وقت کم ہے!!!

وقت کم ہے!!! 

تحریر : فاطمہ ہاشمی


پاکستان ہندوستان کی جنگ شروع ہو چکی ہے اور حالات دن بدن تیزی سے تبدیل ہوتے اور خرابی کی طرف بڑھتے نظر آتے ہیں مودی اور انڈین میڈیا جس غیر زمہ دارانہ انداز میں اپنی قوم اور ملک کو لے گیا ہے اب ان سے وقت ہتھیلیوں سے ریت کی طرح نکلتا جارہا ہے اور اس مزید بگڑتی صورتحال میں دو ایٹمی ملک متصادم ہو سکتے ہیں مگر معاملہ صرف ان ملکوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عالمی سطح پہ اک بڑھی تباہی منہ کھولے کھڑی ہے۔
ہندوستان اور پاکستان روایتی حریف ہیں اور پہلے بھی مختصر جنگیں لڑ چکے ہیں مگر لمبی جنگ یہاں کبھی نہیں لڑی گئی جیسے طویل جنگیں یورپ میں ہو چکی ہیں ۔ ہندوستان نے ابھی تک جنگ کی آندھی نہیں دیکھی "” ہمیشہ ہندو جارحیت کے جواب میں پاکستان دفاعی پوزیشن پہ رہا ہے اور دشمن کو دندان شکن جواب دیا ہے۔
ہندو 47 اور 65 جنگ کے بعد یہ بات جان چکا تھا کہ وہ پاکستان سے جنگ نہیں لڑ سکتا لہذا چانکیائی طریقہ جنگ اختیار کیا گیا اور 71 کا سانحہ کروا کر وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کو ڈھیر کر دے گا اور بلوچستان، کراچی، گلگت، بلتستان اور خیبر پختونخواہ میں مداخلت کر کے، دہشت گردی کے واقعات کروا کر اور اپنے چند ایجنٹ کھڑے کر کے پاکستان کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی ہمیشہ بھرپور کوشش میں رہا ہے۔
ہماری پاک فوج اور ہمارے گمنام ہیروز نے اللہ کی مدد سے اپنے سے کئی گنا بڑی افرادی اور مالی لحاظ سے بڑی قوتوں کو تہہ و بالا کیا اور ان کو تگنی کا ناچ نچوا دیا ۔ ادھر پاکستان ان کی تمام پراکسیسز کو ناکام کررہا تھا اور ساتھ ساتھ سی پیک جیسے منصوبے کو لاکر معاشی طور پہ اپنے پیروں پہ کھڑا ہونے جارہا ہے جس کی سب سے زیادہ تکلیف اگر کسی ملک کو ہے تو وہ ہندوستان ہے۔ اندرون ملک ناکام ہوتے ہندوستانی پتے اور پھر ہندوستانی جارحیت کا اک نیا روٹ بنایا اور پاکستان کو تین اطراف سے گھیرنے کی پلاننگ کر چکا ہے۔
اب آپ دیکھیں گوادر کے مقابل بظاہر چاہ بہار کو اک تجارتی متبادل روٹ بتایا جارہا ہے مگر جب چاہ بہار کی کم گہری بندرگاہ پہ تجارتی جہاز لنگر انداز ہی نہیں ہو سکتے تو اس پورٹ پہ ہندوستان کیوں سرمایا کاری کرنا چاہ رہا ہے اور ایران اس سے کیا مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے؟
ایران کا مفادیہ ہے کہ ایران عرب ممالک کے حوالے سے جارحانہ عزائم رکھتا ہے اس سے پہلے افغانستان عراق اور شام میں جو کچھ ہوا اس میں ایرانیوں کا بھی ہمیں کہیں نہ کہیں ہاتھ ضرور نظر آتا ہے اور عربوں کے حوالے سے روایتی حریف کا کردار بھی سامنے آتا ہے تو وہیں بلوچستان پہ بھی اس کی حریصانہ اور حاسدانہ نظر کا ہونا بھی محال نہیں ہے۔
اب بھارت اس کھاڑی پہ اتنا پیسہ کیوں لگا رہا ہے؟
بھارت اس کو اک جنگی روٹ کے متبادل کے طور پہ دیکھتا ہے اور چاہ بہار سے افغانستان اک روٹ بنایا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ چھوٹے جہازوں میں ہندوستانی فوجوں کو بھر کر چاہ بہار پہنچایا جائے اور وہیں سے افغانستان تک یہ روڈ اک لاجسٹک سپورٹ فراہم کرنے کے لیے ہے معاشی دہشت گردوں کے ذریعے ہندوستان ہم پہ کاری وار کر چکا ہے اب وقت آگیا ہے کہ پاکستانی آنکھیں کھولیں یہ جو ہمیں بار بار ہندوستانی جارحیت کے مقابل امن کا راگ الاپنا پڑ رہا ہے یہ ان ہی معاشی دہشت گردوں کا کمال ہے ورنہ ضیاءالحق کی پالیسی سب کو معلوم ہے کہ ہندوستان کا تراہ نکل گیا تھا۔
