صفحہ اول / Uncategorized / پاکستان، سعودی عرب اور چین، نیا منظر نامہ

پاکستان، سعودی عرب اور چین، نیا منظر نامہ

پاکستان، سعودی عرب اور چین، نیا منظر نامہ

تحریر : بلال شوکت آزاد

یہ ہے وہ تبدیلی جو آنہیں رہی بلکہ آگئی ہے, یہ ہے نئے پاکستان کے وہ ثمرات جو آنا شروع ہوگئے ہیں, یہ ہے وہ یو ٹرن پاکستان اور امت مسلمہ کی تاریخ اور نشاتہ ثانیہ کا جہاں سے اقوام عالم پاکستان کی ہاں میں ہاں اور نا میں نا ملانے کو تیار ہونگی۔

پاکستان کو تکلیف دے کر یا تکلیف پہنچانے کی خواہش دل میں رکھ کر کوئی اب مستقبل میں عزت اور خوشی نہیں کما سکتا یہ بات اب روز روشن کی طرح واضح ہوتی جارہی ہے۔

راحیل شریف کے دور سربراہی سے شروع ہوئی یہ کھیل اب دلچسپ مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

سعودیہ, پاکستان اور چائنہ ملکر ایک ایسا بلاک بننے جارہے ہیں عنقریب جو سبھی موجودہ اور درپردہ بلاکس کی بنیادیں ہلانے والا ہے۔

امت مسلمہ کے 56 اسلامی ممالک میں سے 45 ممالک کلی طور پر پاکستان, سعودیہ اور مصر کو دل سے بڑا اور رہبر مان چکے ہیں کہ یہ تین اسلامی ملک کل کو امت مسلمہ کی بقاء کی خاطر جو بھی بہتر فیصلہ کرنا چاہیں کرسکتے ہیں اور آزاد ہیں۔

دو دن شہزادہ محمد بن سلمان پاکستان میں آئے تو لگا پاکستان میں کوئی عید کا سماء بندھا ہوا ہے جبکہ پڑوسی ممالک میں مرگ مفاجات کی کیفیت طاری تھی اور اب مرے پر سو درے ہوگئے کہ شہزادہ جو کہ اپنا پروگرام دورہ برائے بھارت ملتوی مطلب ختم کرچکے تھے پر ایک دن کی تاخیر سے آگئے, جس کو میں ہضم نہیں کررہا تھا پر اب جب بھارتی میڈیا کی چیخم چلی اور سینہ کوبی دیکھی تو کلیجے میں ٹھنڈ سی پڑ گئی کہ واہ شہزادے کیا پینترا بدلہ ہے۔

ایران بھارت کا سہولت کار بن کر خطے میں جنگ کو ہوا دینے کی اپنی سی کوشش کرنے میں یہ بھول گیا کہ بنیا اپنی دھوتی میں آگ کبھی نہیں لگائے گا بیشک اس کو جتنا مرضی دوستی کے چکر میں پھنسا لو۔

خیر سوائے حاجیوں کے کوٹے میں برائے نام اضافے کے علاوعہ شہزادہ محمد بن سلمان نے کوئی خاص پیکج نہیں دیا بھارت کو, یہاں وہ عالمی اور دیسی لنڈے کے دانشور اور "تجیہ نغار” اب اپنی بغلیں ضرور جھانک رہے ہونگے جو شہزادہ محمد بن سلمان کی پاکستان آمد سے پہلے ہی شور و غوغا مچا رہے تھے کہ شہزادہ یہودی اور ہندو آلہ کار ہے جو پاکستان کا سی پیک سبوتاز کرنے اور بھارت کو نوازنے گھر سے نکلا ہے۔

سب سے بڑی بات کسی بھی بیرون ملک دورے پر میزبان اور مہمان ملک کے سربراہوں کا مشترکہ اعلامیہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جو دراصل سارے دورے کی ہی نہیں بلکہ دونوں ملکوں کی موجودہ سفارت کاری اور بیک ڈرو چینلز و فرنٹ ڈور چینلز پر ہوئی کارگزاری کی سمری ہوتا ہے, اور آح بھارت میں شہزادے و مودی کے مشترکہ اعلامیے نے سارا کچھا چٹھا بیان کرکے رکھ دیا جس نے بھارتی عوام کو اور تلملا دیا جو پہلے ہی تتے توے پر سوار تھی پاکستان کی وجہ سے, نہ پاکستان کا ذکر ہوا, نہ کشمیر کا ذکر ہوا, نہ پلوامہ فالس فلیگ آپریشن کا ذکر ہوا اور نہ ہی شہزادے نے دہشتگردی پر بات کرتے ہوئے کوئی حوصلہ افزاء بات کی بھارت کے لیئے۔

