صفحہ اول / اردو ادب / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات
عرفان صادق 

بتانِ رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہو جا
نہ تورانی رہے باقی، نہ ایرانی، نہ افغانی

میانِ شاخساراں صحبت ِمرغِ چمن کب تک…؟
ترے بازو میں ہے پروازِ شاہینِ قہستانی

⭕کتاب۔۔۔۔بانگ درا
نظم۔۔۔۔ طلوعِ اسلام

🔴مشکل الفاظ
بتانِ رنگ و خوں…. رنگ اور نسل کے بت یعنی رنگ و نسل کا غرور

میان شاخساراں…. شاخوں کے درمیان

صحبت ِمرغ ِچمن…. گلشن کے پرندوں کی محفل

قہستانی: خراسان کا ایک علاقہ ہے قہستان… وہاں کے شاہین بہت مشہور ہیں

💢مفہوم: ان اشعار میں علامہ اقبال یہ کہہ رہے ہیں کہ اے مسلمان تمہیں چاہیے کہ رنگ و نسل کا غرور ترک کر کے ملت اسلامیہ کا مکمل حصہ بن جاو اور اس انداز میں بنو کہ نہ تمہاری کوئی الگ پہچان ہو… اور نہ تمہیں کوئی ملت سے علیحدہ کرنے کی کوشش میں کامیاب ہو سکے. تمہارا دشمن جب تمہیں دیکھے تو اسے نہ کہیں ایرانی نظر آئے اور نہ کہیں افغانی. بلکہ اسے یہی محسوس ہو کہ ہر مسلمان صرف مسلمان ہے. جب تمہارے درمیان نسلی یا علاقائی تعصب ختم ہو جائے گا پھر دشمن کا کوئی بھی وار تم پر کارگر نہیں ہو گا ان شا اللہ.

علامہ اقبال مزید فرماتے ہیں کہ اے نوجوان تم گلشن میں پرندوں کی طرح کب تک شاخوں کے ہی درمیان بیٹھے رہو گے…؟ تمہیں چاہیے کہ چمن چھوڑ کر پہاڑوں کا رخ کرو کیونکہ تمہارے بازو میں جو طاقت رکھی گئی ہے وہ شاخوں کے درمیان اڑانے کے لئے نہیں پہاڑوں پر قدم مضبوط کرنے کے لیے ہے. یعنی اے امتِ مسلمہ کے نوجوان….! اپنے گلی محلے کو چھوڑ کر اپنی پرواز بلند کرو اور مشکل سے مشکل چیلنجز کو قبول کرو کیونکہ تمہارے بازوؤں میں ان چیلنجز کو قبول کرنے کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے.

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا ، نظم: عہد طفلی بند 2

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

Send this to a friend