صفحہ اول / بلاگرز فورم / مدینہ کے قیدی سے ریاست مدینہ کے قیدی تک

مدینہ کے قیدی سے ریاست مدینہ کے قیدی تک

مدینہ کے قیدی سے ریاست مدینہ کے قیدی تک
تحریر : سعد بن عبد الرحمن 

گزشتہ ہفتے بدھ کے روز بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور بھارت کے دو جہاز جن کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے گرا دیا.مگ 21 بھارتی طیارے کے پائلٹ ابھے نندن نے جب دیکھا کہ اس کا طیارہ اب حصار میں آچکا ہو بچنا نا ممکن ہے تو اس نے پیرا شوٹ کے ذریعے اتر کر اپنی جان بچانے میں ہی عافیت سمجھی.جب ابھے نندن زمین پر اترا تو شہریوں نے اس پر چڑھائی شروع کردی لیکن پاک فوج کے جوانوں نے بروقت پہنچ کر ابھے نندن کو لوگوں سے چھڑوایا جو شہریوں کے تشدد سے شدید زخمی ہوچکا تھا .فوج کے شاہین اس کو اپنے یونٹ میں لے گئے اور وہاں فرسٹ ایڈ دی اس کے بعد اس کی تواضع کی گئی اور کڑک پاکستانی چائے پیش کی گئی.بھارت پہلے پہل تو انکار کرتا رہا جب اس نے ثبوت دیکھے تو ماننے پرمجبور ہوگیا اس سے پہلے کہ بھارت ابھے نندن کی حوالگی کا مطالبہ کرتا پاکستان کے نہایت ہی عقل مند حاکم وقت وزیر اعظم عمران خان نے مشترکہ اجلاس میں اعلان کیا کہ ہم امن کے لیے بھارتی قیدی ابھے نندن کو رہا کررہے ہیں جس کی اپوزیشن جماعتوں نے بھی حمایت کی .ہر طرف سے جہاں وزیر اعظم عمران خان کو سراہا جانے لگا وہاں ان کو تنقید کا بھی نشانہ بنایا گیا اور ان کے اس امن کے پیغام کو ٹھکرایا اور بہت سے طعنے کی بورڈ جہادیوں کی طرف سے دیے جانے لگے .ہمارے کچھ منبرو محراب پر بیٹھنے والے سمجھدار بھی وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنانے میں پیچھے نا رہے .ابھے نندن کو آج واہگہ کے راستے بھارتی حکام کے حوالے کردیا گیا بھارت کے صحافی و مصنف اور سیاستدان عمران خان کی تعریفات کرنے لگے .وزیر اعظم عمران خان کے اس فیصلہ کا انکار کرنے والے کیا مدینہ کے قیدی کو بھول گئے.6 ہجری میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوت الی اللہ کا دائرہ وسیع کرنے کا عزم فرمایا تو عرب و عجم کے بادشاہوں کی طرف آٹھ خطوط لکھے اور انہیں دائرہ اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔جن سربراہوں کو خطوط لکھے ان میں ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا نام بھی آتا ہے۔ بلاشبہ ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کا شمار زمانہ جاہلیت کے بارعب عرب بادشاہوں میں ہوتا ہے اور یہ قبیلہ بنو حنیفہ کے قابل رشک سردار تھے اور یمامہ کے ایسے دلعزیز بارعب سربراہ تھے کہ جس کی حکم عدولی نہ ہوتی تھی۔
زمانہ جاہلیت میں ثمامہ رضی اللہ عنہ کو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا خط ملا تو اس نے بڑی حقارت سے دیکھا ۔اس کی سطوت ونخوت نے اسے گھناؤنا جرم کرنے پر آمادہ کیا ۔حق بات سننے کے لئے اس کے کان بہرے ہوگئے۔پھر اس پر یہ جنون طاری ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کر دے اور آپ کو اس مشن میں ناکام بنا دے،لیکن وہ اپنے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے مناسب موقعہ کی تلاش میں رہا۔ایک دفعہ اسے موقع ملا،وہ دبے پاؤں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر پیچھے سے وار کرنے ہی والا تھا،لیکن اس کے چچا نے اس کا ہاتھ روک دیا۔اس طرح آپ اللہ تعالٰی کے فضل و کرم سے دشمن کے شر سے محفوظ رہے۔
ثمامہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تو اپنا ہاتھ روک لیا۔لیکن آپ کےصحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نقصان پہنچانے کے لئے کسی مناسب موقعہ کی تلاش میں رہا،ایک دفعہ ایسے ہوا کہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا محاصرہ کر کے انہیں بے دریغ قتل کردیا،یہ اندوہناک خبر سن کر نبی علیہ السلام نے عام اعلان فرما دیا کہ ‘‘ثمامہ جہاں کہیں ملے اسے قتل کر دیا جائے۔‘‘

