صفحہ اول / اردو ادب / جواب شکوہ بند 8 تا 11 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ بند 8 تا 11 ۔۔۔ عرفان صادق

جواب شکوہ
بند 8 تا 11
عرفان صادق

وہ بھی دن تھے کہ یہی مایہء رعنائی تھا
نازش موسمِ گل لالہ صحرائی تھا
جو مسلمان تھا اللہ کا سودائی تھا
کبھی محبوب تمہارا یہی ہرجائی تھا
کسی یکجائی سے اب عہدِ غلامی کرلو
ملت احمد مرسل کو مقامی کرلو

⭕کتاب۔ بانگ درا
نظم ۔جواب شکوہ
بند نمبر 8

♨مشکل الفاظ کے معنی
مایہ رعنائی ۔عمدہ دولت۔۔۔۔خوبصورت سرمایہ
نازش۔۔۔۔ناز۔۔۔مان۔۔۔فخر
موسم گل۔۔۔بہار کاموسم
لالہ۔۔۔۔سرخ رنگ کا خوبصورت پھول
یکجائی۔۔۔۔اکٹھا کیا ہوا۔۔۔۔واحد اکیلا

💢مفہوم۔ شاعر مشرق رب کریم کا جواب رقم کرتے ہیں کہ میرے ناداں مسلم وہ بھی زمانہ تھا کہ ہر خوبی اور اچھائی کا سرمایہ حسن فقط اسلام تھا۔ دنیا میں اس دین کی دھاک بیٹھ گئی تھی۔اس صحرا میں ایسا حسیں وجمیل لالہ کھلا کہ موسم بہار بھی اس پر نازاں تھا۔تیرے مذہب نے صحرائے عرب میں پرورش پائی اور ہر مسلماں راسخ العقیدہ تھا ۔محبت ومساوات کا ایسا پیکر کہ تفریقِ ابوبکرصدیق اور بلال حبشی رضی اللہ تعالی عنھما مٹ گئی محمودوایاز کی محبت نے نئی داستاں رقم کردی۔اور ہر ایک اپنے مذہب پر نثار اللہ کی رضا کا شیدائی۔پھر میں نے بھی اپنے مسلم کی خوب لاج نبھائی۔ اب تمہارے طور طریقے یہ ہیں کہ میں تمہاری نظر میں ہرجائی ہوں۔تو اپنے لیے کوئی اور مرکز اور آقا تلاش کرلو۔نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ملت کو آفاقی اور عالمگیر نہ رہنے دو ۔مقامی کرلو ۔اور تمہارے چال چلن ،طور طریقے ایسے ہی ہیں کہ عالمگیر دین کو پابند حدود کرلوگے۔کیونکہ تم میں اب شان مومن باقی ہی نہیں ہے۔

➖➖➖➖➖➖➖➖

کس قدر تم پہ گراں صبح کی بیداری ہے
ہم سے کب پیارہے؟ ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
طبعِِ آزاد پہ قیدِ رمضاں بھاری ہے
تمہیں کہہ دو، یہی آٸینِ وفاداری ہے؟
قوم مذہب سے ہے، مذہب جو نہیں، تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں، محفلِ انجم بھی نہیں

💢نظم۔ جوابِ شکوہ
کتاب۔ بانگِ درا
بند نمبر: 9

♨مشکل الفاظ ۔گراں۔بھاری، طبع آزاد۔ آزاد طبیعت، آٸين وفاداری۔ عہد نبھانے کا دستور۔ جذبِ باہم۔ ایک دوسرے میں مل جانا محفلِ انجم۔ستاروں کی محفل

⭕مفہوم۔تم لوگ ہر وقت شکوے شکایتیں تو کرتے ہو پر اتنا تو بتاٶ کہ نماز فجر کےلیۓ اٹھنا تمہارے لیۓ کس قدر تکليف دہ امر ہے۔تمہیں دراصل ہم سے محبت نہیں بلکہ تمہیں تو اپنی نیند پیاری ہے پھر تم لوگ اس قدر آزاد طبیعت ہو چکے ہو کہ تمہیں ماہِ رمضان کے روزے بھی ایک مصیبت نظر آتے ہیں۔اب یہ بتاٶ کہ ان حالات کے پیشِ نظر مجھ سے وفاداری کا یہی انداز رہ گیا ہے۔جب کہ دراصل قوم مذہب کی بنیاد پر تربیت پاتی ہے۔ اگر مذہب نہیں تو وہ قوم ہی نہیں۔ تم لوگوں کی حیثیت بھی بے معنی ہے۔ اسکی مثال ستاروں سے دی جا سکتی ہےکہ یکجا ہوکر وہ ایک جھرمٹ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

