صفحہ اول / بلاگرز فورم / پاکستان کا دوسرا بڑا المیہ، صحت کے مسائل

پاکستان کا دوسرا بڑا المیہ، صحت کے مسائل

پاکستان کا دوسرا بڑا المیہ ۔ صحت کے مسائل

تحریر: عبدالرب


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وضاحت:
پاکستان میری امیدوں کا مرکز و محور ھے۔۔۔ اس سے عشق میرا عقیدہ ھے۔۔۔ اپنی اور دنیا کے نظر میں اسکو سربلند رکھنا میرا جنون ھے۔۔۔ پاکستان کے مثبت پہلو بے شمار ہیں، مگر پروپیگنڈے کی اس جنگ میں ہماری توجہ حقیقی مسائل سے ہٹا کر بے تکے ایشوز کی طرف کر دی جاتی ھے۔۔۔ میرے نزدیک یہ خود کے ساتھ اور پاکستان کے ساتھ زیادتی ھے کہ اس کے حقیقی مسائل کو حالات کی گرد میں ھی آلودہ رہنے دیا جائے۔۔۔!!! اس وطن کو اپنے لئے کچھ کر گزرنے کا جذبہ رکھنے والوں کی کمی کا سامنا کبھی نہیں رہا۔۔۔ بس منزل متعین اور راستہ واضح ہونا چاہیے۔۔۔ اور یہی کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عام انسانی معیارِ زندگی کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے 195 ممالک کی فہرست میں 168ویں نمبر پر ھے۔۔۔
جبکہ انسانی ترقی (ھیومن ڈویلپمنٹ) کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 139واں ھے۔۔۔
زندگی کے لیے محفوظ 144 ممالک کی فہرست میں پاکستان 137ویں نمبر پر ھے۔۔۔
صحت پر اخراجات کے اعتبار سے 172 ممالک کی فہرست میں 156ویں نمبر پر ھے۔۔۔
اور دنیا کے 166 ممالک میں آدمی کی اوسط عمر کسی بھی پاکستانی شہری کی اوسط عمر سے زیادہ ھے۔۔۔
عالمی درجہ بندی میں عام صحت کے شعبہ کے حوالے سے پاکستان کا نمبر 149واں ھے۔۔۔

2015 میں پاکستان میں کل 1167 ھسپتال تھے، 5695 ڈسپنسریز، 5464 بنیادی صحت مراکز، 733 بچوں کی صحت کے مراکز، 675 دیہی صحت مراکز اور 339 دیگر ہیلتھ سنٹرز تھے۔۔۔

پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں شعبہ صحت کی صورتحال باقی صوبوں کی نسبت بہتر ھے۔۔۔
تعلیم کی طرح صحت کا شعبہ بھی 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کے اختیار میں آ چکا ھے۔۔۔ تو صرف پنجاب کو سامنے رکھ کر یہاں صحت و زندگی کے بارے اعداد و شمار کا اندازہ لگائیے۔۔۔

2017 کی رپورٹ کے مطابق صوبائی حکومت نے پنجاب بھر کی عوام کو ادویات کی فراہمی کے لئے صرف 224روپے فی کس سالانہ کی کمزور ترین رقم مختص کر رکھی ھے۔۔۔
سرکار کے "سپیشلائزڈہسپتالوں” میں فی 4700 افراد کے لئے صرف 1 بیڈ موجود ھے۔۔۔
تقریبا 1کروڑ افراد کو ایک "ایم آر آئی مشین”
32 لاکھ افراد کیلئے ایک "سی ٹی سکین مشین”
60 لاکھ افراد کے لئے ایک "اینجیوگرافی مشین”
1لاکھ 40ہزار افراد کی خاطر ایک ’’وینٹیلیٹر‘‘
4لاکھ 80ہزار شہریوں کو ایک ’’ایکسرے مشین‘‘
2لاکھ 23ہزار شہریوں کے نصیب میں صرف ایک ’’ڈائیلیسز مشین‘‘ آتی ھے۔۔۔

پنجاب کے تمام سرکاری ہسپتالوں میں روزانہ کی بنیاد پر تقریبا3.5 لاکھ مریض آتے ہیں۔۔۔ جن میں سے 70 فیصد مناسب علاج کی سہولیات نہ ھونے کے سبب اپنی بیماری کے ساتھ ھی واپس چلے جاتے ھیں۔۔۔

کچھ دوستوں کا سوال ھوتا ھے کہ آپ جو اعداد و شمار ذکر کرتے ھیں انکا حوالہ کیا ھے۔۔۔؟ یہاں پر جواب
قومی ادارہ برائے صحت(NHI) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عامر اکرام سے لے لیں:
تاریخ میں پہلی بار کسی صدر مملکت، عارف علوی کے قومی ادارہ برائے صحت کے دورے کے دوران، انہیں یہ بتایا گیا کہ "پاکستان میں شعبہ صحت کے قابل اعتماد اعداد و شمار موجود ھی نہیں ھیں۔۔۔”
بہرحال میرے اعداد و شمار کا منبع و مآخذ بھی میں ھی ھوں۔۔۔ کسی جگہ چیلنج کرنا ھو تو میں دلائل بھی جمع کر لاؤں گا، تحریر کی طوالت کے خوف سے یہاں ذکر نہیں کرتا۔۔۔

