صفحہ اول / بلاگرز فورم / مودی کا تہنیتی پیغام، خیر سگالی یا خوش خیالی

مودی کا تہنیتی پیغام، خیر سگالی یا خوش خیالی

مودی کا یوم پاکستان پر تہنیتی پیغام، خیر سگالی یا خوش خیالی

تحریر: محمد فہیم شاکر

24مارچ 2019

میری تحاریر باقاعدگی سے پڑھنے والوں کو معلوم ہوگا کہ میں نے 18 مارچ کی اپنی تحریر میں لکھا تھا کہ 21تا 23 مارچ کے دوران ہندوستان کی طرف سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا خطرہ ہے اور ہماری مسلح افواج تو ہر دم تیار ہیں لیکن کیا عوام بھی بیدار ہے؟ اپنی آنکھیں کھلی رکھئیے ایسا نہ ہوا کہ دشمن ہمیں غفلت میں دبوچ لے
اور پھر 21 مارچ کے دن مفتی تقی عثمانی پر حملے نے اس خدشے کو درست ثابت کر دیا
ہم یوم پاکستان کی تیاریوں میں مصروف رہے اور دشمن نے اسے ہماری غفلت سمجھتے ہوئے حملہ کر دیا اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ مفتی صاحب تو بال بال بچ گئے جبکہ ان کا ایک سیکیورٹی گارڈ شہید ہو گیا
معروف کالم نگار احسان کوہاٹی کے مطابق اس حملے میں افغان حکومت ملوث ہے
کیونکہ مودی سرکار نے ہر طرف سے منہ کی کھانے کے بعد اب افغان سرزمین کو استعمال کیا ہے اور آئندہ بھی کرے گی، یاد رہے کہ افغان سرزمین سے پاک سرزمین پر کسی بھی قسم کا فضائی حملہ ہو سکتا ہےتاکہ پاک افواج کو اندرونی معاملات میں مصروف کر کے پاکستان کے اندر کسی بھی قسم کا گھناونا کھیل کھیلا جا سکے
زرا یاد کیجیے جب مسلح افواج میں کمان کی تبدیلی ہوئی تھی تو جنرل قمر جاوید باجوہ کی آمد کے موقع پر ملک بھر میں خود کش دھماکوں کا تسلسل شروع ہوگیا تھا اور سیہون شریف دبار پر حملہ میں شدید قسم کا جانی نقصان ہوا تھا ان حملوں کا مقصد جہاں ایک طرف ملکی امن کو تاراج کر کے دنیا کو پاکستان کے غیر مستحکم ملک ہونے کا پیغام دینا تھا وہیں دوسری طرف ملکی معیشت کو درہم برہم کرنا بھی تھا تاکہ پاکستان کی ساکھ ہر لحاظ سے کمزور ہو
تو آپ کیا سمجھے؟ چانکیہ کے پیروکار آپ کو اتنی جلدی معاف کر دیں گے؟
یاد رکھیے! ہندوستان حکومت ہمیشہ اور ہر معاملے میں پاکستان کو دھوکے میں رکھتی ہے اکیس مارچ کو ہندوستانی ایما پر مفتی تقی عثمانی پر حملہ اور تئیس مارچ کو مودی کا عمران خان کو تہنیتی پیغام دینا دراصل ایک لمبے کھیل کی شروعات ہیں
پاکستان سے باقاعدہ جنگ چھیڑنے میں ناکامی کے بعد اب ہندوستان سرکار زمین دوز کاروائیوں کا آغاز کر چکی ہے۔
کیونکہ جنگ ہندوستان اور اسرائیل کے مفاد میں تھی جسے پاکستان نے تہہ تیغ کردیا تھا۔
اور اب ہندوستان پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لیے وہ سب کچھ کرے گا جو اس کے بس میں ہوگا اور مفتی تقی عثمانی پر حملہ اس کا باقاعدہ آغاز تھا۔
خاکم بدہن اگر مفتی صاحب کی جان چلی جاتی تو اس قتل کا ذمہ ایک خاص فرقے پر ڈال کر پاکستان کے اندر زمینی اور سوشل میڈیائی جنگ کا وہ آغاز ہونے جا رہا تھا جس سے پاکستان اندرونی اور بیرونی طور پر ہر لحاظ سے غیر مستحکم ہوتا اور حالیہ دنوں میں پاکستان نے ہندوستان کے خلاف جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور دنیا بھر میں ایک امن پسند ملک کے طور پر جو ابھر کر سامنے آیا ہے تو یہ سب ریت کی دیوار ثابت ہونا تھا۔


مفتی تقی عثمانی پر حملے میں ہندوستان کی ناکامی کے بعد اگلا حملہ سندھ سے دو ہندو کم سن لڑکیوں کے اغواء کی شکل میں کیا گیا ہے تاکہ اگلا پراپیگینڈہ شروع کیا جا سکے
لیکن عمران خان بھی گویا ہر لحاظ سے تیار و بیدار بیٹھا ہے
فوری بیان جاری کیا کہ ایسی خبریں دستیاب ہوءی ہیں کہ سندھ سے ہندو لڑکیوں کو اغواء کر کے رحیم یار خان لایا گیا ہے
حکومت پنجاب ان کی بازیابی کے فوری اقدامات کرے
اس سب سے ظاہر ہوتا ہے عمران خان کو تمام انٹیلیجنس اطلاعات رہتی ہیں کہ ہندوستان کس وقت کہاں کیا پلان کر رہا ہے
میری قوم یاد رکھے کہ ہندوستان اس وقت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی خاطر وہ تمام تر اقدامات کر رہا ہے جو ظاہری اور پوشیدہ ہیں
کچھ اقدامات تو ایسے ہیں جو دنیا نے دیکھ لیے لیکن آنے والے دنوں میں کچھ اقدامات ایسے بھی ہوں گے جو نظر تو نہیں آءیں گے لیکن پاکستان کو معاشی لحاظ سے انتہائی کمزور کرنے کا سبب بنیں گے
بلاول بھٹو زرداری کے بیانات اسی سلسلے کی کڑی ہیں
تو قوم ہر دم تیار رہے کہ ایٹمی جنگ ٹلنے کے بعد اب میڈیائی جنگ شروع ہو چکی ہے جس میں شدت آنے والی ہے اور اس میں کچھ پاکستانی سیاسی پارٹیوں کے سوشل میڈیا سیل بھی دانستہ استعمال ہوں گے
اور زمینی کی بجائے یہ نظریاتی جنگ زیادہ خطرناک ہو گی
کیونکہ اس میں فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینا یا اندرونی معلومات میں بگاڑ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا یا کسی اندرونی ملکی معاملہ کو لے کر طول دینا تاکہ پاکستانی قوم آپس میں لڑ پڑے وغیرہ وغیرہ ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

اردو، اک لمحہ فکریہ ۔۔۔ تحریر : غلام فاطمہ

بلاشبہ ہماری قومی زبان اردو کی بے وقعتی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم …

جماعت اسلامی کا پاکستان اورکشمیر کے لیے کردار

یہ بات ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکا ر نہیں کر سکتا کہ اس …

Send this to a friend