صفحہ اول / بلاگرز فورم / فیلنگ آف اے لوز گورننس ۔۔۔ سلمان آفریدی

فیلنگ آف اے لوز گورننس ۔۔۔ سلمان آفریدی

صاحب کا ااقبال بلند ہو ۔۔۔ بھاگ لگے رہن ۔۔۔  مسند مبارک تا بہ ابد سلامت رہے ۔۔۔ نادار مگر ناداری کی لکیر سے نیچے ہی گھسٹتا چلا جا  رہاہے  ۔۔۔ اور غریب ہے کہ ناپید ہی ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔ رہے نام اللہ کا

جناب والا ! جب سے آپ کی حکومت آئی ہے عوام تبدیلی کی راہ تک رہے ہیں ۔ اس میں کچھ قصور تو حضور کے قبل اور بعد از الیکشن بیانات کا ہے جن میں آنجناب کی جانب سے نوے روز میں تبدیلیوں کا سیل رواں برپا کرنے ‘ کھڑے کھڑے ملک و قوم کے مسئلے حل کرنے اور مملکتِ خداداد کی ڈوبتی ناؤ کو پار لگانے کے بلند و بانگ دعوے تھے جبکہ جلتی پر تیل "انڈیلنے” کا کام آپ  کے "نو رتن” سر انجام دیے چلے جاتے ہیں

حضور کے سب دعوے منظور ۔۔۔ آپ کی ہر منطق قبول ۔۔۔ تکلیف کا سبب مگر یہ بات ہے حکومت کے ہوتے ہوئے بھی محسوس ایسا ہوتا ہے کہ ساکنان سر زمین شاد باد ” بے حکومتے ” ہی بس رہے ہیں۔ آپ کی عقابی نگاہ تلے ڈالر مہاجن کا سود ہوا جاتا ہے جبکہ دواؤں کی قیمتیں گرمی کے تاپ کی  طرح چڑھ اور اتر رہی ہیں۔ عین آپ کی ناک کے نیچے ذخیرہ اندوزوں ، گراں فروشوں اور عوام کا خون چوسنے والوں کی چاندی ہوئ پھرتی ہے۔

عالی جناب ! پوچھنا یہ ہے کہ جب آپ اس قدر اچھی تیاری کےساتھ الیکشن میں اترے تھے کہ کامیابی آپ کو واضح نظر آتی تھی تو ایسے میں کوئی ” شیڈو کیبنٹ ” بنانے یا ” پالیسی میکنگ ” نامی کام کرنے کا کوئی تردد کیوں نہیں کیا گیا ؟ حکومت میں آنے سے پہلے اور زمام اقتدار سنبھالنے کے بعد وزراء کے ناکافی ” ہوم ورک ” ، لمبی چوڑی بیان بازیوں اور کار حکومت چلانے کے تجربہ کی کمیابی کا سد باب کرنے کے واسطے ” قیادت ” نے کونسے اقدامات اٹھاے ؟ اگر یہ معلوم تھا اور لازماً  احتمال موجود تھا کہ ” اسٹیٹس کو ” کے حامی سیاسیان اور اسٹیبلیشمنٹ کرپشن کے خلاف جاری مہم کی کامیابی کے اثر کو کم سے کم کرنے کے لیے مصنوعی  بحرانوں کا سہارا لے سکتے ہیں تو ان سے نمٹنے کو ہماری دوربین قیادت نے کیا حکمت عملی وضع کی ؟؟؟

والا تبار ! گستاخی کی معافی چاہتا ہوں کہ خو گر حمد سے تھوڑا سا گلہ سننا آپ کے ، اس ملک کے اور سب سے بڑھ کر اس قوم کے فائدے میں ہے ۔ عرض فقط اتنی سی ہے کہ آپ کی دستیابی ، عوام میں موجودگی  اور کسی نہ کسی بہانے عوامی رابطہ مہم بہت سی پریشانیوں ، سازشوں اور پراپیگنڈوں کا گلا اپنےآپ گھونٹ دے گی۔ مزید برآں یہ کہ  عوام کو یہ احساس  ہر آزمائش سے گزرنے پر تیار رکھے گا کہ ہوا کے سرد و گرم تھپیڑوں میں اور کچھ نہ سہی مگر آپ ان کے درمیان کھڑے ہیں اور وہ اس افتاد میں تنہا نہیں وگرنہ هم اس سےبڑھ کر
کہہ

بھی

کیا سکتے

ہیں

کہ

صاحب کا اقبال بلند ہو ۔۔۔ بھاگ لگے رہن ۔۔۔  مسند مبارک تا بہ ابد سلامت رہے ۔۔۔ نادار مگر ناداری کی لکیر سے نیچے ہی گھسٹتا چلا جا  رہاہے  ۔۔۔ اور غریب ہے کہ ناپید ہی ہوتا چلا جاتا ہے ۔۔۔ رہے نام اللہ کا

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

مسئلہ کشمیر، امریکہ اور ہمارے ماضی کے حکمران

پاکستان نے اپنے قیام کے ساتھ ہی امریکہ سے دوستی اور اپنے تعلقات قائم کر …

پاکستان میں نفاذ اردو، کتنی ذہانت کا متقاضی ہے؟ پروفیسر محمد سلیم ہاشمی

دنیا بھر میں جو جس ملک کی عوامی زبان ہے وہی اس کی قومی اور …

Send this to a friend