صفحہ اول / اسلامک بلاگز / زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے…..

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے…..

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے ……..

تحریر : عثمان عبدالقیوم

(زیر نظر مضمون یاد رفتگان کے سلسلے میں ہمارے محترم ممبر عثمان عبدالقيوم صاحب نے تحریر کیا ہے جو مرحوم سے ان کے دلی تعلق کا بیان ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین)

لکھنے کی ہمت نہیں تھی مگر ایک وعدہ خود سے کیا تھا آج نبھا رہا ہوں۔

26 فروری کو جاب سے فارغ ہو کر گھر پہنچا تو مغرب کی اذان ہو رہی تھی نماز مغرب کی ادائیگی کے لیے مسجد پہنچا نماز ادا کی واپس گھر کو نکلنے لگا تھا کہ ایک دوست نے آواز دی فلاں بزرگ بلا رہے ہیں انکی بات سننے کی غرض سے فورا واپس پلٹا خیر انہوں نے پوچھا کاکا جی میرے بیٹے ضیا الرحمن کا کیا حال ہے میں نے بتایا کے بلکل ٹھیک ہیں اللہ کا شکر ہے کچھ مزید گفتگو کے بعد گھر پہنچا تو کھانا انتظار کر رہا تھا سارے گھر والے دسترخوان پر موجود تھے امی کا پیغام ملا کہ بیٹا تمہارے ماموں ضیا الرحمن رحمتہ اللہ علیہ سب کو یاد کر رہے تھے کھانا کھا کر یا پہلے ان سے مل آؤ۔

خیر کھانا کھایا بیگم اور بھائیوں کو ساتھ لے کر عیادت کی غرض سے انکے پاس پہنچا۔

ماموں ماشاءاللہ بہت خوش تھے بتا رہے تھے اب کھانسی بھی ٹھیک ہے اور دیگر بیماری میں بھی سکون ہے اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں باتوں ہی باتوں میں سیاست پر گفتگو شروع ہوئی کون کیا کر رہا ہے ماضی کو سامنے رکھتے ہوئے کون بہتر کون غلط اسی طرح سے دفاع پر بات شروع ہوئی پاکستان اور بھارت کے متعلق بات کرنے لگ گئے خیر باتوں باتوں میں واپسی کو تیار تھا کہ مجھے کہو ایک بات سنتے جانا زندگی کا کچھ پتہ نہیں میں واپس پلٹا۔

کہنے لگے عثمان تم نے پرنٹنگ کام شروع کیا تھا کیسا چل رہا ہے اس حوالے سے بات کرنی ہے ساتھ ہی مجھے اس فیلڈ کے حوالے سے رہنمائی دیتے رہے اور آخر میں یہ بات کیا نصیحت کی
” بیٹا یہ کام بہت وسیع اور کمائی والا ہے مگر اس کام میں ایمان کے ضیاع کا بھی خدشہ ہے لوگ آئیں گے فلاں کام کر دو فلاں کردو اتنے پیسے دوں گا ہر کوئی لالچ دے گا لیکن کوئی ایسا کام نہیں کرنا جو اللہ رب العزت کی ناراضگی کا سبب بنے یا جو کام پاکستان کے خلاف جاتا ہو چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی اس کام کو نہیں کرنا۔
سلام کہا اور واپس گھر پہنچا۔
دو دن نجی جاب اور گھر کے کام کاج میں اس قدر مصروف رہا۔ 28 فروری کی رات تھکاوٹ کی وجہ سے جلد سو گیا۔صبح فجر سے پہلے ایک آواز کان کو گونجتی ہے بھائی بھائی ماموں اللہ کو پیارے ہو گئے بے ساختہ الفاظ نکلتے ہیں انا اللہ وانا علیہ راجعون۔

پریشانی کے عالم میں ان کے گھر پہنچتا ہوں تو معلوم پڑا کے جو کل تک حیات تھے میت کی شکل میں کچھ دیر میں گھر پہنچ رہے ہیں انہی خیالوں میں مگن تھا کہ فون بجتا ہے فلاں جگہ آو ماموں کی میت کو گھر لے کر آنا ہے چند قدموں کا فاصلہ میلوں میں بدل گیا۔یوں کچھ لمہے میں ان کا جسد خاکی سامنے تھا۔

سوچتا ہوں!!!