ھمارا صحت کا بجٹ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے معیار کے مطابق نہیں ھے۔۔۔ پاکستان کا صحت کا بجٹ گزشتہ دس برسوں میں جی ڈی پی کا 0.5 سے 0.8 فیصد تک رھا ھے۔۔۔ جب کہ WHO کے مطابق بنیادی اور معیاری صحت کے لیے یہ بجٹ کم ازکم 6 فیصد ہونا چاہیے۔۔۔ اور حالت یہ ھے کہ پچھلے 10 سالوں کے دوران اپنے قرضوں کا 16.8 فیصد ھم نے صحت کے نام پر لیا تھا۔۔۔ اور یوں ھم دنیا میں تیسرا بڑا ملک ھیں جو صحت کے مسائل کے نام پر قرض لیتے ھیں۔۔۔ عالمی اداروں اور ممالک سے ملنے والی امداد اور ڈونیشنز اس کے علاوہ ھیں۔۔۔

یونیسیف کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان نوزائیداہ بچوں کی اموات میں پہلے نمبر پر ھے۔۔۔ پاکستان میں ہر 22 بچوں میں 1 پیدائش کے پہلے مہینے میں ہی موت کا شکار ہو جاتا ھے۔۔۔ جب کہ جاپان میں یہ شرح 1111 میں 1 ھے۔۔۔ چین کی آبادی پاکستان سے 5 گنا زیادہ ھونے کے باوجود چین میں نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات پاکستان سے 12 گنا کم ھے۔۔۔ اسی طرح بچے کی پیدائش کے دوران ماں کی ہلاکت کی شرح کو دیکھا جائے تو پاکستان میں ھر 35 ماؤں میں سے 1 ماں زچگی کے دوران زندگی کی بازی ہار جاتی ھے۔۔۔

ایک اور سروے کے مطابق پاکستان کے 45 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ھونے کیوجہ جسمانی اور ذھنی امراض کا شکار ھیں۔۔۔ اور 2015 کے شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 41 فیصد 18 سال سے کم عمر بچے ھیں۔۔۔

پولیو اگرچہ ھمارے ملک کے صحت کے مسائل میں کسی درجہ پر نہیں ھے مگر اس پر واویلا کسی اور سبب سے ھے۔۔۔ جبکہ ھمارے ملک میں بچوں کو خسرے سے بچاؤ کے ٹیکے لگانے کی شرح صرف 50فیصد ھے۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان میں بچوں میں خسرے کی بیماری ایک وبائی صورت اختیار کر لیتی ھے۔۔۔ اور گزشتہ برس پاکستان میں خسرے کے 6494 کیسز سامنے آئے تھے جبکہ افغانستان میں ایسے کیسز کی تعداد 1511 اور جنگ زدہ شام میں صرف 513 تھی۔۔۔

پاکستان میں صحت کے شعبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ ملک میں 74 میڈیکل کالج اور 32 ڈینٹل کالج موجود ھیں۔۔۔ ہر سال 9000 ڈاکٹر اور 2000 ڈینٹسٹ فارغ ھوتے ھیں۔۔۔
ھمارے یہاں آبادی کے تناسب کے لحاظ سے ھر 1250 انسانوں کے لئے 1 ڈاکٹر دستیاب ھے۔۔۔ جبکہ امریکا میں یہ تناسب 1:24 اور برطانیہ میں 1:25 ھے۔۔۔

ویکی پیڈیا کا تبصرہ پڑھ لیجئے۔۔۔

"دیگر انسانی بنیادی ضروریات کی ناپیدی اور انحطاط کے ساتھ ساتھ صحت عامہ کا شعبہ بھی پاکستان میں انتہائی تنزل کا شکار ہے۔ پاکستان میں رہنے والے ناقص غذا اور صفائی ستھرائی کی عدم دستیابی و غلاظت سے جنم لینے والے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اچھا اور مناسب علاج درمیانے سے لیکر اعلیٰ طبقے کے ليے مخصوص ہے۔ سرکاری شفاخانے دنیا بھر کی تہذیب یافتہ اقوام میں اپنا ایک معیار رکھتے ہیں مگر پاکستان میں ان کی حالت ابتر ہے۔

متعلقہ نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ہمارے تعلیمی مسائل کا حل

ھمارے تعلیمی مسائل کا حل تحریر : عبدالرب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (زیر نظر مضمون ہمارے قابل قدر …

ہمارا تعلیمی نظام اور مدارس کا کردار

ہمارا تعلیمی نظام اور مدارس کا کردار تحریر: عبدالرب ھمارے ملک کی آبادی کی بڑی …

Send this to a friend