صفحہ اول / اردو ادب / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات

از: عرفان صادق

معزز قارئین۔۔۔ !

آج سے ہم علامہ اقبال رح کی شہرہ آفاق نظم جوابِ شکوہ شروع کرنے جا رہے ہیں۔
اس کے متعلق ایک بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ بزبانِ اقبال اللہ تعالی کی طرف سے ان شکووں کا جواب ہے جو *شکوہ* میں انسان کی طرف سے اللہ کی ذات سے کیے گئے تھے۔۔ یہ کوئی مجازی عشق کی داستان ہرگز نہیں ہے۔۔۔
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پر نہیں طاقت ِپرواز مگر رکھتی ہے
قدسی الاصل ہے، رفعت پہ نظر رکھتی ہے
خاک سے اٹھتی ہے، گردوں پہ گزر رکھتی ہے

عشق تھا فتنہ گر و سرکش و چالاک مرا
آسماں چیر گیا نالہء بے باک مرا

⭕کتاب:بانگ درا
نظم :جواب شکوہ
پہلا بند

🔴مشکل الفاظ:
طاقت ِپرواز…. اڑنے کی طاقت
قدسی الاصل… جس کی اصل یعنی بنیاد پاک ہو
رفعت….. بلندی
گردُوں…. آسمان
عشق…. شوق یا محبت کے معنی میں لیا جائے
فتنہ گر…. فتنہ پھیلانے والا
نالہ ِ بےباک…. بے خوف فریاد

💢مفہوم:
شکوہ نظم کے کچھ ہی عرصہ بعد علامہ اقبال نے جواب شکوہ کے نام سے نظم لکھی جس کا آغاز انہوں نے اس طرح کیا کہ اپنے شکوے کو آسمان کی طرف بلند ہونے کے منظر کو شاعری میں پیش کیا. اور وہ یوں کہ یہ شکوہ یہ فریاد دل سے نکلی ہوئی پر تاثیر آواز تھی جو کسی بناوٹ سے پاک تھی اور اپنی مضبوط اساس رکھتی تھی. چنانچہ پر نہ ہونے کے باوجود خاک سے اٹھی اور آسمان پر جا پہنچی.

اس طاقت کو علامہ اقبال نے اپنے شوق (عشق )سے تعبیر کیا کہ میرا شوق اس قدر سرکش و چالاک تھا کہ میری فریاد آسمان کا سینہ چیرتی ہوئی اپنی منزل مقصود تک جا پہنچی.

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا ، نظم: عہد طفلی بند 2

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

Send this to a friend