صفحہ اول / اردو ادب / جواب شکوہ بند 2 تا 6 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند 2 تا 6 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ
بند 2 تا 6
عرفان صادق

پیرِگردوں نے کہا سن کے،کہیں ہے کوئی
بولے سیارے، سرِ عرشِ بریں ہے کوئی
چاند کہتا تھا،نہیں، اہلِ زمیں ہے کوئی
کہکشاں کہتی تھی، پوشیدہ یہیں ہے کوئی
کچھ جو سمجھا مرے شکوے کو تو رضواں سمجھا
مجھے جنت سے نکالا ہوا انساں سمجھا.

⭕کتاب۔ بانگ درا
نظم ۔جواب شکوہ
بند نمبر2

♨مشکل الفاظ کے معنی
پیرگردوں ۔بوڑھا آسماں
عرش بریں ۔۔۔بلند آسماں
رضوان ۔بہشت کا داروغہ

💢مفہوم ۔ شاعر مشرق نے اپنے رب کریم سے شکوہ صورت فریاد کیا ہے۔یہ نالہ وفریاد ایسا پردردوپرسوز ہے کہ بوڑھا آسماں پکار اٹھا کہ کہیں کوئی غم کا مارا فریاد کررہا ہے۔سیارے بولے کہیں سے کیا یہ صدا تو عرش بریں سے بلند ہورہی ہے۔چاند کہتا یہ کسی زمین کے باسی کی صدا ہے۔کہکشاں کہتی تھی یہیں کوئی چھپا بیٹھا ہے۔پر رضوان نے اس راز کو پالیا کہ یہ تو بہشت سے نکلا ہوا آدمی ہے۔فریاد میں آج بھی حضرت آدم علیہ السلام کا انداز وگریہ ہے۔آج بھی اس بندہ خاکی کی فریاد زمین وآسماں کے ہر گوشے کو ہلا گئ ہے۔ آج بھی اپنے رب کی بارگاہ میں پسندیدہ ومقبول ٹھہری ہے۔

➖➖➖➖➖➖➖➖

تھی فرشتوں کو بھی حیرت کہ یہ آواز ہے کیا
عرش والوں پہ بھی کھلتا نہیں یہ راز ہے کیا؟
تاسرعرش بھی انساں کی تگ وتاز ہے کیا؟
آگئ خاک کی چٹکی کو بھی پرواز ہے کیا؟
غافل آداب سے سکان زمیں کیسے ہیں
شوخ وگستاخ یہ پستی کے مکیں کیسے ہیں

⭕کتاب۔ بانگ درا
نظم ۔جواب شکوہ
بند نمبر3

♨مشکل الفاظ کے معنی
تاسرعرش ۔آسماں تک
تگ وتاز۔دوڑدھوپ
خاک کی چٹکی ۔معمولی انساں
سکان۔ساکن کی جمع زمیں کے رہنے والے

💢مفہوم۔شاعرمشرق کے نالہ وفریاد نے ملائک کو بھی حیرت میں ڈال دیا۔کہ یہ پردردوپرسوز آواز کیا ہے؟۔عرش والوں پر یہ نکتہ وا نہیں ہوتا تھا کہ یہ راز کیا ہے۔انھیں تعجب تھا کہ کیا آدمی کی دوڑدھوپ آسماں تک آگئ۔خاک کے پتلے نے بھی طرز پرواز سیکھ لی۔اور اس کی پرواز نے حشر برپا کردیا ہے ۔یہ پستی کے باشندے کس قدرشوخ وگستاخ ہیں کہ آداب کے تقاضے بھی فراموش کردیتے ہیں ۔پر یہ شوخی وگستاخی خود رب کریم نے اپنے بندے کو سکھائی ہے۔ اپنے لاڈلے کے ناز خود اتھاتاہے پر اہلیان فلک اس بات کے بھی متعرف ہیں کہ اس بندہ خاکی کے دل سے جب نالہ بلند ہوتا تو زمین وآسماں ہل جاتے ہیں۔آسماں کیا ہے پھر پرواز براہ راست اللہ تعالی تک ہوتی ہے۔

➖➖➖➖➖➖➖➖

اس قدر شوخ کہ اللہ سے بھی برہم ہے
تھا جو مسجودِ ملائک یہ وہی آدم ہے
عالمِ کیف ہے، دانائے رموزِ کم ہے
ہاں مگر عجز کے اسرار سے نامحرم ہے

ناز ہے طاقتِ گفتار پہ انسانوں کو
بات کرنے کا سلیقہ نہیں نادانوں کو

⭕کتاب۔ بانگ درا
نظم ۔جواب شکوہ
بند نمبر4

♨مشکل الفاظ کے معنی :
برہم… ناراض
مسجود ملائک… جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا
عالم کیف… کیفیت کو جاننے سمجھنے والا
دانائے ِرموز ِکم… کم نکتے یا اشارے سمجھنے والا
عجز… انکساری
اسرار… راز
نامحرم… ناواقف
طاقت ِ گفتار… بولنے کی طاقت