یہ جنگ انڈیا پاکستان کی بقاء کی جنگ ہے انڈیا میں کشمیر، خالصتان ، آسام ، ناگالینڈ کی تحریکیں زور پکڑ رہی ہیں تو وہیں پاکستان میں ہندوستانی تحریکیں کمزور ہو کر اپنا اثر کھو چکی ہیں اگرچہ پاکستان اک امن پسند ملک ہے اور بھارت میں مداخلت نہیں کرتا مگر بنیے کی مداخلت کا منہ توڑ جواب بھی دیتا ہے جیسے کہ پچھلے دو دن سے دیا ہے اب جنگیں محض فوجی سطح پہ نہیں لڑی جاتیں بلکہ کئی طرح کی جنگ کی جاتی ہے۔
ہندوستان اب جنگ کو طویل کرنے کی کوشش کرے گا وہ سرحد پہ چھیڑ چھاڑ جاری رکھے گا اور محدود جنگ کی کوشش کرے گا یہ کوئی پلوامہ حملہ وغیرہ کی وجہ سے بالکل نہیں کیونکہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے جہاں پہلے بھی حملے ہوتے رہتے ہیں اگر بات صرف مودی کے الیکشن تک سمجھی جارہی ہے تو یہ ہماری غلط فہمی ہے اگرچہ یہ فیکٹر بھی پایا جاتا ہے لیکن درحقیقت یہ اک عالمی سطح پر باقاعدہ پلانڈ سازش ہے اور پاکستانیوں کو اب بیدار ہونا ہوگا۔
آپ جانتے ہیں کہ روس کی فوجیں اور اسلحہ نہیں ختم ہوا تھا بلکہ روسی معیشت تباہ ہوگئی تھی جبکہ پاکستان کو بدمعاشیہ پہلے ہی زور دار معاشی دھچکہ لگا چکی ہے۔ اگرچہ پاکستان میں انویسٹمنٹ آرہی ہے مگر عین موقع پہ جنگ کھڑی کر دینا اور اس سے پہلے محمد بن سلمان کے دورے کو سبو تاژ کرنے کے لیے مختلف ہتھکنڈے جس سے منظر نامہ صاف ہوتا ہے کہ مسئلہ کیا چل رہا ہے اور عین اس دورے سے پہلے دھماکہ اور پھر تمام تر دباؤ کے باوجود جب بن سلمان پاکستان میں انویسٹ کر گئے تو جنگ کی فضاء پیدا کر دی گئی اور ایران نے بھی الزام پاکستان پہ دھر دیا اور افغانستان یعنی طالبان کے مذاکرات جہاں وہ امریکہ اڈہ حاصل کرناچاہتا مگر طالبان نہیں مان رہے اس سارے پلان کو واضح کرتا ہے کہ وہ پاکستان کو دباؤ کا شکار کرنا چاہتے ہیں۔
ہمارے پاس وقت کم ہے اور ہمیں فوری نوعیت کے فیصلے لینے ہیں اندر ملک کا پیسہ لوٹ کر کنگال کر دینے والے گرفتار کیے جارہے ہیں مگر سسٹم کی خرابیوں کی وجہ سے ہم ان سے فوری پیسہ نکلوانے میں ناکام ہیں اور ان لوگوں کو معمولی سزائیں دینے پہ مجبور ۔ اور پارٹی بازی میں مبتلا عوام اگرچہ اک بڑی حد تک معاملات کو سمجھ چکی ہے مگر پھر کچھ لوگ ابھی بھی ان جونکوں کے ساتھ جنہوں نے اس ملک کا خون نچوڑ لیا لگے ہوئے ہیں۔ لہذا سب سے پہلے ہمیں فوری طور پہ اندرون ملک ارجنٹ صفائی کرنا چاہیے اور لوٹی دولت واپس لانی چاہیے مگر سوال ہے کہ کیسے ؟؟؟ کیا طریقہ اختیار کیا جائے جبکہ دشمن کے ہمارے ساتھ جنگ کھڑی کر چکا ہے۔ ہمیں دشمن کی وار سے زیادہ معاشی وار کا سامنا ہے کیونکہ ان شاءاللہ میدان میں دشمن کی فوجوں کا مورال بالکل ختم ہے کشمیر میں آزادی پسندوں نے عسکری حوالے سے اور عوام میں اخلاقی حوالے سے دشمن بری طرح ذلیل ہو چکا ہے حتیٰ کہ انڈین آرمی کا جہاز گرتا ہے اور اس پہ کھڑے ہو کر خوشی مناتے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے کشمیری جن پہ ہر طرح کا ظلم و تشدد و بربریت ڈھاتے فوجی میدان میں لڑنے کے قابل نہیں ہیں۔
