے ان میں جدید ترین اسرائیلی میزائل سپائیس 2000 شامل تھے کیونکہ جن بارہ بارہ طیاروں کے گروپس میں ہندوستانی بزدل جہاز حملہ آور ہونے آیے تھے وہ سب اس جدید میزائل سے لیس تھے
یہ گائیڈڈ میزائل سو فیصد درست نشانہ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پانچ مربع کلو میٹر کے رقبے میں ہر چیز کو تہس نہس کر دیتا ہے
لیکن انڈین فضائیہ کو اتنا موقع ہی نہ مل سکا کہ اس قدر درستگی سے نشانہ بنانے والا میزائل کیوں فائر نہ ہو سکا
تو ہوا ایسے کہ بھارتی فضائیہ میراج 2000 طیاروں کی مدد سے حملہ آور ہوءی تھی اور اس کا خیال تھا کہ پاکستان بھی اسی قسم کے طیاروں سے روک تھام کرے گا لیکن بھارت کی یہ خام خیالی ہی رہی کیونکہ اس سے قبل انڈین گدھوں کا جے ایف 17 تھنڈر سے واسطہ پڑا ہی نہیں تھا اور وہ جانتے بھی کہیں تھے کہ یہی شاہکار طیارے انڈین گدھوں کا استقبال کرنے کو تیار موجود ہیں اور پھر جب جے ایف 17 تھنڈر نے بھارتی میراج طیاروں کو حصار میں لیا تو بھارتی کنٹرول روم جو میراج طیاروں کی رفتار آٹھ سو سے ایک ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ بتا رہا تھا وہ چونک پڑا کہ جے ایف 17 تھنڈر کی رفتار دو ہزار کلو میٹر فی گھنٹہ شو ہو رہی ہے اس کا مطلب تھا کہ اگلے چند ہی سیکنڈز میں بھارتی ٹماٹر طیارے پاکستانی شاہینوں کے نرغے میں ہوتے جس کا صاف مطلب صرف موت ہی تھا
یہ تھی وہ وجہ کہ بھارتی گھس بیٹھیے دم دبا کر واپس بھاگے اور اپنا وزن ہلکا کرنے کی خاطر اپنے پے لوڈ کو گرا دیا جس میں سپائیس 2000 میزائلز سمیت ان طیاروں کے اضافی فیول ٹینکس بھی شامل تھے اور یوں اسرائیلی اعلی دماغوں کی سالہا سال کی شاہکار محنت پکے ہوئے پھل کی مانند پاکستان کی جھولی میں آن گری
یعنی اب پاکستان اسرائیلی خفیہ ہتھیار کا توڑ بھی کر لے گا اور اس کا واضح مطلب پاکستان کا دفاع پہلے سے زیادہ نا قابل تسخیر ہونا ہے اور اسرائیل اب پچھتا رہے ہوں گے اپنے ذہین ترین سائنس دانوں کی سالوں کی محنت سے بننے والے میزائل کو کن گدھوں کے ہاتھ میں دے بیٹھے
یعنی بھارتی فضائیہ نے خود کو خود ہی بے اعتبار ثابت کر دیا کیا یہ پاک فضائیہ کی پیشہ وارانہ تربیت کا منہ بولتا ثبوت نہیں اور کیا یہ پاکستان کی جیت نہیں کہ اس نے بغیر لڑے ہندوستان کی دنیا بھر میں بجا دی اور لگا دی، اور بغیر لڑے وہ حاصل کر لیا جسے شاید لڑ کر کبھی حاصل نہ کر سکتا تھااگر یہاں ہر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کو پہلے سے ہی سب معلومات مل چکی تھیں کہ کس وقت کون سے طیارے کس قسم کے اسلحے سے لیس ہوکر پاکستان پر حملہ آور ہونے آرہے ہیں اور اسی وجہ سے کوٹلی سیکٹر سے گھسنے والے طیاروں کو پاک فضائیہ نے جان بوجھ کر پاکستانی فضائی حدود میں آنے دیا اور پھر وہ کھیل کھیلا کہ ہندی طیارے دم دبا کر جان بچا کر بھاگے یعنی آپ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے یہ سب پری پلان تھا۔


Widget not in any sidebars

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

فرشتے اتریں گے تیری نصرت کو

اس وقت ملکی صورت حال انتہائی نازک حالت میں ہے ۔الحمداللہ امن تو ہے دہشت …

دردِ کشمیر اور ہمارا ضمیر..! از قلم مغیرہ حیدر

وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے …

Send this to a friend