صفحہ اول / اردو ادب / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

لطف مرنے میں ہے باقی،نہ مزا جینے میں
کچھ مزا ہے تو یہی خونِ جگر پینے میں
کتنے بے تاب ہیں جوہر مرے آئینے میں
کس قدر جلوے تڑپتے ہیں مرے سینے میں
اس گلستاں میں مگر دیکھنے والے ہی نہیں
داغ جو سینے میں رکھتے ہوں،وہ لالے ہی نہیں

⭕کتاب:بانگِ درا
نظم: شکوہ
بند نمبر تیس

🔴مشکل الفاظ:
خونِ جگر پینا۔۔۔قوم کی حالت دیکھ کر کُڑھنا
جوہر۔۔۔جذبے
آئینہ۔۔۔دل
جلوے تڑپنا۔۔۔جذبوں کی تڑپ
گلستاں۔۔۔باغ(ہندوستان)
لالہ۔۔۔وہ پھول جس میں سیاہ داغ ہوتا ہے

💢مفہوم:
اب تو نہ مرنے میں کوئی مزا باقی رہا ہے اور نہ ہی زندگی میں کوئی لطف محسوس ہوتا ہے۔میری حالت تو یہ ہے کہ اپنی قوم کو غفلت کی نیند سوتا دیکھ کر کُڑھتا رہتا ہوں اور اپنا خونِ جگر جلاتا رہتا ہوں۔
ان تمام تر حالات کے باوجود میرے سینے میں جذبوں کا ایک تلاطم بپا رہتا ہے اور میرا دل قوم کے بہتر مستقبل کے خواب بُنتا رہتا ہے۔
لیکن میں کیا کروں؟ کہ میری اس دھرتی میں کوئی بھی ایسا فرد موجود نہیں جو میری طرح قوم کا درد اپنے دل میں محسوس کر سکے اور قوم کی درست سمت رہنمائی کا بیڑا اٹھا سکے۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

جواب شکوہ بند نمبر 34 از عرفان صادق

دشت میں ،دامنِ کہسار میں، میدان میں ہے بحر میں، موج کی آغوش میں، طوفان …

جواب شکوہ بند نمبر 18 از عرفان صادق

جواب شکوہ  بند نمبر 18 عرفان صادق دمِ تقریر تھی مسلم کی صداقت بے باک …

Send this to a friend