صفحہ اول / اسلامک بلاگز / د شمن کا ہنسنا

د شمن کا ہنسنا

دشمن کا ہنسنا …

تحریر : فیضان فیصل

اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم جن چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے اور صحابہ کو بھی پناہ مانگنے کی تلقین کرتے تھے ان سے ایک "شماتة الأعداء” بھی ہے. یعنی ایسی مصیبت یا غم کا سامنا کرنا جو دشمن کیلیے خوشی کا باعث ہو اور وہ ہنسی اڑائے.

طائف والوں نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ٹھکرا دی تو آپ نے انتہائی درد سے انہیں کہا تھا کہ ٹھیک ہے اگر آپ میری دعوت نہیں مانتے تو اتنا کرنا کہ قریش کو مت بتانا مبادا یہ بات انہیں میرا مذاق اڑانے کا موقع دے.

موسی علیہ السلام جب طور سے واپس آئے اور قوم کو بچھڑا پوجتے دیکھا تو اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی داڑھی دبوچ لی. اس پر ہارون علیہ السلام نے کہا تھا کہ میرے بھائی! دشمن کے سامنے میری ہنسی تو نہ اڑواؤ.

اسی طرح سلف کہا کرتے تھے کہ ہر مصیبت اور اہانت برداشت کی جا سکتی ہے مگر دشمن کی ہنسی نہیں…

اس کیفیت کا اندازہ ہر شخص کر سکتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں کسی بھی مسئلے پر آپ کا مخالف بجا یا بے جا طور پر آپ کی ہنسی اڑا رہا ہو تو کیسا لگتا ہے ؟! پھر ایسے مواقع پر آپ کے دوست یار بھی دشمن کے ساتھ مل کر آپ پر ہنسیں تو یہ وہ ذہنی اذیت ہے کہ جس سے بڑی ذہنی اذیت اور کوئی نہیں ہو سکتی!!

ان تمام باتوں کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قومی سطح پر آج ہم "شماتتِ اعداء” کا کام بھی خود ہی انجام دیتے ہیں. بلکہ ہم ہی انجام دیتے ہیں, دشمن کو یہ ہمت خدا کبھی نہ دے. اور پھر اذیت کا احساس تک نہیں ہوتا. کیونکہ ہمیں پاکستان سے بہت محبت ہے ؛ اگر مگر اور لیکن کے سابقوں لاحقوں کے ساتھ.

اس لیے ہم کہتے ہیں کہ فوج کی مخالفت کرنے والے نناوے فیصد لوگ کسی نظریے کی بنیاد پر مخالف نہیں ہیں. بس کیا ہے کہ کسی بدنام خاتون کے میڈیا سیل نے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا یا سیاسی تحالف نے نہر والے پل پر تنہا چھوڑ دیا یا سینتالیس کا تیر تاحال پارِ جگر نہ ہوا یا واللہ اعلم وقاص گورایہ یا طارق فتح کی طرح کوئی منوفیکچرنگ فالٹ رہ گیا …

اللہ دشمن کے ہنسنے سے پناہ میں رکھے. ہم یہ کام بھی خود ہی کر لیتے ہیں.

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

کھلونا یا ریڑھ کی ہڈی ۔۔۔ حامد المجید

باد سحر کے ٹھنڈے جھونکے اس کے دل میں مرجھائے سکون کے گلوں کو تازہ …

اردو، اک لمحہ فکریہ ۔۔۔ تحریر : غلام فاطمہ

بلاشبہ ہماری قومی زبان اردو کی بے وقعتی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: د شمن کا ہنسنا! This is the link: https://pakbloggersforum.org/%d8%af%d8%b4%d9%85%d9%86-%da%a9%d8%a7-%db%81%d9%86%d8%b3%d9%86%d8%a7/