صفحہ اول / اقبالیات / سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق

سلسلہ اقبالیات 

از: عرفان صادق

اے باد صبا کملی والے سے جا کہیو پیغام مرا
قبضے سے امت بے چاری کے دیں بھی گیا دنیا بھی گئی
یہ موجِ پریشاں خاطر کو پیغام لبِ ساحل نے دیا
ہے دور وصالِ بحر ابھی تو دریا میں گھبرا بھی گئی

⭕کتاب….بانگ دراز
نظم….غزلیات

⭕مشکل الفاظ کے معانی
بادصبا…صبح کی ہوا
موج پریشاں…بے قرار موج
وصال بحر…سمندر سےملاقات


Widget not in any sidebars

⭕مفہوم :

زل کے پہلےہی شعر میں علامہ اقبال بادصبا یعنی صبح کی ہواسےمخاطب ہو کے انتہائی یاسیت بھرے لہجے میں کہتے ہیں کہ آنحضرت(ص)جن کو کملی والے سے موسوم کیا جاتا ہے انہیں یہ پیغام پہنچا دینا کہ امت مسلمہ کی بے عملی کے سبب دین تو بہت پہلے ان سے چھن چکا تھااب دنياوی میدانوں میں بھی وہ پستی کا شکار ہیں
دوسرےشعر میں کہا گیا ہے کہ دریا میں جو موج بے قراری سے اچھل رہی تھی اسے ساحل نے یہ پیغام دیا کہ ابھی تو سمندر دور ہے۔اس معمولی سے دریا میں تجھے اس قدر پریشانی ہے مراد یہ ہے کہ جو مسلمان دنیا میں معمولی آزمائشوں پر پریشان ہو جائيں وہ اپنی حقیقی منزل یعنی جنت کیسے حاصل کریں گے جس کا راستہ ہی آزمائشوں سے بھرپور ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (نظم: عہد طفلی بند 1)

تھے ديارِ نَو زمین و آسماں میرے لیے وسعتِ آغوشِ مادر اک جہاں میرے لیے …

نوائے اقبال، شرح بانگِ درا (گلِ رنگیں، بند 4)

یہ پریشانی مری سامانِ جمعیّت نہ ہو..! یہ جگر سوزی چراغ خانہء حکمت نہ ہو..! …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: سلسلہ اقبالیات از عرفان صادق! This is the link: https://pakbloggersforum.org/%d8%b3%d9%84%d8%b3%d9%84%db%81-%d8%a7%d9%82%d8%a8%d8%a7%d9%84%db%8c%d8%a7%d8%aa-3/