صفحہ اول / بلاگرز فورم / جماعت الدعوۃ پر پابندیاں اور اس کے جرائم

جماعت الدعوۃ پر پابندیاں اور اس کے جرائم


جماعت الدعوۃ پر پابندیاں اور اس کے جرائم 

تحریر: اسد عباس خان

چند روز پہلے آفس میں بیٹھے روزمرہ کے کام نمٹانے میں مصروف تھا۔ نگاہ سامنے دیوار کے ساتھ لگے "ٹی وی” پر پڑی تو تقریبا سکتے میں آ گیا "بریکنگ نیوز” چل رہی تھی کہ جماعت الدعوۃ اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن نامی تنظیموں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ اور ان تنظیموں پر پاکستان بھر میں پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ "ٹی وی” کی آواز کھولی تو بغیر کسی وقفہ کے مسلسل بولنے والی نیوز کاسٹر فرما رہی تھی کہ ان تنظیموں کے اثاثے منجمد اور ان کے تحت چلنے والے فلاحی ادارے حکومتی تحویل میں لیے جا رہے ہیں۔ یہ سب سن کر دل بیٹھنے لگا اور اک انجانا سا بوجھ محسوس ہوا۔ ریموٹ پکڑ کر "ٹی وی” آف کر دیا نمی بھری آنکھیں بند کیں تو سوچ کے سمندر میں ڈوب گیا۔۔۔۔۔۔۔!
اب میرے سامنے اکتوبر 2005ء کا منظر تھا۔ جب پاکستان اپنی تاریخ کے تباہ کن زلزلہ سے لرز اٹھا۔ خیبر پختونخواہ اور بالخصوص کشمیر میں قیامت خیز منظر اور ہر طرف تباہی تھی اس وقت اللہ کے کچھ بندے گھروں سے نکلے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کا رخ کیا اور بلند و بالا پہاڑوں کے چپے چپے پر پھیل گئے۔ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا زخمیوں کی مرہم پٹی کی فوت شدگان کو دفنایا۔ زندہ بچ جانے والوں کے طعام و قیام کا بندوبست کیا۔ غالباً یہ پہلا بڑا موقع تھا جب پوری دنیا نے دیکھا کہ محدود وسائل اور نامسائد حالات کے باوجود یہ فرشتہ صفت انسان خدمت خلق کے شاندار جذبہ سے سرشار اور منظم ترین افراد ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی میڈیا نے اپنی "ہیڈ لائنوں” میں ان کے کام کو سراہا۔۔۔۔۔۔۔!

اگست 2010ء میں پاکستان کی تاریخ کا سب سے تباہ کن سیلاب آیا۔ جس میں کشمیر گلگت بلتستان سے لیکر سندھ بلوچستان تک تباہی مچا دی تو یہی افراد ملک بھر کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکومتی اداروں سے پہلے موجود تھے اور ڈوبتے ہوئے لوگوں کو بچانے کے لیے دن دیکھا نہ رات اور خدمت انسانیت کی شاندار تاریخ رقم کی۔ اور متاثرین سیلاب کے لیے کھانے، رہائش، ادویات، کپڑوں اور جوتوں تک کا بندوبست کیا۔ اور ایک بار دنیا بھر میں ان خدائی خدمت گاروں کی تحسین کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔!
پھر آنکھوں کے سامنے ایک اور تصویر گھومنے لگی۔ جب دہشتگردی کے ناسور نے پاکستان کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا تھا اور دشمنوں کی سازشیں اپنے عروج پر تھیں۔ فرقہ بندی اور مسلک پرستی کا کا جن بوتل سے باہر نکل رہا تھا اور بڑی تعداد میں نوجوان تکفیری فتنہ سے متاثر ہو کر جہاد جیسے بابرکت و عظیم عمل کے نام پر اپنے ہی ملک میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی طرف جا رہے تھے تو جماعت الدعوۃ کی دوراندیش قیادت نے سب سے پہلے اس فتنہ تکفیر کا رد کیا۔ اور نوجوانوں کو قرآن و حدیث کے منہج پر چلتے ہوئے جہاد اور فساد کا فرق واضح کیا اور وطن سے محبت کا درس دیا۔ جب وطن سے محبت کی بات آتی ہے تو ستمبر 2013ء میں بلوچستان میں آنے والے زلزلہ میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ آواران تھا۔ جہاں مشرقی پاکستان میں بنائی گئی ہندوستانی مکتی باہنی طرز کی بلوچ شدت پسند تنظیم کا تقریبا مکمل کنٹرول تھا اور حکومت کی رٹ بالکل نہ ہونے کے برابر تھی۔ جو بلوچ کے علاوہ پنجابی یا کسی بھی دوسرے صوبے کے لوگوں کے لیے نو گو ایریاء تھا۔ وہاں جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ کے یہ عاجز بندے پہنچتے ہیں اور خدمت و دعوت کی لازوال مثال قائم کرتے ہوئے اللہ کی نصرت کے ساتھ پاکستان دشمنوں کی سازشوں کو توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔!
موبائل فون پر گھنٹی بجی تو بھیگی آنکھوں کے ساتھ موبائل اٹھا کر دیکھا اور بند کر دیا۔ خیالات ہیں کہ جان نہیں چھوڑ رہے دل و دماغ میں طلاطم خیز لہریں اب بھی اٹھ رہی تھی۔ مجھے وہ تھر کا صحرا بھی یاد آنے لگا جہاں کبھی مور ناچتے تھے وہاں بھوک پیاس سے موت کا رقص جاری تھا۔ تو یہ پراسرار بندے وہاں بھی پہنچ گئے۔ جہاں بسنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہندوؤں کی بھی بلا تفریق خدمت کا فریضہ انجام دیا اور عملًا اسلام کی اصل تصویر پیش کی۔ ان کے لیے خوراک و لباس کے ساتھ علاج معالجے کا بھی بندوبست کیا۔ پانی کے لیے سینکڑوں کنویں کھودے اور ان تھک محنت اور شبانہ روز کوششوں سے آج ان صحراؤں میں ہریالی ہے۔۔۔۔۔۔۔!

ان سر پھرے نوجوانوں کے جرائم کی فہرست اتنی لمبی ہے کہ ایک مضمون میں اس کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے ایک جماعت کی صورت میں وہ کارنامے سر انجام جو ان کے ذمہ نہ تھے۔ حکومتوں نے بجائے حوصلہ افزائی کرنے کے ” نان اسٹیٹ ایکٹرز” کہ کر ان کی خدمات سے نظریں چرائیں۔ ہاں میں ببانگ دہل کہتا ہوں یہ "نان اسٹیٹ ایکٹرز” وہ کچھ کر گئے جو "اسٹیٹ ایکٹرز” کی ذمہ داری تھی لیکن وہ نہ کر سکے۔ ان "نان اسٹیٹ ایکٹرز” نے ملک بھر میں تعلیم کے فروغ کے لیے مدارس اور جدید تقاضوں کے مطابق سکول کالج اور یونیورسٹریز قائم کیں۔ جن میں ہزاروں طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ اور پاکستان بھر میں حادثات و آفات سے نمٹنے کے لیے ایک بہت وسیع، منظم اور مربوط نظام قائم کیا۔ جس میں سینکڑوں ایمبولینسز، فری ڈسپنسریز اور ہسپتال شامل ہیں۔ جہاں ماہانہ ہزاروں مریضوں کا مفت علاج اور لاکھوں افراد کو مفت ادویات فراہم کی جاتی ہیں۔ ملک بھر میں بڑے ہسپتالوں کے باہر مستقل فری دستر خواں لگاۓ۔ "فلاح انسانیت فاؤنڈیشن” پاکستان اور غالباً دنیا بھر میں پہلی غیر سرکاری تنظیم بنی جس نے "فائر ریسکیو” کا نظام بھی قائم کیا جس کے تحت ملک بھر میں ہزاروں نوجوانوں کو "فائر فائٹرز” کی تربیت فراہم کی گئی اور آگ بجھانے والی گاڑیوں اور مکمل آلات کے ساتھ ہر مشکل وقت آگے بڑھ کر کام کیا۔ سیلابی صورتحال سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہزاروں نوجوانوں کو تیراکی کی تربیت اور حادثات کی صورت میں ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے کورسز بھی کروائے گئے۔ خواتین کے کے لیے "ووکیشنل سینٹرز” سلائی کڑھائی کے مراکز قائم کیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
بِلا شبہ "جماعت الدعوۃ” پاکستان کی سب سے بڑی دینی و دعوتی جماعت اور "فلاح انسانیت فاؤنڈیشن” پاکستان کی سب سے بڑی فلاحی تنظیم ہے۔ جس کے جرائم فقط یہاں تک ہی محدود نہیں بات زیادہ بڑی ہے۔
اور ہاں ہاں یاد آیا مظلوم کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرنا تو اس جماعت کا ناقابل معافی جرم ہے۔ ہوتا بھی کیوں نہ۔۔۔۔۔۔۔۔! جب ساری دنیا خاموش ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ قراردادیں منظور کر کے خود بھی بھول چکی ہے۔ پاکستان کی حکومتوں کو بھی اس مسئلہ سے کوئی خاص سروکار نہیں رہا تو یہ جماعت کون ہوتی ہے کشمیر کشمیر کرنے والی؟؟ کشمیر کو تو چلیں بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح "شہ رگ” کہ گئے تھے لیکن یہ جماعتیے تو فلسطین کا نام بھی لیتے ہیں۔ برما و شام کا ذکر کیے بغیر ان کا گزارا نہیں ہوتا۔ اور تو اور صومالیہ جیسی جگہ پر بھی "قربانیاں” کرتے ہیں۔ ساری امت مسلمہ کو ایک جسم کی مانند مانتے ہیں فرقہ بازی اور اختلافات سے سے نکل کر متحد ہونے کا درس دیتے ہیں۔ پاکستان میں سارے مسلمان مسالک کو بشمول اقلیتیں عیسائیوں ہندوؤں سکھوں کو بھی "دفاع پاکستان” کے لیے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر لیتے ہیں اور کھلم کھلا اس بات کا اظہار بھی کرتے ہیں کہ مادر وطن کا دفاع ہم سب مل کر اپنے خون سے کریں گے۔ اتنے جرائم کے ساتھ بھلا کیونکر کوئی آزاد رہ سکتا ہے۔ لہذا پابندیاں لگانا ضروری ہیں وہ بھی اس وقت جب ہندوستان ہمیں پپیاں و جپھیاں ڈال رہا ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت …

اردو، اک لمحہ فکریہ ۔۔۔ تحریر : غلام فاطمہ

بلاشبہ ہماری قومی زبان اردو کی بے وقعتی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم …

Send this to a friend