سلسلہ اقبالیات
از: عرفان صادق

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی
تو صاحبِ منزل ہے، کہ بھٹکا ہوا راہی!
کافر ہے مسلماں، تو نہ شاہی،نہ فقیری
مومن ہے تو کرتا ہے فقیری میں بھی شاہی
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسا
مومن ہے تو بےتیغ بھی لڑتا ہے سپاہی

⭕کتاب ۔۔۔۔بال جنریل
نظم ۔۔۔۔غزل

♻مشکل الفاظ
فطرت۔۔۔۔قدرت۔۔۔۔دل۔۔۔ضمیر
مقبول ۔۔۔۔پسندیدہ
صاحب منزل۔۔۔۔منزل کا اہل
راہی۔۔۔۔مسافر
شاہی۔۔۔۔۔بادشاہی ۔۔۔۔سلطنت
شمشیر ۔۔۔۔۔تلوار
بےتیغ۔۔۔۔۔بغیر تلوار کے

💢مفہوم
شاعر مشرق فرماتے ہیں۔۔۔اے میرے مسلماں تو اپنے دل سے فتوی طلب کر کہ یہی تیرے نبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی سنت ہے اور دل کی گواہی فطرت کی گواہی ہے یہی مقبول و پسندیدہ ہے پھر تجھے علم ہوجائے گا کہ تو صراط مستقیم پر ہے کہ نہیں منزل کا اہل ہے یا بھٹک چکا ہے۔
اور جان لے کہ اگر مومن کافری کے طور طریقے اپنا لے تو نہ اسے بادشاہی کی نعمت ملتی ہےنہ درویشی کی۔وہ دین ودنیا دونوں سے محروم رہتا ہے اور اگر صاحب ایماں ہو تو درویشی میں بھی بادشاہوں کی شان وشوکت مقدر بن جاتی ہے
کافر کا بھروسا تلوار پر ہوتا ہے دنیاوی سازوساماں کو طاقت وقوت سمجھتا ہے مال ومتاع پہ اکڑتا ہے۔صاحب ایماں بغیر تلوار کے بھی سیسہ پلائی دیوار بن جاتا ہے وہ اللہ تعالی کے عشق سے لبریز ہوتا ہے یہ ایمانی قوت ہر طاغوتی طاقت سے ٹکرا جاتی ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا ، نظم: عہد طفلی بند 2

تکتے رہنا ہائے وہ پہروں تلک سوئے قمر وہ پھٹے بادل میں بے آوازِ پا …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

Send this to a friend