صفحہ اول / اسلامک بلاگز / مسلم جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

مسلم جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔ حافظ ابتسام الحسن

اسلام کے پیروکار کیسے جھوٹ بول سکتے ہیں؟

حافظ ابتسام الحسن

دین اسلام سچا ہے اس کی بنیاد سچائی ہے، اس میں ہر لحاظ سے حکم بھی سچائی کا ہی ہے تو پھر کیسے ہو سکتا ہے کہ اس کے پیروکار کسی” اپریل فول شول "کے نام پر جھوٹ بولتے پھریں ،یا اس کے لیے کوشش کریں اور اغیار کے متعین کیے ہوئے دن میں ان کی نقل کریں، حد یہ ہو کہ اس میں تعامل، شرم جھجک اور اخلاق سے گری ہوئی حرکت محسوس نہ کریں، بلکہ اس میں ایک فخر، دانش مندی، ہنسی مزاح کا پہلو تلاش کرتے پھریں،

جان رکھو! اغیار کے ہاں خوف الہ اور یوم آخرت میں حساب و کتاب کا کوئی وجود اب باقی نہیں رہا، بلکہ سرے سے ان کے اندر یہ چیز حقیقی معنوں میں کبھی پیدا نہیں ہوئی تھی، چنانچہ ان کے نزدیک جھوٹ، سچ سب چلتا ہے، دھوکہ دہی کو وہ عقل مندی مانتے ہیں، دوسروں کا مذاق اڑانا اور تذلیل کرنا وہ اپنا پیدائشی حق اور انجوائمنٹ سمجھتے ہیں،

مگر ہم مومن ہیں، مسلمان ہیں، اسلام کے پیروکار ہیں، اور اسلام ہمیں سچائی کا رستہ دکھاتا ہے، دوسروں کی تکریم کرنا، ان کے برے وقت میں کام آنا، ان کی خامیوں پر پردہ ڈالنا، جھوٹ سے کوسوں دور بھاگنا سکھاتا ہے، بلکہ جھوٹے کو مومن مانتا ہی نہیں، وہ منافق ہے پکا منافق، علامت ہے منافق کی کہ وہ جھوٹ بولے بغیر نہیں رہ سکتا، اور مومن سچائی کا دامن نہیں چھوڑ سکتا ۔

تو صاحبو! مجھے امید ہے اب اس منحوس دن کو کوئی مسلمان نہیں مناتا ہوگا، بہت سوں کو اس کا علم بھی نہیں ہوگا، مگر ہمارا دشمن ہے نا، ہمیں ایسی الٹی سیدھی حرکتیں پڑھانے اور سکھانے کو، لازم ہے کہ اس دن اساتذہ، والدین اور بزرگ حضرات مل کر اپنی نسلوں کا سچ کا سبق پڑھائیں، سچائی کے راستے پر انگلی پکڑ کر لے کر چلیں، دشمن جتنا جھوٹ پڑھانے کی کوشش کرے اس سے دوگنا یہاں سچ کا بول بالا ہو، یاد رہے! ہم صدیق اکبر کے وارث ہیں، جو کائنات کے سب سے بڑے سچے انسان تھے، تو ہماری رگوں یا سرشت میں جھوٹ کیسے بہہ سکتا ہے ۔

میری تجویز اور رائے ہے کہ ہم اس دن کا نام اپریل فول کی بجائے "سچائی کا دن ” رکھ دیں اور پھر ہر مسلم اس سچے دن کی مناسبت سے سچائی کو چہار سو پھیلا دے اور اتنا عام کر دے کہ جھوٹ ایسی لعنت سرے سے ہی مٹ جائے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

یکم اپریل، یومِ سیاہ۔۔۔ از قلم: عشاء نعیم

یکم اپریل یوم سیاہ تحریر: عشاء نعیم عادت ہی پڑ گئی ہے ہر نقل کرنی …

اپریل فول، ایک رسم یا تجاہل عارفانہ۔۔۔از ثنا صدیق

اپریل فول یا مسلم فول از: ثنا صدیق ایک وقت ایسا تها جب اموی شہزادہ …

Send this to a friend