صفحہ اول / Uncategorized / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

 

عشق کی خیر ،وہ پہلی سی ادا بھی نہ سہی

جادہ پیمائی تسلیم و رضا بھی نہ سہی
مضطرب دل صفت قبلہ نما بھی نہ سہی
اور پابندی آئین وفا بھی نہ سہی
کبھی ہم سے ،کبھی غیروں سے شناسائی ہے
بات کہنے کی نہیں تو بھی تو ہرجائی ہے

⭕کتاب۔بانگ درا
نظم۔شکوہ
بندنمبر ۔22

♨مشکل الفاظ کے معنی
جادہ پیمائی ۔راستے پر قائم رہنا
قبلہ نما ۔وہ آلہ جو کعبہ کی سمت بتاتا ہے
آئین وفا ۔وفا کے قانون ۔وفا کا طریقہ
ہرجائی۔ بےوفا

💢مفہوم۔
شاعرمشرق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ کہ ہمارے رب بےشک ہم میں عشق کی پہلی سی ادا وہ گرمی باقی نہیں رہی۔ہم تسلیم ورضا کے راستے پر اس طرح قائم نہیں رہ سکے جس طرح قائم رہنا فرض اور حق تھا۔ہمارے دل میں قبلہ نما جیسی بےچینی کی صفت بھی مفقود ہے۔جو صحیح سمت کے تعین کے لیے بےقرار رہتا ہے۔ہم اب خود بھٹکے ہوئے آہو ہیں کسی دوسرے کو سوئے حرم پہنچانے کی کوئی صفت کہاں باقی ہوگی۔اب ہم تیری وفا کے راستوں کے بھی کاربند نہیں رہے۔وفا کے قاعدے فراموش کردیے۔ لیکن گستاخی معاف تو نے بھی غیر اقوام کوعزیزکرلیا۔کل تک ہم محبوب تھے آج دوسروں پر نظرکرم ہے ۔کہنا زیب تو نہیں دیتا پر تو نے بھی ہم سے عہدوفاداری نہیں نبھایا

 

Chrome extension

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

گھر کی خاطر

آج میں بہت غمگین تھا کیوں کہ ہم نے بیرونی دباؤ کی خاطر ، ہمیں …

تنظیمی کلچر

زیادہ دن پرانی بات نہیں ایک لنڈے کے کامریڈ سستے انقلابی کو سمجھا رہا تھا …

Send this to a friend