صفحہ اول / اقبالیات / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات
عرفان صادق

ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو! یہ اندازِ مسلمانی ہے!
حیدری فقر ہے، نَے دولتِ عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے؟
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوۓ تارکِ قرآں ہو کر

🔴کتاب:بانگِ درا
نظم:جوابِ شکوہ

⭕مشکل الفاظ:
مست مئے: شراب کے نشے میں چُور
ذوقِ تن آسانی: آرام طلبی کی لذّت
حیدری فقر: حضرت علیؓ کی مانند دنیاوی لالچ سے پاک زندگی
نَے: نہ ہی
دولتِ عثمانی: حضرت عثمانؓ کی مانند سخاوت کا جذبہ
اسلاف: بزرگ
نسبت: تعلق
خوار: ذلیل
تارک: چھوڑنے والا

💢مفہوم: علامہ اقبالؒ دورِ حاضر کے مسلمان کی حالتِ زار پر تبصرہ کر رہے ہیں کہ تم میں سے ہر ایک نے آرام طلبی اور دین سے دوری کو اپنا شعار بنا لیا ہے۔نہ تو تم میں حضرت علیؓ کی مانند دنیاوی مال و متاع سے بے نیازی ہے اور نہ ہی حضرت عثمانؓ کی طرح تمہارے دل میں سخاوت کا جذبہ ہے۔تم لوگ کس قسم کے مسلمان ہو؟تم کو اپنے بزرگوں کے کردار سے کیا نسبت ہے؟انہوں نے تو دینِ اسلام پر عمل پیرا ہو کر زمانے میں عزّت کمائی جبکہ تم قرآنی احکامات سے روگردانی کر کے ذليل و خوار ہو رہے ہو۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (گلِ رنگیں، بند 4)

یہ پریشانی مری سامانِ جمعیّت نہ ہو..! یہ جگر سوزی چراغ خانہء حکمت نہ ہو..! …

Send this to a friend