صفحہ اول / اردو ادب / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

بادہ کش غیر ہیں گلشن میں لب جو بیٹھے
سنتے ہیں جام بکف نغمہ کو کو بیٹھے
دور ہنگامہ گلزار سے یک سو بیٹھے
تیرے دیوانے بھی ہیں منتظر ‘ھو’ بیٹھے
اپنے پروانوں کو پھر ذوق خود افروزی دے
برق دیرینہ کو فرمان جگر سوزی دے۔

⭕کتاب: بانگِ درا
نظم: شکوہ
بند نمبر: 25

♨مشکل الفاظ :
بادہ کش: شرابی۔
جام بکف: ہاتھ میں جام لیے۔
خود افروزي: اپنے آپ کو چمکا دینا۔
برق: پرانی آسمانی بجلی۔ ديرينہ
جگرسوزی: جگر کو جلانا
لب جو: ندی کےکنارے
منتظر ھُو: نعرۂ مستانہ

💢مفہوم : اے خدا جو لوگ تیری تعلیمات کی نفی کرتے ہیں اور تیرے دین کو تباہ و برباد کرنے پہ تُلے بیٹھے ہیں، انکو تو نے عیش و عشرت کے تمام سامان فراہم کیئے ہوئے ہیں۔ وہ تو رقص و نغمہ کی محفلیں سجائے ہوئے ہیں۔ یہی نہیں وہ اس قدر بدمست اور مدہوش ہیں کہ باقی دنیا کن ہنگاموں سے دوچار ہےوہ اس سے قطعاً بیزار ہیں۔ جبکہ تیرے چاہنے والت مسلمان تو خود کو تیری نعمتوں سے محروم سمجھنے لگے ہیں۔ اور تیری عنایات کے اشاروں کے منتظر ہیں۔ لہٰذا اے خدا! اپنے چاہنے والوں میں پھر سے عمل کا نیا جذبہ پیدا کردے تاکہ وہ پھر سے فعال ہو کر اس دنیا میں سرخرو ہو سکیں۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا ، نظم: عہد طفلی بند 2

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

Send this to a friend