صفحہ اول / بلاگرز فورم / قرارداد پاکستان ۔۔۔اسد عباس خان

قرارداد پاکستان ۔۔۔اسد عباس خان

قرار دادِ پاکستان

اسد عباس خان

مسلمان برصغیر میں ایک فاتح کی حیثیت سے آئے تھے۔ یہاں اپنی سلطنتیں قائم کرنے کے بعد انھوں نے بڑی رواداری کا مظاہرہ کیا اور مقامی لوگوں کی نہ تو تذلیل کی اور نہ ہی ان سے اچھوتوں جیسا سلوک کیا۔ دنیا میں ہندوستان واحد ملک ہے جہاں مسلمان آٹھ سو سال تک حکمران رہے، لیکن نہ تو انھوں نے ہندوؤں کو زبردستی مسلمان بنایا اور نہ ہی ان کے مذہبی معاملات میں مداخلت کی، یہی وجہ ہے کہ آٹھ سو سال حکومت کرنے کے باوجود وہ یہاں اقلیت میں رہے۔ لیکن ہندوستان کو سلطنت برطانیہ کے زیر تسلط چلے جانے کے بعد ہندوؤں نے انگریز سرکار کی خوب آؤ بھگت کی اور ان کے ساتھ مل کر مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی اور ہمیشہ برطانوی سامراج کی آنکھ کا تارا بنے رہے۔ ہندوستان کی آزادی کا وقت قریب آیا تو ان کے تیور بھی بدلنے لگے۔ مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال پہلے ہی ہندوستان کی تقسیم اور مسلمانان برصغیر کے لیے علیحدہ مملکت کا تصور پیش کر چکے تھے۔ جبکہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت "مسلم لیگ” کے 27 ویں سالانہ اجلاس جو 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک (موجودہ اقبال پاک) لاہور میں منعقد ہوا’ باقاعدہ طور پر الگ مسلم ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ جو پہلے قرار داد لاہور کے نام سے معروف ہوئی اور قرار داد پاکستان کی بنیاد بنی۔ اس وقت ہندوستان کی بڑی سیاسی جماعت کانگریس نے جب یہ کہا کہ ہندوستان میں صرف ایک ہی قوم بستی ہے تو قائداعظم محمد علی جناح نے کہا کہ مسلمان اور ہندؤ ایک نہیں بلکہ دو الگ قومیں ہیں جن کا مذہب الگ الگ ہے۔ ہندؤ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ مسلمان صرف ایک اللہ کی عبادت کرتے ہیں۔ ان کی تہذیب، تمدن، کلچر، زبان، رہن سہن اور کھانے پینے کے طریقے الگ الگ ہیں۔ ان کے ہیرو الگ الگ ہیں ایک کا ہیرو ہے تو دوسرے کا ولن۔ مسلمانوں اور ہندوؤں میں کوئی ایک چیز بھی مشترک نہیں۔
اسی نظریہ پاکستان پر مملکت خداداد پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ اور برصغیر کے تمام مسلمان ایک کلمہ طیبہ کی بنیاد پر متحد ہوۓ۔ جب رنگ و نسل زبان و مسلک کا فرق ختم ہوا۔
درحقیقت قائد اعظم کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے پاکستان بناکر اپنی تہذیب، مذہبی اقدار اور ثقافت کو بچا لیا ورنہ متحدہ ہندوستان میں مسلمانوں کا وہی حشر ہوتا جو اسپین میں مسلمانوں کا ہوا۔ قرار داد پاکستان کے اغراض و مقاصد کی تکمیل، مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کے خواب کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہمیں پھر سے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر ایک قوم بننا ہوگا۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

بس بہت ہو گیا ۔۔۔ اسد عباس خان

بس بہت ہو گیا  اسد عباس خان دشمن نے گزشتہ ایک ڈیڑھ دہائی تک کبھی …

یومِ پاکستان اور ہماری ہماری ذمہ داریاں

یوم پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں تحریر: محمد عبداللہ گل آج 23 مارچ ہے یہ …

Send this to a friend