اس دلخراش واقعہ کو گزرے ابھی چند دن ہی ہوئے تھے کہ ثمامہ بن اثال کے دل میں آیا کہ بیت اللہ کی زیارت کی جائے اس لئے وہ یمامہ سے سوئے مکہ معظمہ روانہ ہوا،اس کی دلی تمنا تھی کہ طواف کعبہ کرے اور بیت اللہ میں رکھے گئے بتوں کے نام پر ذبح کرے۔
جناب ثمامہ مدینہ منورہ کے قریب ابھی راستہ ہی میں تھے کہ ان کے ساتھ ہی اچانک
ایک ایسا حادثہ پیش آیا ،جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا ہوا یہ رسول اللہ صلی اللہ
علیہ وسلم کا ترتیب دیا ہوا مجاہدین اسلام کا ایک گروپ مدینہ منورہ کی نگرانی پرمامور تھا ،مبادا کہ کوئی مدینہ منورہ پر رات کے وقت اچانک حملہ نہ کر دے،مجاہدین کا یہ گروپ گشت کر رہا تھا کہ انہوں نے راستے میں جاتے ہوئے جناب ثمامہ کوگرفتار کر لیا،لیکن انہیں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کون ہے؟
وہ انہیں پکڑ کر مدینہ لے آئے اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا مجاہدین نے سوچا کہ نبی علیہ السلام قیدی کو دیکھ لیں اور اس کے متعلق جو حکم فرمائیں اس کی تعمیل کی جائے۔
نبی علیہ السلام جب مسجد نبوی میں تشریف لائے ،آپ نے دیکھا کہ ثمامہ بن اثال رضی
اللہ عنہ مسجد کے ایک ستون کے ساتھ بندھا ہوا ہے،اسے اس حالت میں دیکھ کر آپ نے ارشاد فرمایا:‘‘کیا جانتے ہو تم نے کسے گرفتار کیا؟‘‘
سب نے کہا۔‘‘یا رسول اللہ ! ہمیں تو علم نہیں۔‘‘
آپ نے ارشاد فرمایا:‘‘یہ تو ثمامہ بن اثال ہے ۔اب اس کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا۔ گھر میں جو کھانا ہے ،وہ ثمامہ بن اثال کے لئے بھیج دیا جائے۔‘‘
پھر آپ نے حکم دیا کہ ‘‘میری اونٹنی کا دودھ صبح وشام اسے پلایا جائے۔ ۔‘‘
آپ کے حکم کی فورا تعمیل کی گئی ،پھر نبی علیہ السلام ثمام بن اثال کی طرف متوجہ ہوئے تا کہ اسے اسلام قبول کرنے کی دعوت دیں آپ نے بڑے مشفقانہ انداز میں دریافت کیا:‘‘ثمامہ کیا رائے ہے؟‘‘
انہوں نے جواب دیا۔‘‘بہتر ہےاگر آپ مجھے قتل کر دیں تو یقینا ایک ایسے شخص کو قتل کر دیں گے جس نے آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کا خون بہایا۔اگر معاف فرمادیں توایک قدردان پر مہربانی ہوگی اور اگر مال چاہئےتو جس قدر فرمائیں مال آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلسم تشریف لے گئے اور انہیں دو دن تک اسی حالت میں رہنے دیا،لیکن کھانا،پانی اور دودھ باقاعدگی سے انہیں ملتا رہا۔
پھر آپ نے دریافت فرمایا:‘‘ثمامہ کیارائے ہے؟‘‘
انہوں نے کہاـ‘‘بات وہی ہے جو میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔”
اگر آپ معاف فرما دیں تو ایک قدر دان پر مہربانی کریں گے ۔اگر آپ مجھے قتل کردیں توایک ایسے شخص کو قتل کریں گے جس نے آپ کے ساتھیوں کا خون بہایا ہے،اور اگر مال چائیے تو آپ کی منشا کے مطابق مال آپ کی خدمت میں پیش کر دیا جائے گا۔‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اب بھی اسے اسی حالت میں رہنے دیا اور تیسرے دن تشریف لائے اور دریافت فرمایا۔‘‘ثمامہ اب تمھاری کیا رائے ہے؟‘‘
انہوں نے کہا ”میری تو وہی رائے ہے جو میں پہلے عرض کر چکا ہوں۔اگر آپ معاف فرما دیں تو ایک قدر دان پر مہربان کریں گے اور اگر قتل کریں تو ایک
ایسے شخص کو قتل کریں گے جس کی گردن پر خون ہےاور اگر مال چاہئے تو آپ کی منشا کے مطابق مال دیا جائے گا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ‘‘ اسے آزاد کر دو ۔‘‘
آج ریاست مدینہ کا باسی سلطنت مدینہ کے حاکم سید المرسلین کے امتی عمران خان نے یہ فیصلہ کرکے قیدیوں کے اسلام میں جو حقوق ہیں ان حقوق کو کو پورا کردیا.

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت …

کھلونا یا ریڑھ کی ہڈی ۔۔۔ حامد المجید

باد سحر کے ٹھنڈے جھونکے اس کے دل میں مرجھائے سکون کے گلوں کو تازہ …

Send this to a friend