💢مفہوم۔

علامہ اقبال کے شکوے نے عرش والوں پر حیرت طاری کر دی اور فرشتوں جنوں چاند ستاروں کے درمیان سرگوشیاں شروع ہو گئیں کہ یہ کون ہے اور کہاں سے ہے اور کیسا ہے… ایک تو یہ کہ اس قدر شوخ ہے کہ اپنے خالق حقیقی سے بھی شکوہ کر رہا ہے حالانکہ یہ وہی ہے جسے فرشتوں نے سجدہ کیا تھا. اس کے پاس علم تو ہے لیکن یہ بہت سارے رموز و نکات پر غور نہیں کرتا… حکمت و تدبیر نہیں اپناتا اور عاجزی و انکساری تو اسے چھو کر بھی نہیں گزری. ان انسانوں کو اپنے بولنے کی طاقت پر تو بہت غرور ہے لیکن بولنے کا سلیقہ یہ ناداں انسان ابھی تک نہیں سیکھ سکے۔

➖➖➖➖➖➖➖➖

آئی آواز غم انگیز ہے افسانہ ترا
اشکِ بیتاب سے لبریز ہے پیمانہ ترا
آسماں گیر ہوا نعرہء مستانہ ترا
کس قدر شوخ زباں ہے دلِ دیوانہ ترا
شکر شکوے کو کیا حسنِ ادا سے تونے
ہم سخن کردیا بندوں کو خدا سے تونے

⭕کتاب۔ بانگ درا
نظم ۔جواب شکوہ
پانچواں بند

♨مشکل الفاظ کے معنی
غم انگیز ۔ دکھ سے بھرا ہوا
لبریز۔ بھرا ہوا جو چھلکتا ہو۔
پیمانہ۔ پیالہ
آسماں گیر ۔ آسماں تک پہنچ جانا
حسن ادا۔ بہترین طریقے سے ادا کرنا
ہم سخن۔ ہم کلام۔۔۔۔آپس میں بات چیت

💢مفہوم۔شاعر مشرق کے شکوے کو بارگاہ الہی میں مقبولیت عطا ہوگئی اللہ تعالی نے فرمایا! میرے بندے ترا قصہ پردرد ہے کیونکہ تیرادل اپنی قوم کے درد سے لبریز ہے ۔تیرے آنسو امت مسلمہ سے بےپناہ عشق کے گواہ ہیں۔تیرا گریہ قابل رشک ہے اس لیے اس نعرہ مستانہ سے فلک گونج اٹھے ۔آسماں کے درودیوار ہلادیے۔دیوانے دل کی زباں میں شوخی ومستی ہے کیونکہ بےچین دل میں درد تڑپا تو اس درد کی شدت نے اللہ تعالی سے بھی شکوہ وشکایت کردیا اس بندہ خاکی میں حضرت موسی علیہ السلام جیسا جذبہ موجزن ہوگیا نہ صرف اللہ تعالی سے شکوے بلکہ شکر سے لبریز گلے کہ شکایت شکر بن گئ اور کلیم اللہ علیہ السلام کے فن سے آدم خاکی کو آشنا کردیا۔

➖➖➖➖➖➖➖➖

ہم تو مائل بہ کرم ہیں،کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے، رہروِ منزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے، جوہرِ قابل ہی نہیں
جس سے تعمیر ہو آدم کی، یہ وہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں

⭕کتاب: بانگِ درا
نظم: جوابِ شکوه
بند نمبر 6

🔴مشکل الفاظ:
مائل بہ کرم۔۔۔مہربانی کرنے کیلیۓ تیار
سائل۔۔۔مانگنے والا
جوہرِ قابل۔۔۔صلاحیت رکھنے والا آدمی
گل۔۔۔۔مٹّی
شانِ کئی۔۔۔کیخسرو جیسی عظمت(کئی سے مراد کیخسرو ہے جو قدیم ایران کا عظيم بادشاہ تھا)

💢مفہوم:
اللٰہ ربّ العالمین شاعرِ مشرق کے شکوے کے جواب میں فرماتے ہیں کہ اے شکوه کرنے والے! ہم تو امّتِ مسلمہ پر اب بھی مہربانی اور عنايات کرنے کو تیار ہیں لیکن شرط یہ ہے کہ کوئی مانگنے والا بھی تو ہو۔ہمارا تو ہمیشہ سے یہ شیوہ رہا ہے کہ جو اقوام رہنمائی حاصل کرنے کیلیۓ سرگرداں رہتی ہیں، ہم ان کی رہنمائی کرتے ہیں لیکن تیری قوم کا حال تو یہ ہے کہ ان میں کوئی بھی منزلِ مقصود کو پانے کیلیۓ آمادہ نہیں دکھائی دیتا۔
ہم نے تو تربیت کو عام کر رکھا ہے لیکن تیری قوم میں کوئی ایسا صلاحيت والا آدمی ہی موجود نہیں جس کی ہم تربیت کر سکیں۔اصل بات تو یہ ہے کہ تیری قوم کی مٹی میں سے وہ مادے ہی اٹھ گئے ہیں جو ابنِ آدم کو با صلاحیت بنایا کرتے تھے۔
وگرنہ! اگر کوئی باصلاحیت فرد سامنے آۓ تو ہم تو اسے کیخسرو کی مانند شان و شوکت سے نوازتے ہیں اور کولمبس کی مانند نئی دنیا کی تلاش میں نکلنے والوں کی بھی رہنمائی کرتے ہیں۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال (4) از عرفان صادق

یہ کوئی دن کی بات ہے، اے مرد ہوش مند! غیرت نہ تجھ میں ہو …

نوائے اقبال (2) از عرفان صادق

کتاب۔بانگ درا نظم ۔ظریفانہ نظم نمبر۔ 2 لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی ڈھونڈ لی قوم …

Send this to a friend