صفحہ اول / بین الاقوامی / سرجیکل سٹرائیک 2.0 اور چائے والا

سرجیکل سٹرائیک 2.0 اور چائے والا

سرجیکل سٹرائیک 2.0 اور چائے والا 

طرزِ نگارش : محمد نعیم شہزاد

 

بھارت جنوبی ایشیاء میں ایک جنونی ملک ہے اور اسے بولی ووڈ پہ بڑا ناز بھی ہے۔ اڑی سرجیکل سٹرائیک کی فلمی نمائش کے بعد بھارت اور زیادہ پر امید اور پر اعتماد ہو گیا کہ وہ جب چاہے گھر بیٹھے بٹھائے اپنی فلم انڈسٹری کو استعمال کر کے سرجیکل سٹرائیک کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ بھارت میں عام انتخابات قریب آتے ہی مودی سرکار نے پلوامہ کا ڈرامہ رچایا اور اپنے زیر تربیت فوجی دستے کے جوانوں کو چیتھڑوں میں بدل ڈالا۔ یہ وہی مودی سرکار ہیں جنھوں نے اڑی سرجیکل سٹرائیک کے بعد ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے اپنے جوانوں کی بڑی فکر ہے۔ مگر الیکشن جیتنے کے لیے انھیں جوانوں کو قربان کر دیا۔ اور پھر بپھر گئے کہ ہم اس حملے کا بدلہ لیں گے اور اس کی شروعات ہوئی کسانوں کی طرف سے جنھوں نے اعلان کر دیا کہ پاکستان کو لال ٹماٹر نہیں بھیجیں گے جسے سبزیکل سٹرائیک کے لقب سے نوازا گیا۔ ویسے ہندوستانی قوم اتنی غیرت مند قوم ہے کہ جس گائے کو ماں کہتی ہے اور اس کی پوجا کرتی ہے اس گائے کو برآمد بھی کرتی ہے مگر یہاں غیرت اور قسم کی تھی۔ آخر کو ہندو جوانوں کا خون ہوا تھا۔ گویا ہندوستانیوں کے نزدیک جوانوں کی قدر ماں سے زیادہ ہوئی۔ اب مودی سرکار نے بھی ٹھان لی کہ اڑی پر تو محض بالی کا لالی پاپ کام آ گیا تھا اب کی بار کچھ کر کے بھی دکھایا جائے۔ میڈیا، تجزیہ کار اور حکومتی اہلکار سب ہی ایک بات کر رہے تھے کہ بدلہ چاہیے۔ پاکستان کو سبق سکھانے کی ٹھان کر بھارتی فضائیہ نے ایک مزاحیہ حرکت کی جو مزاحیہ سے بڑھ کر مضحکہ خیز تھی۔ بھارت سے رات کی تاریکی میں اڑان بھر کر پاکستان کی حدود میں جیسے ہی داخل ہوئے پاکستانی شاہین فوراً سے جھپٹے اور بھارتی پائلٹوں کو اپنا پے لوڈ درختوں پر پھینک کر بھاگ کر جان بچانا پڑی۔ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی، یہ پے لوڈ بھارت کے جھوٹ کی قلعی کھولنے کو کافی تھا۔ اس کے باوجود بھارت نے دعویٰ کیا کہ 1000 کلو گرام بارودی مواد گرایا گیا اور لیزر گائیڈڈ ہونے کی وجہ سے عین ٹارگٹ کو ہٹ کیا اور مبینہ طور پر جیش محمد کے ٹریننگ کیمپ پر حملہ کر کے 350 افراد کو شہید کر دیا۔ یہاں بھی بالآخر بالی ووڈ کی مدد لی گئی اور پاکستانی F16 طیاروں کی مشقوں کے دوران کی ویڈیو دکھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ یہ بھارتی طیارے ہیں جو سرجیکل سٹرائیک کے لیے آئے۔ حالانکہ اس سٹرائیک میں سوائے چند درخت گرنے کے اور کوئی نقصان نہ ہوا تو گویا یہ ہوئی شجریکل سٹرائیک۔ ویسے بھی بھارت کے ایک ریٹائرڈ فوجی آفیسر جنرل بکشی سرجیکل سٹرائیک کو سجریکل سٹرائیک ہی کہتے ہیں۔ بھارت کے اس جھوٹے پروپیگنڈا کے زیر اثر پاکستان کو سبق سکھانے کا مطالبہ اور زور پکڑ گیا اور بھارت نے دوبارہ طیارے پاکستان بھیجنے کا ارادہ کر لیا۔ اس بار دن دیہاڑے بھارتی طیارے پاکستانی حدود میں داخل ہوا چاہتے تھے کہ انھیں پاک فوج کے شاہینوں نے مار گرایا۔ اور دو پائلٹ افسران کو گرفتار کر لیا۔ اس پر بھی بھارت کا ڈرامہ دیکھنے کو ملا کہ جس پائلٹ کے حوالے سے بھارتی عوام ٹویٹر ٹرینڈ چلا رہی تھی، کے کوائف کو اپنی ویب سائٹ سےمٹا دیا۔ ادھر سشما سوراج نے بھی پرامن رہنے کی خواہش کا اظہار کر دیا۔ مگر ہندو کی مکاری سے واقف ہیں اور اس کی بغل میں چھری منہ میں رام رام کی خصلت سے بخوبی واقف ہیں۔ عالمی سطح پر بھی پاک بھارت کشیدگی ختم کرانے پر زور دیا جا رہا ہے۔ مگر بھارت کے آئندہ عزائم کے بارے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا جس کی ساری سرگرمی خود ساختہ خود کش حملہ ہے۔ ویسے اس پلوامہ کے ڈرامہ کو بنیاد بنانا A storm in a cup of tea کے مترادف ہے۔ اور گرم گرم چائے پینے سے کیا نقصان ہوتا ہے یہ تو چائے والا ہی بہتر جانتا ہے۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

محسن اردو’ چیف جسٹس جواد ایس خواجہ! ۔۔۔ تحریر : فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

یہ ہیں پاکستان کی عدلیہ میں شفاف ترین نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ لکھ …

کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ۔۔۔ عاصم مجید

یہ جملہ میرا نہیں بلکہ ایسے دور اندیش شخص کا ہے جس کی بصیرت کی …

Send this to a friend