آج ہمارے گھر سے میرے ماموں اس دنیا فانی کو خدا حافظ کہ گئے ہاں وہ میرے استاد بھی تھے صحیح معنوں میں علم و عمل کے پیکر احادیث مبارکہ کو اپنی زندگی کا لازم حصہ بنانے والے تھے قرآن کی تلاوت کرنے والے تھے اپنی زندگی کو دین اسلام اور دفاع وطن پر قربان کرنے والے تھے ہمہ وقت دعوت و تبلیغ میں مصروف رہنے والے ہمیشہ اس بات پر نصیحت کرنے والے جس پر خود عمل کرتے تھے۔
پاکستان کشمیر کے دفاع کے ساتھی انسان باعمل ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔
صلہ رحمی پر بات کرنے والا امن و محبت کی دعوت دینے والا۔
نیکیان بانٹنے والا ہمسایوں کے حقوق پورے کرنے والا غم کو چھپا کر خوشیاں بانٹنے والا۔
یہاں تک کے میرے سامنے رمضان کی یادیں آئیں بیماری اور کمزوری کے باعث روزے کی سنت پوری نا کر سکے ممانی سے کہتے سہری ساتھ کروں گا سہری کے ساتھ ہی دوپہر کا کھانا بنا کر فلاں جگہ رکھ دینا میں خود کھا لوں گا گھر والوں نے اسرار کیا نہیں تازہ بنا دیں گے کہنے لگے نہیں تم سب کے روزے ہوں گے روزے دار کے سامنے نہیں کھانا چاہئے بچے کیا سیکھیں گے ہاں ہمسایوں کی خبر گری کرنے والے تھے اگر کہیں جھگڑا ہوتا تو صلہ کی کوشش کرتے ہاں مگر آج وہ اپنے رب کے مہمان بن گئے تھے۔

چہرہ دیکھ کر سوچ میں تھا ماموں نے بہت سی بیماریوں کا مقابلہ کیا ضیابطیس سے سفر شروع ہوا بلڈ پریشر دل گردے اور پتہ نہیں کون کون سی اندرونی پریشانی میں مبتلا تھے۔
بیماری سے کبھی پریشان نا ہوتے تھے کبھی کہتے تھے شاید میرا کوئی عمل اللہ کو پسند نہیں آیا کبھی کہتے تھے بیماری زحمت نہیں رحمت ہے اس سے اللہ گناہ مٹا دیتا ہے انکی باتیں ذہن میں گردش کر رہی تھیں۔ اب ان کی صرف یادیں تھیں۔

ماموں ہمیشہ اچھے اخلاق کے مالک رہے کوئی گھر آتا تو مہمان نوازی میں پیچھے نا رہتے کئی مرتبہ مہمان نوازی اس قدر کرتے گھر والوں کو اپنے لیے دوبارہ کھانا تیار کرنا پڑھ جاتا کسی سوالی کو خالی نا جانے دیتے تھے اگر کوئی پہلی بار ملتا تو اس قدر اچھا سلوک ہوتا کہ شاید سوچتا ہو گا یہ میرا کوئی اپنا لگتا ہے اپنے پروفیشنل کام ڈیزائنگ میں بہت سے نوجوانوں کو کام سکھا گئے یہاں تک کہ اپنا فن اس قدر بانٹتے رہے کہ استاد جی استاد جی کہنے والوں کی ایک فصل اور نسل تیار ہو گئی اور قیمت صرف یہ رکھی کہ اس فن کو اسلام و پاکستان کے لیے استعمال کرنے کا وعدہ لیا اور دعاؤں میں یاد رکھنے کی درخواست کیخ یر نماز فجر کے بعد جنازے کی اطلاع دی ہی تھی فون بلا تعطل شور مچا رہا تھا ہر سننے والا غمگین تھا۔

پاکستان کے معروف سماجی تنظیم ایف آئی ایف کے چئیرمین حافظ عبدالروف صاحب کہتے
میں کام میں بعض اوقات ڈنڈی مار جاتا حقیقت تو یہ ہے میں نے جماعت کے کام کو ضیاء الرحمن سے سیکھا ہے اس کو معاوضے کی لالچ نہیں تھی مزید کہنے لگے میں جانتا ہوں ضیاء کو آج سے 16 ، 17 سال قبل بہت آفرز آئیں لوگوں نے غیر شرعی کام پر بھاری معاوضہ کی آفر کی مگر اس نے پیسے کو ٹھکرا دیا اور دین کے کام کو جاری رکھنے کا ارادہ کیا۔

انکے ایک دوست نے یوں لکھا:
” اسلامی ڈیزائننگ کے چمکتے ستارے استاذ ضیاء الرحمن بھائی انتقال فرما گئے ”
ایک معروف رائٹر عثمان قدوسی صاحب کے تاثرات یہ تھے
” سوچ رہا تھا ان کی کی ساری پریشانیاں اور فکریں ختم ہو گئی ہیں۔ بلکہ جیسا وہ متقی انسان تھا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اب اس کی خوشیوں اور اطمینان والی زندگی شروع ہوئی ہے۔ اور مجھے اللہ کی رحمت پر یقین ہے کہ ان شاءاللہ اس کا شمار نفس مطمئنہ والوں میں ہو گا۔ سوائے انبیاء کے کوئی بھی گناہوں سے پاک نہیں لیکن میرا یہ بھی گمان ہے کہ ضیاء نے گذشتہ تین سال سے جو بیماریوں کا سامنا کیا ہے یہ بیماریاں صرف اسے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے تھیں۔ مجھے ضیاء سے بہت محبت تھی، ہم سب کو تھی۔ اس کی بڑی وجہ اس کا پرخلوص اخلاق اور ہم سب سے محبت تھی”

