صفحہ اول / اقبالیات / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات

از: عرفان صادق

تھے ہمیں ایک ترے معرکہ آراؤں میں
خشکیوں میں کبھی لڑتے ، کبھی دریاؤں میں
دیں اذانیں کبھی یورپ کے کلیساؤں میں
کبھی افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤں میں
شان آنکھوں میں نہ ججتی تھی جہانداروں کی
کلمہ پڑھتے تھے ہم چھاؤں میں تلواروں کی

⭕کتاب کا نام۔ بانگ درا
نظم کا عنوان ۔ شکوہ
بند نمبر6

♨مشکل الفاظ کے معنی
معرکہ آراؤں ۔۔۔۔جنگ لڑنے والوں میں
مقابلہ کرنا
کلیساؤں ۔۔۔۔۔گرجوں۔۔۔۔عیسائیوں کی عبادت گاہ ۔۔۔۔چرچ
۔نہ جچتی۔ نہ اچھی لگتی ۔۔۔۔ناپسندیدہ
جہانداروں ۔۔۔۔۔بادشاہوں ۔۔۔سرداروں

💢مفہوم: شاعرِمشرق عرض کرتے ہیں۔اے خالق و مالک!!تیری خاطر ہم میدان کارزار گرم رکھتے تھےتاکہ توحید کا پرچار ہو شرک نیست ونابود ہو۔اس لیے ہم بحروبر میں لڑ جاتے تھے۔ہمیں اپنی جان کی مطلق پروا نہ تھی۔ کیونکہ تیری ذات سے آشنائی نے ہر خوف سے بےباک کردیا تھا۔اور تیری توحید سے محبت کا عالم یہ تھاکہ کبھی یورپ کےگرجوں میں تو کبھی افریقہ کے تپتے لق ودو صحرائوں میں اللہ اکبر کی صدائیں بلند کی ہیں۔نعرہ تکبیر سے ہر سو مقدس وپاکیزہ نغمے بکھیر دیے۔تیرے عشق میں ایسے ڈوبے کہ دنیا کی کوئی شان وسطوت آنکھ میں نہ ججتی تھی تیری محبت نے یوں سرشار کیا کہ تلواروں کے سائے میں توحید کا پیغام عام کیا۔ تیرے محبوب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی امت کی شان سب سے جدا اور نرالی تھی۔ ایک حدیث مبارکہ بھی اسی ضمن میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان الجنة تحت ظلال السیوف” بلاشبہ جنت تو تلواروں کے سائے تلے ہے۔

پاک بلاگرز فورم

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

قومی زبان اردو اور ہمارے رویے

ملاحظہ کیجئے! کراچی کے ادیبوں کی انگریزی غلامی کی منفرد مثال! اس تقریب کا عنوان …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا ، نظم: عہد طفلی بند 2

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا …

Send this to a friend