صفحہ اول / اردو ادب / جواب شکوہ از عرفان صادق

جواب شکوہ از عرفان صادق

واعظِ قوم کی وہ پُختہ خیالی نہ رہی
برق طبعی نہ رہی، شُعلہ مقالی نہ رہی
رہ گئی رسمِ اذاں، رُوحِ بِلالی نہ رہی
فلسفہ رہ گیا، تلقینِ غزالی نہ رہی
مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے
یعنی وہ صاحبِ اوصافِ حجازی نہ رہے


📕کتاب۔ بانگِ درا

⭕نظم۔ جوابِ شکوہ
بند نمبر۔ سولہ

♨مشکل الفاظ ۔واعظ۔ نصیحت کرنے والی، پختہ خیالی۔ سنجیدہ خیالات۔ برق طبعی۔ جوش و خروش۔ شعلہ مقالی۔ لہجے کی تاثیر۔ روحِ بلالی۔ حضرت بلالؓ جیسا جذبہ۔ فلسفہ۔ عقلی علم۔ مرثیہ خواں۔ ماتم کدہ۔
💢مفہوم۔قوم کو جو لوگ وعظ و نصیحت کرتے تھے ان میں اب پختہ خیالی کا فقدان ہے۔ نہ انکی طبیعتوں میں بجلی کی سی تڑپ ہے نہ لہجے میں کسی قسم کی تاثیر باقی ہے۔وہ شعلہ بیانی کا جوہر اب نابود ہو چکا ہے۔ اب اذان بھی محض ایک رسم کی مانند باقی رہ گٸ ہے اس میں سے حضرت بلالؓ کی سی روح اور جذبے کا عمل دخل نہیں رہا۔ بلالؓ کی اذان کے لہجے کو تو خود نبیﷺ پسند فرماتے تھے۔ اسی طرح فلسفہ تو باقی رہ گیا لیکن امام غزالیؒ کی طرح اسکی توجیہہ کرنے والی نہیں رہے۔ اب تو یہ عالم ہے کہ مساجد بھی نمازیوں کے نہ ہونے پر مرثیہ خواں ہیں۔ یعنی حجازیوں کی سی اعلٰی صفات کے حامل لوگ اب نہیں رہے۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 18 عرفان صادق دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک …

جواب شکوہ بند نمبر 17 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند نمبر 17 سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق  شور ہے ہو گئے دنیا …

Send this to a friend