اب پاکستان نہایت سمجھداری سے اپنے پتے کھیل رہا ہے اور سرحد پہ انڈین طیارے گرانے اور باڈر پہ دشمن کی چوکیوں کو تباہ کر کے جو پاکستان نے ہندوستان کا مورال ڈاون کیا ہے وہ آپ کو آئندہ نظر آئے گا اس وقت نئی چال چلی جارہی ہے بعض ذرائع کی طرف سے اب یہ خبریں آرہی ہیں کہ انڈیا سمندر کے راستے اٹیک کرنا چاہتا اور اس دفعہ اس کا نشانہ گوادر بھی ہوسکتا جہاں اک طرف چاہ بہار تو عین سامنے مغرب میں عمان میں اسرائیل آکر بیٹھا ہے "” ایسے میں ہندوستان کی کوشش ہے کہ وہ چاہ بہار سے اٹیک کرے تاکہ پاکستان کو جنگ میں الجھایا سکے ہمیں گھیرنے اور جنگ کو بڑھانے کے لیے انڈین چاہ بہار سے حملے کی پلاننگ کر رہے ہیں اور عمان میں بیٹھا اسرائیل بھی اس میں اہم کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور افغانستان سے دہشت گردی نیٹ ورک کے ذریعے حملہ کرنا چاہتے ہیں معاملات واضح ہوتے جارہے ہیں اگر چاہ بہار سے گوادر پہ حملہ ہوتا ہے تو چین بھی اس جنگ میں کود جائے گا جب کہ دنیا پہلے ہی عالمی سطح پہ بلاکوں میں تقسیم ہونے جارہی ہے جو جلد یا بدیر اک عالمی جنگ کی سرگوشیاں اب تیز تر ہوتی جارہی ہیں
اک مسلمان ہونے کے ناطے اور خاص کر پاکستانی ہونے کےناطے ہم نے عالم اسلام کی قیادت کرنی ہے جس کے لیے ہمیں ذہنی اور جسمانی طور آئندہ کے لیے اپنی تیاری جنگی بنیادوں پہ کرنا ہوگی تاکہ دشمن کی کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔
ہم اس وقت معاشی بحران کا سامنا کر رہے ہیں اور آئندہ آنے والے سالوں میں ہم پانی کے بحران کا شکار ہو سکتے ہیں جس کے لیے کشمیر پہ اور پانی پہ بھارت سے ہمیں جنگ کرنا ہی پڑے گی۔
اب جنگ ہمارے سر پہ کھڑی ہے دشمن بہانہ ڈھونڈ رہا ہے اور پاکستان نہایت مہارت سے ناصرف اس دشمن کومات دے رہا ہے بلکہ امن کے تمام راستے کھولے بیٹھا ہے۔
پاکستان نے بھارتی پائلٹ کو واپس کرنے کا اعلان کر کے دنیا کو پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور بھارت کو پلوامہ کی کاروائی میں ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا ہے تاکہ اس کے بعد دنیا کے پاس کوئی بہانہ نہ بچے "”
یہاں اسرائیل کا عمان میں آکر بیٹھنا اور چاہ بہار کو پاکستان کے خلاف کھڑا کرنا دوسری طرف انڈیا میں مودی جیسے شدت پسند لوگوں کو سپورٹ کرنا جبکہ ایلومیناٹی کارٹون سیریز جو کہ ایلومیناٹی اپنے آئندہ پیش ہونے والے حادثات کو پہلے دکھاتی ہے جس کو اس نے ڈیزائن کیا ہوتا ہے اس کارٹون نے دکھایا ہے کہ انڈیا نے پاکستان پہ اٹامک حملہ کر دیا ہے یعنی عالمی سطح پہ پاکستان کو پھنسانے کی بھرپور تیاریاں ہیں دنیا کا بس نہیں چل رہا کہ پاکستان پہ حملہ آور ہوں اور ہمارے وسائل پہ قبضہ کر لیں
ایسے میں ہمیں اپنے ملک اور حکومت کے ساتھ اپنی فوج کے ساتھ کھڑا ہونا ہے پاکستان نہایت بہتر انداز میں دشمن کی اس گھٹیا سازش کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا رہا ہے ہمیں دشمن کی ففتھ جنریشن وار کا بھرپور جواب دینا ہے اس کے جھوٹ اور مکر کا پردہ فاش کرنا ہے اور کہیں بھی دشمن کی سازش کا شکار نہیں ہونا ہے اور اس کے لیے بھرپور تیار رہیں یاد رکھیں آج نہیں تو کل جنگ سر پہ کھڑی ہے اور وقت اب کم ہوتا جارہا ہے۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

عالمی امن پر منڈلاتے خطرات

آپ بھی جان لیں کہ اقوام متحدہ کی مستقل رکنیت رکھنے والے ممالک کے مابین 145 …

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام

نومبر کا پہلا ہفتہ تحریک آزادی جموں کشمیر کا ایک خونچکاں باب اور ہندو دہشت …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: وقت کم ہے!!!! This is the link: https://pakbloggersforum.org/%d9%88%d9%82%d8%aa-%da%a9%d9%85-%db%81%db%92/