صفحہ اول / اردو ادب / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

وادی نجد میں وہ شورِ سلاسل نہ رہا
قیس دیوانہء نظارہء محمل نہ رہا
حوصلے وہ نہ رہے، ہم نہ رہے، دل نہ رہا
گھر یہ اجڑا ہے کہ تو رونقِ محفل نہ رہا
اے خوش آں روز کہ آئی و بصد ناز آئی
بے حجابانہ سوۓ محفلِ ما باز آئی

⭕کتاب: بانگِ درا
نظم: شکوہ
بند نمبر: چوبیس

🔴مشکل الفاظ:
وادیِ نجد۔۔۔عرب کا صحرائی علاقہ جو کہ لیلٰی کا وطن تھا
شورِ سلاسل۔۔۔زنجیروں کا شور
قیس۔۔۔مجنوں کا نام جو کہ لیلٰی کا عاشق تھا
دیوانہ۔۔۔پاگل،بے تاب
نظارهء محمل۔۔۔لیلٰی کے کجاوہ کا نظاره
رونقِ محفل۔۔۔مجلس کی گہماگہمی
خوش۔۔۔اچھا، بابرکت
آں روز۔۔۔وہ دن
بصد ناز۔۔۔سینکڑوں ناز و اداؤں سے
بے حجابانہ۔۔۔بغیر پردے کے
سوۓ محفلِ ما۔۔۔ہماری محفل کی طرف
باز آئی۔۔۔دوباره لوٹ آنا

💢مفہوم:
اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ عرب کے صحرا میں نہ تو مجنوں کی بیڑیوں کا شور باقی رہا اور نہ ہی مجنوں لیلٰی کے نظارے کیلیۓ بیتاب نظر آتا ہے یعنی مسلمانوں میں نہ تو اب عشقِ حقیقی کی خاطر مصائب و آلام برداشت کرنے کا وہ حوصلہ باقی رہا اور نہ ہی وہ جرات و کردار باقی ہے کہ جس کی بدولت ہمارے اسلاف نے وقت کے فرعونوں کو شکست دی تھی۔
اب ہمارے وہ اسلاف گئے جو تیری خاطر باطل قوّتوں سے ٹکر لیا کرتے تھے اور وہ جذبے بھی گئے جو انہیں عشقِ حقیقی کی خاطر سختیاں برداشت کرنے پر آمادہ کیا کرتے تھے۔
شاید تیرے محبوبﷺ کی یہ امت اسلیۓ اجڑ چکی ہے کہ اب تیری یاد ان کے دلوں میں باقی نہیں رہی۔
وہ دن کتنا خوش قسمت ہو گا جب تو اپنے پورے جلووں کے ساتھ دوبارہ ہماری محفل میں رونق افروز ہو گا اور ہم تجھے بے حجاب دیکھ سکیں گے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend