صفحہ اول / بلاگرز فورم / قصاص میں زندگی ہے!!! عشاء نعیم

قصاص میں زندگی ہے!!! عشاء نعیم

دنیا میں آج کل انسانی حقوق کی بہت بات ہوتی ہے۔ ہر میدان میں انسانوں کے حقوق کا خیال رکھا جا رہا ہے۔ یہ بات بہت اچھی ہے۔انسانی حقوق کو روند کر کسی بھی معاشرے کا ترقی کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔انسان کا استحصال کر کے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔


جب انسانوں کو ان کے حقوق نہ ملیں تو وہ ذہنی طور پہ غلام ذہن بن جاتے ہیں۔غلامی کو اپنا مقدر جان لیتے ہیں مایوس یو جاتے ہیں۔پھر وہ کچھ اللہ کی عطا کردہ صلاحیتوں کو استعمال نہیں کر پاتے کیونکہ وہ مایوس ہوتے ہیں ذہنی ڈسٹرب ہوتے ہیں۔وہ قوت فیصلہ سے محروم ہو جاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں ہم کچھ نہیں کر سکتے ہماری کوئی نہیں سنے گا،جو کریں گے یا تو ٹھیک نہیں ہوگا یا کوئی اس کو اہمیت نہیں دے گا۔
ہماری کوئی سنے گا نہیں، کوئی آگے نہیں بڑھنے گا۔
نتیجتہ وہ اپنی کوششیں ترک کر دیتا ہے۔
اب آتے ہیں کہ کیا انسان کو تمام قسم کے حقوق ملنے چاہیئں؟؟
جو بھی چاہتا ہو جس طرح چاہتا ہو اس کو آزادی ہونی چاہئے؟؟
یا کوئی روک تھام کوئی لمٹ بھی ہونی چاہیئے؟
کسی کام پہ (گناہ ثواب سے ہٹ کر) دنیا میں کوئی سزا بھی ہونی چاہیئے یا یہ بھی انسانیت کی تذلیل ہے یا بے رحمی کے زمرے میں آتا ہے؟
اس کے لئے نتائج کو دیکھنا پڑے گا۔
کسی کام کا کیا فائدہ کیا نقصان ہے اس سے ہی اس کے نفاذ یا غیر نفاذ کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔
اگر ایک انسان چوری کرتا ہے تو اس کو کوئی سزا نہ دی جائے تو کیا ہو گا؟
اگر کوئی انسان کسی انسان کو قتل کردے اور اسے کچھ نہ کہا جائے یا تھوڑا بہت جرمانہ کر دیا جائے تو کیا ہوگا؟
چور کو سزا نہ دی جائے تو سب کو معلوم ہے کہ وہ اس کا حوصلہ بڑھے گا۔وہ اگر چھوٹی موٹی چیز چراتاہے اور اسے معلوم ہونے پہ کچھ نہ کہا جائے کہ یہ بھی انسان ہے کوئی بات نہیں تو وہ مزید بڑی چیز کو چرانے کی طرف جائے گا اور بالآخر ایک پکا ڈکیٹ بن جائے گا۔
اور اس کو دیکھ کر دوسروں کے بھی حوصلے بڑھیں گے اور وہ بھی اس برائی کی طرف مائل ہونگے۔
کیا اس سے انسانوں کے حقوق ادا ہوئے؟
اس ایک انسان کو انسان سمجھ لیا گیا اور جن کا مال جاتا ہے تکلیف اور اذیت سے گزرتے ہیں کیا ان کے انسانی حقوق ادا ہو گئے؟؟