➖➖➖➖➖➖➖➖

جن کو آتا نہیں دنیا میں کوئی فن، تم ہو
نہیں جس قوم کو پروائے نشیمن، تم ہو
بجلیاں جس میں ہوں آسُودہ، وہ خرمن تم ہو
بیچ کھاتے ہیں جو اسلاف کے مدفن، تم ہو
ہو نِکو نام جو قبروں کی تجارت کرکے
کیا نہ بیچو گے جو مِل جائیں صنَم پتھّر کے

💢 کتاب۔ بانگ درا
نظم۔ جواب شکوہ
بند نمبر.10

♨مشکل الفاظ۔ پرواۓ نشیمن۔ گھر کی فکر، ٠نکو نام۔ نیک نام ،٠ خرمن۔ کھیت کھلیان، اسلاف کے مدفن۔ آباٶ اجداد کی قبریں۔ صنم۔ بت

⭕مفہوم ۔ درحقيقت جن لوگوں کو دنیا میں رہتے ہوۓ کوٸی فن اور ہنر نہیں آتا وہ تم لوگ ہو۔جس قوم کو اپنے گھر کی بھی پروا نہیں کہ وہ کیسا ہے اور کس حال میں ہے دراصل وہ قوم تم جیسے لوگوں سے ہی عبارت ہے۔تمہارے نشیمن پر تو بجلیاں بھی بڑی آسانی سے گر سکتی ہیں۔ تم اسقدر کمزور واقع ہوۓ ہو کہ دشمن کسی وقت بھی تمہیں آسانی سے زیر کر سکتا ہے۔اور تو اور تم لوگ تو اپنے اسلاف کے مقبرے بھی بیچ کھاتےہو۔ذرا غور کرو جب تم اس عمل میں کوٸی قباحت محسوس نہیں کرتے تو تمہیں بت فروشی میں کیا عار محسوس ہوگی۔

➖➖➖➖➖➖➖➖

صفحہء دہر سے باطل کو مٹایا کس نے؟
نوعِ انساں کو غلامی سے چھڑایا کس نے؟
میرے کعبے کو جبینوں سے بسایا کس نے؟
میرے قرآن کو سینوں سے لگایا کس نے؟
تھے تو آبا وہ تمہارے ہی، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظرِ فردا ہو!

⭕کتاب: بانگِ درا
نظم: جوابِ شکوہ
بند نمبر ١١

♨مشکل الفاظ:
صفحہء دہر۔۔۔دنیا کے صفحے سے یعنی زمانے سے
باطل۔۔۔کفر
جبینوں سے بسانا۔۔۔سجدہ گاہ بنانا، عبادت کرنا
فردا۔۔۔آنے والا کل، مستقبل

💢مفہوم:
ذرا یہ تو بتاؤ کہ اس دنیا سے کفر و باطل کے اندھیروں کو مٹانے والے کون لوگ تھے؟ وہ کون تھے جنہوں نے بنی آدم کو غلامی کی زنجیروں سے نجات دلوائی؟ حرمِ کعبہ کو کس نے اپنی سجدہ گاہ بنا کر توحيد کا عَلَم بلند کیا؟ وہ کون تھے جنہوں نے قرآنِ حکیم کو اپنے سینوں سے لگا کر علم و عمل میں ڈھالا؟
بے شک وہ تمہارے آباء و اجداد ہی تھے جنہوں نے یہ عظيم کارنامے سر انجام دیئے۔مگر تم تو ان کے مقابلے میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے مستقبل کی بہتری کے امیدوار ہو۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال (4) از عرفان صادق

یہ کوئی دن کی بات ہے، اے مرد ہوش مند! غیرت نہ تجھ میں ہو …

نوائے اقبال (2) از عرفان صادق

کتاب۔بانگ درا نظم ۔ظریفانہ نظم نمبر۔ 2 لڑکیاں پڑھ رہی ہیں انگریزی ڈھونڈ لی قوم …

Send this to a friend