صفحہ اول / اردو ادب / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سر فاراں پہ کیا دین کو کامل تُو نے
اک اشارے میں ہزاروں کے لیے دل تُو نے
آتش اندوز کیا عشق کا حاصل تُو نے
پھونک دی گرمی رخسار سے محفل تُو نے
آج کیوں سینے ہمارے شرر آباد نہیں ؟
ہم وہی سوختہ ساماں ہیں، تجھے یاد نہیں ؟
⭕نظم: شکوہ
بند نمبر: تیئیس
♨مشکل الفاظ : سر فاران : ایک پہاڑی کا نام، آتش اندوز : جلنے کا مادہ؛ شرر آباد: شعلوں سے آباد ؛ سوختہ ساماں : اپنا سب کچھ فنا کر دینے والا
💢مفہوم : اے رب کائنات تُو نے فاران کی چوٹی پر دینِ محمدیﷺ کی تکمیل کی۔تُو اتنا قادر ہے کہ ایک اشارے پر ہزار ہا لوگ تیرے گرویدہ ہو گئے۔انسانی دلوں کو تُو نے اپنے عشق سے مسخر کر لیا۔اپنے جلووں سے ساری محفل میں حرارت پیدا کر دی۔لیکن کیا وجہ ہے کہ آج ہمارے سینوں میں عشق کی چنگاری موجود نہیں ، جبکہ شاید تجھے یاد ہو کہ ہم نے تو تیری خاطر اپنا سب کچھ داؤپت لگا دیا تھا۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

جواب شکوہ بند نمبر 34 از عرفان صادق

دشت میں ،دامنِ کہسار میں، میدان میں ہے بحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان …

جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 18 عرفان صادق دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک …

Send this to a friend