ان کے ایک دوست پیغام نیوز کے ایڈیٹر اور ریسرچر یوسف سراج یوں لکھ گئے
” ضیاء الرحمن بھائی ایک عجیب شخص تھے جو اسلام کے کام کی خاطر دن رات ایک کر گیا کرسی کے ساتھ کرسی ہو گیا بس کام کے دوران نماز کا وقفہ لیتا تھا دین اسلام اور نیکی کے کام کرنے کا سوچتا تھا ان کی ڈیزائنگ آج کیا کئی سالوں تک اسلام کی سربلندی کے لیے کام آئے گی ہاں میں نے ان کو کبھی مایوس ہوتے نہیں دیکھا آنے والی مصیبت یا پریشانی کو بڑی آسانی سے خوشی سے گزار دیتے۔

ایک دوست یوں بیان کر گیا:

"ہاں وہ بہت نیک تھا زندگی کے وہ ایام جو عیش میں گزرنے تھے وہ اسلام کی سربلندی میں گزار گئے نظر کی خرابی کے باوجود اللہ کے کلام قرآن مجید کے نسخے بنا گئے احادیث کی کتب ، تفاسیر کیا بہت سی اسلام اور
پاکستان پر مبنی کتابیں تیار کر گئے۔
ایک دوست یوں بولا:

پردے کے حوالے سے بہت پختہ تھے سخت گرمی کے دن جب بجلی گھنٹوں آنکھیں نہیں ملاتی تھی تب بھی جسم سے قمیض باوجود اسرار نا اتارتے کہتے اللہ نے منع فرمایا ہے۔

مقامی مسجد کے معروف عالم دین محمد حسین المدنی کچھ یوں کہ گئے:
ضیا الرحمن بھائی مرحوم رحمتہ اللہ علیہ نے کبھی کسی انسان کو تکلیف نہیں پہنچائی ہمیشہ خوش اخلاق تھے حق گوئی کے پیکر تھے نظر کمزور ہونے کے باوجود مسجد سے تعلق نہیں چھوڑا۔

ایک محلے دار یوں بولا میں وہابیوں کا جنازہ نہیں پڑھتا کیونکہ انکا جنازہ لمبا ہوتا میں زیادہ دیر کھڑے نا رہنے کے سبب وہابیوں کا جنازہ نہیں پڑھتا مگر ضیاء الرحمن مرحوم کا جنازہ کیسے چھوڑتا اسکی نصیحتیں یاد آتی ہیں اسکا ہنسنا اور ہر بات پر اللہ کا شکر ادا کرنا یاد آتا ہے کہتا ہے کہ اس لیے اس کے جنازے میں شرکت کر رہا ہوں اللہ اسکے بہانے مجھے معاف کر دے گا۔
گویا ہر طرف سے نیک تمنائیں سامنے آ رہی تھی کہیں سے کوئی گلہ شکوہ نا ملا۔

یہاں تک کے اس نیک فرشتہ نما انسان کا جنازہ پڑھانے کے کئی علماء بے تاب تھے جنازے میں بہت سے لوگ تھے دور دراز سے لوگ جمع تھے تہجد گزار لوگ تھے امیر جماعت الدعوہ کی جانب سے وفد بھی پہنچتا ہے۔
ہاں ہر آنکھ رو رہی تھی ہر کوئی ماموں کے لیے اللہ سے دعا کر رہا تھا نماز جنازہ کے لئے حافظ عبدالرحمن مکی صاحب کا نام سامنے آیا انہوں نے نماز جنازہ کا حق ادا کی اللہ سے بہت دعائیں التجائیں کیں رو رو کر دعائیں کیں ہاں مجھے یقین سا تھا جس طرح ان کی نماز جنازہ کے لیے علماء کرام کی کثیر تعداد آئی ہے لوگ کی کثرت ہے سر ہی سر تھے میرا رب ضرور معاف کرے گا مکی صاحب کے الفاظ تھے ضیا سویا ہوا دیکھو غور سے لگتا ہے مطمن ہو کر سویا ہے چہرہ منور ہے۔

آخر میں یہ کہوں گا ماموں ضیاء الرحمن 45 سال کی عمر میں دنیا فانی کو چھوڑ گئے مگر یہ نصیحت کر گئے اپنے روز و شب و روز کو اللہ کی رضا میں گزار دو ایسے کاموں کا انتخاب کرو جس سے رب راضی ہو دنیا تو چھوڑ گئے مگر بہت سے لوگوں اللہ کے راستے پر لگا گئے کوئی نماز کا پابند ہو گیا کوئی لین دین کے معاملے میں
ہر کوئی ماموں کی محبت و پیار میں غمگین تھا ہاں اس محبت کو لوٹانےکا وقت ہے ماموں ہمیں اپنا مقروض کر کے چلا گے اور یہ قرض ہم صرف ایک ہی طریقے سے اتار سکتے ہیں۔ انکے لیے کثرت سے دعائے مغفرت کر کے۔ ہر نماز کے بعد اس کے لیے خصوصی دعا کریں۔ یہاں تک کہ ہمارا اپنا وقت آ جائے۔ اور مجھے اپنے رب سے امید ہے کہ ماموں کے لیے کی گئی دعائیں ہماری بخشش کا بھی سامان بنیں گی۔ ان شاءاللہ

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

Send this to a friend