صفحہ اول / اردو ادب / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات

از: عرفان صادق

ہم جو جیتے تھے ،تو جنگوں کی مصیبت کے لیے
اور مرتے تھے ترے نام کی عظمت کےلیے
تھی نہ کچھ تیغ زنی اپنی حکومت کے لیے
سربکف پھرتے تھے کیا دہر میں دولت کےلیے؟
قوم اپنی جو زرومالِ جہاں پر مرتی
بت فروشی کے عوض بت شکنی کیوں کرتی!

⭕کتاب۔۔۔۔بانگ درا
نظم ۔۔۔۔شکوہ
بند نمبر7

♨مشکل الفاظ کے معنی
تیغ زنی۔۔۔۔۔تلوار چلانا۔۔۔جنگ لڑنا۔۔۔۔مقابلہ کرنا
سربکف۔۔۔۔۔سرہتھیلی پر۔۔۔۔جان کی بازی لگانا
دہر۔۔۔۔زمانہ۔۔۔دنیا
بت فروشی ۔۔۔۔بت بیچنا ۔۔۔۔بت پرستی
عوض۔۔۔۔بدلہ۔۔۔۔صلہ
بت شکنی۔بت توڑنا ۔۔۔۔بت پاش پاش کرنا

💢مفہوم ۔
حکیم الامت فرماتے ہیں! میرے اللہ تعالی امت مسلمہ کی زندگیاں تیرے لیے وقف تھیں تیرے نام کی سربلندی کے لیے جنگ کی مصیبتیں بخوشی اٹھاتے تھے۔ہماری جانیں تیری عظمت پہ نچھاور ہوتی تھیں۔مقصدِ جنگ کبھی بھی سلطنت وبادشاہت نہ تھا ۔۔۔۔دنیاوی شان وشوکت ہمیں کبھی مطلوب نہیں رہی۔اور کیا ہم ہوس مال ومتاع کے لیے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے تھے؟یہ مال ومتاع یہ ہوسِ دنیا ہمارا مطمع نظر ہر گز نہ تھا۔اگر امت مسلمہ مال وزر کی اتنی شیدائی ہوتی تو بتوں کو توڑنے کے بجائے بت بیچنے کا کام کرتی۔ سنتِ ابراہیم علیہ السلام کا پرچار کرتے ہوئے امت مسلمہ کی آغوش محبت میں غزنوی پرورش نہ پاتے۔بلکہ رسم آزری نبھاتی۔پر میرے مالک تیری وفا اور رضا ہمیں ہر شے سے بڑھ کر مطلوب تھی۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (گلِ رنگیں، بند 4)

یہ پریشانی مری سامانِ جمعیّت نہ ہو..! یہ جگر سوزی چراغ خانہء حکمت نہ ہو..! …

Send this to a friend