صفحہ اول / بلاگرز فورم / قومیت پرستی، اک زہر قاتل ۔۔۔ محمد عبداللہ

قومیت پرستی، اک زہر قاتل ۔۔۔ محمد عبداللہ

ہم چار ہزار پرانی تہذیب کے وارث ہیں پاکستان تو کل کی پیداوار ہے اس کو کس نے حق دیا ہمارے اوپر مسلط ہونے کا؟

ہم پہلے کشمیری ہیں اس کے بعد کچھ اور ہونگے
(کشمیری قوم پرست)
ہم پانچ ہزار سال پرانے ہیں، ہم عیسٰی علیہ السلام سے بھی قبل کی تہذیب کے مالک ہیں. ہم پہلے پختون ہیں اس کے بعد مسلمان ہیں، ہم ایسے پاکستان زندہ باد پر لعنت بھیجتے ہیں جہاں پختون کی کوئی قدر نہیں…..
(پختون قوم پرست)
ہم ہزاروں سال قبل کی گندھارا، موہنجو دوڑو تہذیب کے وارث ہیں، ہم راجہ داہر کے بیٹے ہیں ہم محمد بن قاسم کو قابض اور ظالم سمجھتے ہیں کہ اس نے ہماری تہذیب و ثقافت پر ڈاکہ ڈالا….
(سندھی قوم پرست)
اسی طرح کوئی بلوچ تہذیب و تمدن کا نعرہ اور علم لے کر کھڑا ہے تو کوئی پنجابیوں کو برتر تسلیم کروانے کے لیے برسرپیکار…..

مگر پاکستانیو یاد رکھو!!!!

نقیب اللہ محسود ہو یا قصور میں درندگی کا نشانہ بننے والی معصوم زینب، وہ کوئٹہ میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے پنجاب کے مزدور یا کے پی کے میں ظالموں کا ہدف بنت پاکستان اسماء ….
وہ فاٹا کے آئی ڈی پیز ہوں اور یا کشمیری مہاجر کیمپوں میں رلتے بے چارے کشمیری…..

ان معاملات اور ان مسائل کو اگر ہم نے قومیت پرستی کا رنگ دینا شروع کردیا تو یاد رکھیے گا تاریخ ہمیں کبھی بھی معاف نہیں کرے گی…
قومیت اور عصبیت میں پڑ کر جو نقصان ہم ماضی میں کرچکے وہ ہی ناقابل تلافی ہے ہم مزید کسی ایڈونچر کے متحمل نہیں ہوسکتے…..

یہ وطن عزیز پاکستان جس میں عزت و آبرو سے بیٹھے ہیں یہ وطن ہمیں پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری اور پختون بن کر نہیں ملا تھا. تب ایک نعرہ تھا مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ… پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ….
ہم نے ساری شناختیں ساری علامتیں ترک کے اسلام کا چولا پہنا تھا، اسلامی لڑی میں اپنے آپ کو پرویا تھا تو یہ مملکت خداداد پاکستان ہمیں حاصل ہوئی تھی…

آج اس کے دشمنوں کی زبان بولتے ہوئے چند سیاسی گدھ اس وطن کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے قومیت اور عصبیت مکروہ ترین نعرے لے کر پاکستانیوں کی پاکستانیت ختم کرنے کے لیے رات کے اندھیروں میں ڈاکے مار رہے ہیں….

نقیب اللہ محسود کے نام پر پخوتونستان کی سیاسی دکان چمکانے والے اس بوڑھے گدھ محمود اچکزئی سے کوئی پوچھے کہ بھارتی اور اسرائیلی وزرائے اعظم کے قدموں میں لوٹ پوٹ ہوتے ہوئے تیری قومی پختون غیرت کہاں مرگئی تھی….
جب ٹی ٹی پی کے درندے فاٹا میں دندھناتے پھرتے تھے اور بے چارے پختونوں کی جان پر بنی تھی تب پی ٹی ایم کہاں تھی؟

آج فاٹا میں امن قائم ہونے جا رہا ہے تو اپنی گز بھر کی لمبی زبانیں لے کر تم لوگ محب اسلام و وطن پختونوں کو قومیت کا سبق پڑھانے اور ان کو عصبیت کا درس دینے پہنچ گئے ہو….

