صفحہ اول / اردو ادب / جواب شکوہ بند نمبر 15 از عرفان صادق

جواب شکوہ بند نمبر 15 از عرفان صادق

جا کے ہوتے ہیں مساجد میں صف آرا، تو غریب

زحمتِ روزہ جو کرتے ہیں گوارا، تو غریب
نام لیتا ہے اگر کوئی ہمارا، تو غریب
پردہ رکھتا ہے اگر کوئی تمھارا، تو غریب
اُمَرا نشّۂ دولت میں ہیں غافل ہم سے
زندہ ہے مِلّتِ بیضا غُرَبا کے دم سے

📖کتاب۔ بانگِ درا

⭕نظم۔ جوابِ شکوہ
بند نمبر۔ پندرہ

♨مشکل الفاظ۔ صف آرا، صفیں باندھنا۔ ملتِ بیضا، امتِ مسلمہ
💢مفہوم۔یہ کس قدر ستم ظریفی ہے کہ مساجد کا جاٸزہ لیں تو اداٸیگی نماز کےلیۓ صرف غریب طبقہ کے لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ جو لوگ روزہ رکھنے کی زحمت گوارا کرتے ہیں وہ بھی غریب ہی ہوتے ہیں۔ اگر کوٸی ہمارا ”اللّٰہ“ کا نام لینے والا ہے تو وہ بھی غریب ہی ہےاور اگر کسی نے اپنے عمل سے تمہارا اور ملّتِ اسلاميہ کا بھرم رکھا ہوا ہے تو وہ بھی غریب ہی ہے۔
جہاں تک امرا کا حال ہے تو وہ دولت کے نشے میں مست ہو کر ہم سے یکسر غافل ہو چکے ہیں۔ چنانچہ اگر دیکھا جاٸے تو ملّتِ مسلمہ نادار و غریب لوگوں کے دم سے ہی زندہ ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

قومی زبان اردو اور ہمارے رویے

ملاحظہ کیجئے! کراچی کے ادیبوں کی انگریزی غلامی کی منفرد مثال! اس تقریب کا عنوان …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا ، نظم: عہد طفلی بند 2

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا …

Send this to a friend