صفحہ اول / اقبالیات / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

قُمریاں شاخِ صنوبر سے گریزاں بھی ہوئیں
پتّیاں پھول کی جھڑ جھڑ کے پریشاں بھی ہوئیں
وہ پرانی رَوِشیں باغ کی ویراں بھی ہوئیں
ڈالیاں پیرہَنِ برگ سے عُریاں بھی ہوئیں
قیدِ موسم سے طبیعت رہی آزاد اس کی
کاش گلشن میں سمجھتا کوئی فریاد اس کی!

⭕کتاب: بانگِ درا
نظم: شکوہ
بند نمبر انتیس

🔴مشکل الفاظ:
قُمریاں۔۔۔فاختائیں(پہلے مسلمان)
گریزاں ہونا۔۔۔کترانا، بھاگنا
رَوِشیں۔۔۔راہداریاں،راستے
پیرہَنِ برگ۔۔۔پتوں کا لباس
عُریاں۔۔۔ننگی
قیدِموسم۔۔۔حالات کی قید
گلشن۔۔۔باغ

💢مفہوم:
شاعرِ مشرق اپنا دکھ مالکِ حقیقی کے سامنے بیان کرتے ہوۓ فرما رہے ہیں کہ اے ربّ العالمین! تیرے محبوب ﷺ کی امت میں جو دردِ دل رکھنے والے افراد تھے اور حالات کی بہتری کے خواہاں تھے وہ مایوس ہو کر کونوں میں جا دُبکے۔قوم کی موجودہ حالتِ زار نے انہیں اس قدر رنجیدہ کر دیا کہ انہوں نے قوم کی بہتری کا خیال دل سے نکال دیا۔
میری قوم نے اپنے اسلاف کے طور طریقوں کو بھلا دیا۔ان کے دل ان جذبات سے خالی ہو گئے کہ جن کی بدولت ہمارے اسلاف نے ایک عرصہ تک دنیا پر حکمرانی کی۔
حالات کی اس قید کے باوجود میرا دل اب تک مایوس نہیں ہے۔کاش کہ میری قوم کے دیگر افراد تک بھی میری فریاد پہنچے اور ان میں سے کوئی میرا ہم نوا بن جاۓ۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend