صفحہ اول / اسلامک بلاگز / قرآن مجید سائنسی اور انقلاب آفریں کتاب ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

قرآن مجید سائنسی اور انقلاب آفریں کتاب ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی

قرآن مجید کسی خاص فرد یا قوم کو ہدف بنا کر اپنے خیالات پیش نہیں کرتا بلکہ ہر انسان اور ہر قوم کو یکساں پیغام دیتا ہے۔
قرآن مجید کوئی قدیم دستاویز نہیں اور نہ ہی اس میں صرف محدود وقت اور خطہ عرب کی قوم کی باتیں ہیں بلکہ اس نے عقلی دلائل کے ساتھ ایمان اور کفر جیسے نظریات میں تقسیم کی ہے۔
ڈیڑھ ہزار صدی گزرنے کے باوجود قرآن مجید اپنی جدت اور اپنی تاثیر سمیت پوری آن بان کے ساتھ آج بھی موجود ہےاور مکمل محفوظ بھی ہے۔
قرآن مجید نے معاشرتی اقدار کی بنیادیں رکھیں اور مہذب دنیا آباد کرنے کا سلیقہ دیا۔
جدید سائنس نے کائنات کے بارے میں جن حقائق کا انکشاف کیا ہے یہ بھی ابتداء ہے مگر اس متأخر سائنسی تحقیق سے کہیں آگے کے اشارے قرآن مجید نے ڈیڑھ ہزار سال قبل دے دئیے تھے جن کا پہلے کسی کو علم نہ تھا اور نہ اسکی حقیقت سائنسدانوں پر منکشف ہوسکی۔

قرآن مجید میں
(سورہ الانبیاء آیت نمبر 30)
میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں
کیا ان کافروں کو نہیں معلوم کہ آسمان و زمین دونوں باہم ملے ہوۓ تھے پھر ہم نے ان کو الگ الگ کیا ہم نے ہی ہر شے کو پانی سے زندگی عطا کی کیا اس پر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔

پہلی آیت میں لفظ “رتق” اور “فتق” کے الفاظ پر غور کریں تو پوری سائنس سمجھ آجاتی ہے۔
مگر ساتھ ہی موجودہ سائنسی تعبیرات کی علمی کم مائیگی و عاجزی بھی بہت اچھی طرح سمجھ آتی ہے۔
رتق کسی چیز کا باہم گڈ مڈ اور باہم گتھا ہوا ہونا۔
اور فتق کسی چیز میں بڑا سا شگاف ڈال کر اسے کھول دینا یا دو متصل چیزوں کو علیحدہ علیحدہ کر دینا۔
Big Bang
یا
Little Bang
جیسی بدلتی تھیوریز میں ابھی یہ پختگی کہاں؟؟؟

قرآن مجید
(سورہ الحجر آیت نمبر 66)
میں اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ
أرسلنا الریاح لواقع
بیان کرتے ہیں جو کہ بہت قابل غور ہے کہ ایک مرتب نظام کے تحت ہوائیں بن کر آتی ہیں اور بیجوں کو ایک دوسرے کے ساتھ ملا (pollinate) کر چلی جاتی ہیں نیز ہر قطرہ بارش x,y کا بھی حامل ہوتا ہے جو اس بیج میں جامؤثر ہوتا ہے۔

سورہ النازعات آیت نمبر 30 میں قرآن مجید نے زمین کے گردش کرنے اور اس کے بیضوی شکل کا مگر گول ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

بارش کیسے ہوتی ہے؟؟
قرآن مجید نے سورہ النور آیت نمبر 43 میں مکمل تفاصیل دے دی ہیں۔
سورہ الانبیاء آیت نمبر 33 میں سائنس کا ایک اور علم سکھا دیا کہ
چاند ، سورج ،گلیکسیز ،بلیک ہول اور سیاروں کے مقررہ راستے ہیں اور وہ گردش کر رہے ہیں۔

سائنس کے تمام علوم قرآن مجید کی مرہون منت ہیں۔
بچہ رحم مادر میں کن تدریجی مراحل سے گزرتا ہے؟
اسکی تشکیل کیسے ہوتی ہے ؟
اور وہ کتنے پردوں میں رہتا ہے اور اسکی حفاظت کیسے کی جاتی ہے؟؟
سورہ الزمر آیت نمبر 2میں قرآن کریم نے کھول کر بیان کردیا۔

نیز

خلا میں ٹوٹ پھوٹ کا نظام بڑا ہیبت ناک نظام ہے اور اس سے جتنا پھیلاؤ ہورہا ہے حضرت انسان اچھی تک حیرت زدہ ہے۔
قرآن کہتا ہے( الذاریات :47 )
ہم کائنات کو وسعت اور پھیلاتے جارہے ہیں اب خود کو اور اپنے (planet) کو اس (Cosmos) کا حصہ تو ضرور سمجھنے لگا ہے۔

اس کے علاوہ قرآن مجید میں ان گنت بیان شدہ حقائق موجود ہیں جن کے سامنے حیاتیات ،ارضیات ،اور طبیعات اور دیگر علوم و سائنسز ابھی طفل مکتب کی ہی حیثیت رکھتے ہیں۔

قرآن مجید میں کسی قسم کی تبدیلی یا انحراف نہ ہونے کا ثبوت ایک رپورٹ سے ملتا ہے جو اس صدی کے اوائل میں جرمنی میونخ یونیورسٹی سے ایک طویل ریسرچ کے بعد شائع کی گئی جس کے الفاظ یہ ہیں:
*”قرآن مجید کے نسخوں کے مقابلے کا جوکام ہم نے شروع کیا تھا وہ ابھی مکمل تو نہیں ہوا لیکن ابھی جو نتیجہ نکلا ہے وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کے ان نسخوں میں کہیں بھی کوئی اختلافی روایت نہیں ملتی”*

دنیا کی ہر زبان وقت کے ساتھ بدل جاتی ہے لیکن قرآن مجید کی وجہ سے عربی زبان آج تک محفوظ ہے اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی۔
قرآن مجید اللہ تعالی کا سب سے بڑا جامع کلام ہے جس میں بہت ہی گہرے معنی پوشیدہ ہیں۔
اس میں تاریخ یے،نظام ہائے جاہلیہ کا ذکر ہے راست عقائد و احکام بھی ہیں۔
ملحدومشرک کی خرافاتی سوچ، عمل اور ذہنیت کا تذکرہ بھی ہے اولیاء الرحمن اور اولیاء الشیطان کی صفات بھی ہیں۔
انبیاء اور صدیقین اور شہداء صالحین کی منقبت اور واقعات بھی ہیں۔
ان سب اسباق میں عبرتیں ہیں اور تاریخ ہے۔
قرآن پاک کی صحیح تلاوت قلوب کفار پر اپنا اثر چھوڑتی ہے اور اس کا صحیح فہم مومن کو اندر سے توڑ پھوڑ کر رب ذوالجلال کے آگے جھکا دیتا ہے۔
تعلیم قرآن کے بعد عملی تبدیلی کا مطلب واضح ہوجاتا ہے کہ فکروعمل کی اٹھان اب دین کی تعلیمات کے مطابق ہونی ہے نہ کہ خاندانی، آبائی، عرفی یا معاشرتی اقدار پر۔

یہ بغاوت کی دعوت نہیں بلکہ دین سے بچھڑے ہوؤں کو راہ راست پر لانے کی دعوت ہے۔
خود بدلیئے ماحول بدل جائے گا

اور اپنی زندگی کو قرآن مجید کے پہلوؤں اور احکامات کا پابند بنائیے تاکہ اللہ رب العزت کی راضا و خوشنودی پانے میں کامیاب ہو سکیں۔

اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو.

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

کاش! کوئی عبدالمجید ثانی ہو

بائیس نومبر بروز جمعرات ہزاروں کافروں نے شیطان کے پجاریوں نے چرچ کے سامنے مجمع …

تمہارا ہمراہی۔۔۔ تحریر ✍️⁩: حامدالمجید

تم عروج کے منصب پہ فائز ہو کر فلاح و کامیابی کا سنہری تاج پہننا …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: قرآن مجید سائنسی اور انقلاب آفریں کتاب ۔۔۔ ام ابیہا صالح جتوئی! This is the link: https://pakbloggersforum.org/%d9%82%d8%b1%d8%a2%d9%86-%d9%85%d8%ac%db%8c%d8%af-%d8%b3%d8%a7%d8%a6%d9%86%d8%b3%db%8c-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%86%d9%82%d9%84%d8%a7%d8%a8-%d8%a2%d9%81%d8%b1%db%8c%da%ba-%da%a9%d8%aa%d8%a7%d8%a8/