اس ایک کی وجہ سے مزید چور بنے اور مزید لوگوں کی زندگیاں تباہ ہوئیں وہ؟
اور اگر اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے تو کیا ہوگا؟
کیا اس کے حوصلے بڑھیں گے یا وہ مزید کرنے کا سوچے گا بھی نہیں؟
باقی لوگ اس کو دیکھ کر عبرت پکڑیں گے اور خوف زدہ ہونگے کہ ایسا کرنے سے یہ سزا ہوگی اور وہ باز رہیں گے؟
اسی طرح قتل کی سزا بھی قتل ہے۔یعنی سر کے بدلے سر۔
اس کو اللہ تعالی نے کہا کہ
قصاص میں زندگی ہے
اب انسان سوچتا ہے کہ یہ کیا ایک انسان سے غلطی ہوگئی بدلے میں اس کو قتل ہی کر دیا جائے تو زندگی کیسے؟
اس کے چھوٹے چھوٹے بچے اس کی بیوی سب لاوارث یو جاتے ہیں۔اس کے ماں باپ روتے رہ جاتے ہیں ۔بعض اوقات تو کوئی کمانے والا بھی نہیں ہوتا۔
پورا خاندان تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔
تو عرض ہے کہ ایسا اسلامک لاز کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے ہوتا ہے۔پہلے نمبر پہ یہ کہ اسلام نے معاف کرنے کا بھی آپشن رکھا ہے کہ مدعی چاہے تو معاف کر دے اور بدلے میں دیت لے لے۔
دوسرے نمبر پہ اگرمدعی نہیں مانتا تو سٹیٹ بس قاتل کو پھانسی لگا کر فارغ نہیں ہو جاتی بلکہ قاتل کے گھر والے سٹیٹ کی ذمہ داری ہوتے ہیں کہ ان کا نان و نفقہ و دیگر ضروریات کا خیال رکھے۔نہ کہ لا وارث بنا کر چھوڑ دے۔
پھر قاتل کو سزا دینے سے اس کے شر کا بھی ساتھ ہی خاتمہ ہو جاتا ہے۔
مزید لوگ قتل کے نام سے بھی خوف کھاتے ہیں ان کی جرات نہیں ہوتی کہ ذرا ذرا سی بات پہ لوگوں کی زندگیوں کے چراغ گل کردیں۔
اس طرح معاشرہ افراتفری دنگا فساد اور قتل و غارت سے بچ جاتا ہے اور پرامن ہو جاتا ہے۔
ہمیشہ غلط کام کی سزا دی جاتی ہے تاکہ کہ غلط کاموں کے معاملے میں انسانوں کے حوصلے پست ہوں اور سزا کا ڈر ہو۔
پھر سزا بھی جرم کی نوعیت سے ہی دی جاتی ہے۔
کیا مغربی معاشروں میں قوانین نہیں؟
کیا وہاں قانون توڑنے پہ سزا نہیں؟
کیا وہاں مختلف جرائم کی سزا مختلف نہیں؟
جن کے سحر میں ہم گرفتار ہیں۔
جو خوامخواہ اسلامک قوانین پہ آئے دن انگلی اٹھاتے ہیں اور افسوس ہمارے لوگ خوامخواہ اٹھ کر ساتھ شروع ہو جاتے ہیں اور مدع سرائی کرنے لگتے ہیں۔
بغیر نتائج پہ غور کیے۔
آج کل سزائے موت کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے اٹھا کون رہا ہے جو خود دہشت گرد ہیں جو انسانوں کا خون پانی کی طرح بہا رہے ہیں شاید اسی لیے وہ قاتلوں کی سزائے موت کے خلاف ہیں۔کیونکہ وہ خود دہشت گرد ہیں ان کے ہاتھ مسلمانوں کے خون سے رنگے نہیں خون میں ڈوبے ہیں۔
جگہ جگہ کروڑوں مسلمانوں کو بموں سے اڑانے والے قاتل کے معاملے میں بڑے رحم دل بن کر دکھاتے ہیں۔
مجرموں کے حقوق مانگتے ہیں۔ گویا کہ جرائم کی اجازت مانگتے ہیں۔ حق سمجھتے ہیں جرائم کرنا۔
لیکن کوئی حقائق تو دیکھے۔ اور موازنہ کرنا ہے تو سعودی عرب میں اور امریکہ و یورپ میں جرائم کی شرح کا موازنہ کر لیں۔ ان ممالک میں قتل کرنا آسان ہے اور سعودی عرب میں تقریبا ناممکن۔
ہر جرم میں یہ لوگ آگے ہیں۔
دوسری طرف یہ ظالم اللہ کے قانون کو ظلم کہنے والے(استغفراللہ ) کروڑوں مسلمانوں کو اس لئے ختم کر رہے ہیں کہ ہمیں خطرہ ہے ان سے۔اور جو قتل کر چکا اس کی سزائے موت ناقابل برداشت اور ظلم ہو گئی۔اس طرح قاتلوں کو ریلیف دے کر انسانی جان کے ضیاع کو آسان بنایا جاتا ہے۔
سو ہر بات کے لئے کان اور آنکھیں کھلی رکھو مسلمانو ہر بات میں جی حضوری چھوڑ کر عقل شعور اور اہنے مذہب کو دیکھا کریں۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

معاشرے میں بڑھتا بگاڑ، ذمہ دار کون؟؟؟ زین اللہ خٹک

موجودہ دور میں ہر جگہ بگاڑ ہے۔ عام آدمی سے لیکر اعلیٰ سطح تک ہر …

جرائم سے پاک پاکستان ۔۔۔ عاصم مجید

کل یا عرینہ ( قبیلوں ) کے کچھ لوگ مدینہ میں آئے اور بیمار ہو …

Send this to a friend