صفحہ اول / بلاگرز فورم / میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟؟؟

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں؟؟؟

میں کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کروں ؟؟؟

از قلم : عبدالحمید صادق

کہاں ہیں انسانیت کے نام لیوا….. ؟ کہاں ہیں حقوقِ انسانی کے دعویدار…. ؟ کہاں ہیں عزتوں کے محافظ….. ؟ کہاں ہے غیرت مند قوم….. ؟
کیا لکھوں اس لاوارث لاش پر…..؟ دل خون کے آنسو روتا ہے کہ اس قدر ظلم…… یہ بھی کسی کی بیٹی…… کسی کی بہن…… یا کسی کسی کی بیوی ہے……! جسے نجانے کس جرم کی پاداش میں سر قلم کرکے نہر میں پھینک دیا گیا…….!

اداسی بچھی ہے بڑی دور تک
بہاروں کی بیٹی پرائی ہوئی

آج ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ کسی کو مصیبت میں دیکھتے ہیں تو دیکھ کر گزر جاتے ہیں…… کسی کے دل پر جوں تک نہیں رینگتی…… وہ چاہے سیاست دان ہو یا معاشرے کا عام فرد…….!
انسانیت کا درس دینے والا پروفیسر ہو یا حقوق انسانی کی ڈگری حاصل کرنے والا طالب علم……!
حقوق انسانی کا ڈھنڈورا پیتنے والی عالمی تنظیمیں ہوں یا ایک ملک کا وزیر انسانی حقوق…..!
سب ہیں کہ خواب غفلت میں ڈوبے ہوئے…..!
جب گھروں سے بچیوں کو کھلی آزادی مل جایا کرتی ہے ناں! پھر اکثر ایسے ہی واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں….!
کبھی نوجوان لڑکی کی نعش نہر سے ملتی ہے تو کبھی نومولود بچہ گٹر میں پھینک دیا جاتا ہے.
کبھی حوا کی بیٹی سر بزم حقوق کا ڈھنڈورا پیٹتی نظر آتی ہے تو کبھی حقوق نہ ملنے پر کمرے میں چلتے پنکھے پر خود ہی پھانسی کا پھندا بنا کر لٹکتی نظر آتی ہے (اور وہ حقوق اصل میں ذہنی، روحانی اور جسمانی آزادی ہے)
کبھی لڑکا اور لڑکی پسند کی شادی نہ ہونے پر کسی ہوٹل کے کمرے میں ایک دوسرے کو گولی مار کر قتل کرتے ہیں تو کبھی حوا کی بیٹی انسان نما درندوں کی حوس کا نشانہ بنتی نظر آتی ہے.
خدارا اپنی بچیوں کی حفاظت کیجیے….. وطن کی بیٹیوں کی حفاظت کیجیے……!


عورت ذات ایک ایسا نایاب ہیرا ہے کہ جس کی حفاظت کی جائے تو اس سے قیمتی کوئی چیز نہیں اور اگر آزادی کے نام پر چست پاجامے پہنا کر بازاروں میں کھلے عام چھوڑ دیا جائے تو زمانے کی ساری گندی مکھیا اسی کے گرد گھومتی نظر آئیں گی.
نتیجتاً دیکھنے کو یہ ملتا ہے کہ بھائی نے غیرت کے نام پر بہن کو قتل کر دیا…… والد نے بیٹی کو (عاشق سمیت) گھر سے بھاگنے پر موت کے گھاٹ اتار دیا.
آخر میں بس اتنا ہی کہنا چاہوں گا کہ اپنی نظر میں حیا پیدا کر تاکہ تیری ماں، بہن، بیوی اور بیٹی بری نظر سے بچ سکیں کیونکہ

https://mb-npltfpro.com/?a=75984&c=178656

بیٹیاں نور نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں

تپتے صحراؤں میں یہ باد صبا ہوتی ہیں
بیٹیاں باپ کی پگھ ماں کی ردا ہوتی ہیں

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

مجھے لونڈی نہیں بننا

مجھے لونڈی نہیں بننا (اہل مغرب کی اندھی تقلید سے بچیں) تحریر: عشاء نعیم   …

Send this to a friend