صفحہ اول / انٹرٹینمنٹ / پی ایس ایل 4، اسد عباس خان

پی ایس ایل 4، اسد عباس خان

پی ایس ایل 4

تحریر: اسد عباس خان

کھیل جہاں جسمانی فٹنس اور تفریح فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں وہیں دنیا کی مختلف اقوام اور ممالک کے درمیان قربتوں اور رابطے کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا ازلی دشمن ہر میدان میں اپنی خباثت دکھاتا آیا ہے۔ کولکتہ میں کرکٹ میچ کے دوران ہار کو سامنے دیکھنے ہوئے ہنگامہ آرائی ہو یا ممبئی میں میچ سے قبل ہی وکٹ اکھاڑ دینے کا معاملہ۔۔۔۔۔!
آج سے دس سال قبل لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہندوستانی کٹھ پتلیوں نے حملہ کیا تو پاکستان میں کھیلوں کے دروازے جیسے بند ہی ہو گئے۔ اور خاص طور پر بین الاقوامی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان آ کر کھیلنے سے انکار کر دیا۔ با اَمر مجبوری پاکستان کرکٹ ٹیم کو متحدہ عرب امارات کے گراؤنڈز کو "ہوم گراؤنڈز” کے طور پر اپنانا پڑا۔ جب دہشتگردی کے ناسور کو اکھاڑ پھینکا گیا تو پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ کی گھر واپسی کے لیے بھی کمر کس لی۔ لیکن "آئی سی سی” پر مکمل ہندوستانی اثرورسوخ اور "آئی پی ایل” میں پیسے کی چمک ایسی وجوہات تھیں جو دوسرے ممالک کے "کرکٹ بورڈز” اور کھلاڑیوں کو پاکستان آ کر کھیلنے کی راہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔ "پی سی بی” بھی مختلف حربے آزماتا رہا جو کچھ حد تک ہی کارگر رہے۔ لیکن "پاکستان سپر لیگ” کا "آئیڈیا” سب سے بہتر ثابت ہوا جو نہ صرف کرکٹ کی "گھر واپسی” کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے میں ممتاز رہا جہاں پاکستان بھر سے نئے اور نوجوان کھلاڑیوں کو دنیا بھر کے نامور اور بڑے کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملا وہیں ان نوجوان کھلاڑیوں کو "انٹرنیشنل لیول” پر اپنا "ٹیلنٹ” دکھانے اور قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے لیے مواقع بھی فراہم کر دیے۔ یہی وجہ تھی کہ 2017ء کی "چیمپیئن ٹرافی” کی جیت میں اسی لیگ سے "سلیکٹرز” کی نظر میں آنے والے نوجوان کھلاڑیوں نے اہم کردار ادا کیا۔ اور فائنل میں ہندوستان کو عبرت ناک شکست سے دوچار کر کے پاکستان پہلی دفعہ "چیمپیئن” بنا۔
پاکستان سپر لیگ کے چوتھے سیزن کا پہلا مرحلہ متحدہ عرب امارات میں جاری ہے۔ اس سال بھی گزشتہ برس کی طرح چھ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ جس میں "ملتان سلطان” کی اونرزشپ تبدیل ہو کر جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے نامور نوجوان "علی ترین” کے پاس آ چکی ہے۔ جو اس علاقے میں کرکٹ کی ترقی کے لیے بہترین چوائس ہو سکتی ہے۔ لیگ کے 34 میچز کے لیے پانچ میدانوں کا انتخاب کرتے ہوئے مقابلوں کا شیڈول جاری کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلہ میں 26 میچز دبئی، شارجہ اور ابوظہبی میں کھیلے جا رہے ہیں جہاں ابوظہبی پہلی دفعہ میزبانی کر رہا ہے۔ تو دوسرے مرحلہ میں آٹھ میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے۔ تین مقابلے لاہور جبکہ فائنل سمیت پانچ مقابلوں کے لیے پاکستان کی جان کراچی کو میزبانی ملی تھی لیکن ہندوستانی جارحیت کے باعث حالات تیزی سے تبدیل ہوئے اور دفاع وطن کی خاطر پاکستان کی فضائی حدود کو محدود دنوں کے لیے بند رکھنا پڑا۔ تو شائقین کرکٹ کے لیے بھی یہ کوئی اچھا شگون نہیں تھا، جو پہلے ہی طویل عرصہ سے پاکستان میں میچز دیکھنے سے محروم ہیں۔ لیکن اب مایوسی کے بادل چھٹ چکے ہیں اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے اعلان کر دیا ہے کہ پاکستان میں شیڈول میچز ضرور ہوں گے لیکن کچھ ردوبدل کے ساتھ۔۔۔۔۔۔!
فائنل سمیت سب میچز صرف کراچی میں کھیلے جائیں گے۔ یعنی زندہ دِلان لاہور اس سال لاہور میں میچز دیکھنے سے محروم رہیں گے تو اہلیان کراچی کے لیے خوشخبری ہے کہ مکمل آٹھ میچ "نیشنل اسٹیڈیم کراچی” میں دیکھ سکیں گے۔ وطن عزیز پر جنگ کے بادل منڈلانے کے باوجود پاکستانی قوم "پی ایس ایل” کو اینجوائے کر رہی ہے جو پاکستان دشمنوں کے منہ پر تمانچہ ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت سیکیورٹی کے پختہ انتظامات کرنے میں جُتی ہوئی ہے۔ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ پوری قوم اور بالخصوص اہلیان کراچی کو بھی اس ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لیے کردار ادا کرنا ہوگا۔ ناپاک دشمن سے بھی ہوشیار رہنا ہو گا اور شائقین کرکٹ کو بھی گراؤنڈ میں آ کر نہ صرف کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی بلکہ پوری دنیا کو بھی یہ پیغام دینا ہو گا کہ ہم کھیلوں اور کھلاڑیوں سے محبت کرنے والے پرامن قوم ہیں۔ اور کرکٹ جیسے بےضرر اور "جینٹل مین” کھیل کے دشمن کو بھی دکھانا ہے جو "کھسیانی بلی کھمبا نوچے” کے مصداق پاکستان کو عالمی کپ مقابلوں سے باہر رکھنے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ مجھے پوری امید ہے "پی ایس ایل” کے دوسرے مرحلے کے دوران "نیشنل اسٹیڈیم کراچی” کھچا کھچ بھرا ہو گا۔ اور پوری قوم یک زبان ہو کر با آواز بلند "پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگاتے ہوئے اس میدان میں بھی دشمن کے عزائم خاک میں ملائے گی۔
ان شاء اللہ

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

اردو، اک لمحہ فکریہ ۔۔۔ تحریر : غلام فاطمہ

بلاشبہ ہماری قومی زبان اردو کی بے وقعتی ہمارے لئے ایک لمحہ فکریہ سے کم …

جماعت اسلامی کا پاکستان اورکشمیر کے لیے کردار

یہ بات ایک حقیقت ہے جس سے کوئی انکا ر نہیں کر سکتا کہ اس …

Send this to a friend