صفحہ اول / بلاگرز فورم / حد سے گزرتا معاشرہ اور راہ اعتدال

حد سے گزرتا معاشرہ اور راہ اعتدال

حد سے گزرتا معاشرہ اور راہ اعتدال
طرزِ نگارش: محمد نعیم شہزاد

انسان کو جب کسی چیز پر اختیار حاصل ہو جائے تو وہ مطلق العنان بن جاتا ہے اور کسی پابندی اور حدود و قیود کی پرواہ نہیں کرتا حالانکہ انسان اگر غور کرے تو اس کی طاقت کتنی ہے اور اس کا اختیار کس قدر بخوبی اندازہ کر سکتا ہے مگر آنکھوں پر حرص و ہوا کی پٹی بندھی ہے اور انسان حق کو تسلیم کرنے سے اعراض برتتا ہے۔ یہیں سے انسان کی ہلاکت کا آغاز ہوتا ہے اور وہ اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو وبال میں مبتلا کر لیتا ہے۔
رواں ماہ میں ہی چشم فلک نے "میرا جسم میری مرضی” اور اس طرح کے دیگر بیہودہ نعروں والے پلے کارڈ اٹھائے کچھ حوا کی بیٹیوں کو دیکھا۔ ساری حقوق انسانی و حقوق نسواں کی تنظیموں نے اس نعرے کو خوب رواج دیا اور مخالفت کرنے والوں کو ظالم، تنگ نظر، ملا اور نہ جانے کن کن القابات سے نوازہ گیا مگر آج کیا ہوا کہ حوا کی ایک بیٹی پر ظلم و ستم کی انتہا ہو گئی مگر کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ ڈیفنس رہبر کے علاقہ میں ایک شخص نے اپنی بیوی کا سر مونڈ دیا اس بات پر کہ اس نے اپنے خاوند کے دوستوں کے سامنے ناچنے سے انکار کر دیا۔ کس قدر حیا باختگی ہے کہ خاوند اپنی بیوی کو اپنے دوستوں کے سامنے ناچنے کا کہے۔ حیا جب نہ رہے تو انسان کسی بھی انتہا تک گر سکتا ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگانا بہت آسان ہے۔

پولیس کو لکھوائے گئے بیان کی رو سے خاتون نے الزام لگایا کہ اس کا خاوند اس پر تشدد بھی کرتا ہے۔ تو وہ این جی اوز کہاں ہیں جن کو عورت کا سالن گرم کرنا تو گراں گزرتا ہے، عورت کا خاوند کو موزہ ڈھونڈ کر دینا تو دشوار معلوم ہوتا ہے مگر ایک خاتون کا خاوند کے ہاتھوں رسوا ہونا گوارہ ہے۔


کہیں یہ سب اس لیے تو نہیں کہ یہ شخص منشیات کا عادی اور آزاد خیال تھا نہ کہ تنگ نظر ملا۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کی جنگ حقوق نسواں کی ہے یا اسلام دشمنی کی کہ جہاں اسلامی اقدار کو زد پہنچتی ہو وہاں تو احتجاج ہو گا، ریلیاں نکلیں گی اور آزادی اظہار کا بھرپور مظاہرہ ہو گا لیکن اگر مسئلہ اسلامی کی بجائے غیر اسلامی اقدار و روایات کے مخالف ہو تو اس پر بولنا گناہ سمجھ لیا جائے۔ شاید موم بتی مافیا اس لیے خاموش رہی کہ اس خاتون نے بدچلنی اختیار نہیں کی جبکہ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر حقوق نسواں کی دعویدار میں آوارہ میں بدچلن کا نعرہ لگا چکی ہیں ۔ یہ دو رنگی چھوڑنا ہو گی۔ ہوش کے ناخن لو کہ دھوکہ کسی اور کو نہیں اپنے آپ کو دیا جا رہا ہے نقصان کسی دشمن کا نہیں اپنا ہو رہا ہے۔

Zong Games

یہ دنیا اور یہاں کی زندگی چند روزہ ہے جو بالآخر ختم ہو جائے گی۔ اس مختصر ناپائیدار زندگی کے لیے آخرت کی ہمیشہ کی زندگی کو داؤ پر لگانا کہاں کی عقلمندی ہے؟ ابھی بھی وقت ہے پلٹ آئیے۔ اپنی غلطیوں کی اصلاح کیجیے اور پاکیزہ زندگی کا آغاز کیجیے کہ یہ مہلت آخر کب تک ملتی رہے گی؟؟؟
حیا کو رواج دیجیے اور اپنی زندگیوں کا پاکیزہ بنائیے بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ہوتا ہے شب و روز اک تماشا میرے آگے

وطن عزیز پاکستان میں سابق صدر پرویز مشرف کے دور اقتدار میں میڈیا کو آزادی …

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت …

Send this to a friend