دوسری طرف بھارت یاترا پر شہزادہ محمد بن سلمان کے چہرے کے تاثرات اور جسمانی و نفسیاتی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے والے عالمی ایکسپرٹس نے واضح طور پر یہی رائے قائم کی اور بتائی کہ شہزادہ پلوامہ فالس فلیگ آپریشن, کشمیر ایشو پر بھارت سے ناگواری اور پاکستان سے فطری و مذہبی لگاؤ کو چھپا نہیں پایا بلکہ اس نے چھپانے کی کوشش کی بھی نہیں, اور پھر پہلے دورہ بھارت کینسل کرکے یوں اچانک چلے جانا اور پھر پاکستان سے ملی محبت اور عزت اور بھارت میں ملی خوشامد و منافقت کو سمجھ کر نپی تلی گفتگو کرنا بہت کچھ سمجھا گیا کہ خطے میں اصل چوہدری کون اور اصل لیڈر کس ملک کے پاس ہے؟

پاکستان مذہبی, موجودہ سیاسی و عسکری قیادت اور قومی محبت کی وجہ سے سعودیہ کے بہت قریب ہے جس کو کوئی دور نہیں کرسکتا یہ بات اس بار شہزادہ محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان اور اب دورہ بھارت نے واضح کردیا ہے ساری دنیا پر۔

ایک مذہبی اور معاشی طاقت, دوسری فوجی و جوہری طاقت اور تیسری اقتصادی و سپرپاور جب ایک ہی بلاک میں آگئے ہیں تو ماضی کی سپر پاور اور سبھی غیر جانبدار اور سمجھدار مملکتوں کو سوائے اس بلاک کا حصہ بننے کے اور چارہ نظر نہیں آتا۔

بھارت اور ایران دونوں پاکستان ہی نہیں امت مسلمہ کے زمین دوز دشمن ہیں جو کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے جس سے پاکستان اور امت مسلمہ کو ذک پہنچائی جائے پر اس دفعہ ان دونوں کے ساتھ بڑی بری ہوگئی کہ ہاتھ کو آیا پر منہ نا لگا۔

دونوں ملکوں نے پڑوسی کے گھر بدامنی کی خاطر اور اس کی جگ ہنسائی کےلیئے اپنے لوگ مرواکر جو ڈرامہ بلکہ فلم تیار کی تھی وہ بری طرح فلاپ ہوگئی اور پاکستان اس سے زیادہ بہتر انداز میں اپنے مفادات اور عزت کو بچا گیا جو ان کی اس حرکت کے بغیر شاید ممکن نہ ہوتا۔

خطے میں طاقت کا توازن اب درست پلڑے میں ٹرانسفر ہورہا ہے جوکہ خوش آئند بات ہے۔

پرامن اور تجربہ کار فوج, پاک فوج اور دس سال لگی رہتی تو شاید تب یہ مرحلے طے ہوتے جو اب ہوگئے ہیں پر مخلص اور ایماندار اور بہادر جمہوری قیادت ملی تو یہ سب اتنی جلدی اور اتنے اچھے سے ممکن ہوسکا۔

بھارت اب کرکٹ, بالی وڈ اور ٹماٹر ڈپلومیسی جیسی گھٹیا حرکات کا مرتکب ہوکر خود کو خود اکیلا کررہا ہے۔

بھارت اور نواز شریف کی سازباز اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی یہ اب پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے, مودی نے پلوامہ فالس فلیگ والا کانٹا خود چنا جو اس کے پرخچے اڑادے گا اور بھارتی سینا میں بڑے پیمانے پر خرد برد کے قصے بھی بہت جلد زبان ذدعام پر آنے والے ہیں بھارتی الیکشن کے بعد۔

مورخ اس وقت مکمل پاکستان کے حوالے سے مثبت خبریں اور تجزیئے رکھتا ہے کہ پاکستان کو بہت لمبے عرصے کے بعد اب حقیقی قیادت اور مخلص حکمران ملا ہے۔

اللہ پاکستان اور امت مسلمہ کی حفاظت فرمائے۔

آزادیات

بلال #شوکت #آزاد

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 6)

آتی ہے ندّی فرازِ کوہ سے گاتی ہوئی کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی …

نوائے اقبال شرح بانگِ درا (ہمالہ بند 5)

جنبشِ موجِ نسیم صبح گہوارہ بنی۔۔۔ا جھومتی ہے نشہء ہستی میں ہر گل کی کلی۔۔۔! …

Send this to a friend