کوئی سندھ سے اٹھے اور اپنے حقوق مانگے، کوئی بلوچستان سے اٹھے اور عصبیت کا جھنڈا بلند کرتے ہوئے اپنا رنڈی رونا روئے، کوئی پنجاب سے اٹھے اور ملک کو عصبیت کی بناء پر دولخت کرنے کی دھمکیاں دے…..اللہ کی قسم پاکستان کے بہادر بیٹے وہ بلوچستان سے ہوں ، وہ فاٹا کے شیر دل نوجوان، وہ پنجاب کے گھبرو پاکستانی، وہ سندھ کے عزم عالی شان رکھنے والے محب وطن وہ تمہاری ان عصبیت اور قومیت کی لڑائیوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیں گے اور تمہاری گز بھر کی گندی اور ناپاک زبانوں کو گدیوں سے کھنیچ لیں گے جو پاکستان کی سالمیت پر دراز ہوتی ہیں….

ہم عصبیتوں اور قومیتیوں کے سارے بتوں کو توڑ کر یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم پہلے مسلمان ہیں اور اس کے بعد پاکستانی ہیں اس کے علاوہ ہماری کوئی شناخت کوئی پہچان نہیں ہے. ہماری پہچان اسلام کے بعد سبز ہلالی پرچم ہے جس کو اپنے لاشے پر سجانے کے لیے میری ارض پاک کے کونے کونے سے شیروں اور دلیروں نے اپنی بھری ہوئی جوانیوں کو اس وطن پر قربان کیا ہے…..
ہم پاکستانیت پر کسی قومیت اور عصبیت کو ترجیح نہیں دیں گے اور نہ ہی کسی لسانی، قومیت اور عصبیت کے جھنڈے تلے جمع ہونگے کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق عصبیت اور قومیت کے جھنڈے تلے مارے جاکر اپنا خون رائیگاں اور جاہلیت کی موت نہیں مرنا چاہتے….

ہم نے اپنی پختون شناخت تبھی ختم کردی تھی جب ہم نے غدار ملت باچا خان کو مسترد کرکے محمد علی جناح کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان کا نعرہ لگایا تھا…..
ہم نے اپنی بلوچی پہچان تبھی ختم کردی جب ہم نے سرحدی گاندھیوں پر محمد علی جناح کو ترجیح دے کر ان کو سونے اور چاندی میں تولا تھا……
ہم نے اپنی سندھی اور پنجابی پہچان و شناخت چناب و سندھ کے پانیوں میں بہا دی تھی جب ہم نے ہندومت اور سکھ کو چھوڑ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کیا تھا….
یہ قومیت کے نعرے یہ عصبیت کی لڑائیاں پاکستان کی سالمیت اور بقاء کے لیے زہر قاتل کی حیثیت رکھتی ہیں اس لیے ہم سب پاکستانی خنجراب سے گوادر تک، درہ خیبر سے کوئٹہ و چمن تک تک، کشمیر کے فلک بوس پہاڑوں سے کراچی کے ساحلوں تک، پنجاب کے میدانوں سے لے کر تھر کے ریگستانوں ہم سب فقط پاکستانی ہیں اور تمہارے ان زہریلے اور گندے نعروں اور مطالبوں کو مسترد کرتے ہیں…
پاکستان زندہ باد

نوٹ: گزشتہ سال نقیب اللہ محسود کے بہیمانہ قتل کے بعد کی صورتحال پر لکھی گئی اس تحریر کو دوبارہ شائع کیا جا رہا ہے.

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

Send this to a friend