صفحہ اول / بلاگرز فورم / ہمارا تعلیمی نظام اور مدارس کا کردار

ہمارا تعلیمی نظام اور مدارس کا کردار

ہمارا تعلیمی نظام اور مدارس کا کردار

تحریر: عبدالرب

ھمارے ملک کی آبادی کی بڑی تعداد بریلوی مکتبہ فکر سے ھے۔۔۔ لیکن مدارس دینیہ میں سب سے بڑی تعداد دیوبندی مکتبہ فکر کے اداروں کی ھے۔۔۔تقریبا کل 35 ھزار مدارس میں 40 لاکھ کے قریب طلباء مصرف عمل ھیں۔۔۔ 64 فیصد مدارس دیوبند اور 25 فیصد بریلوی مکتبہ فکر سے منسلک ھیں۔۔۔

دیوبندی مدارس کے نظم وفاق المدارس العربیہ کے تحت 18600 مدارس رجسٹرڈ ھیں، جن میں بیس لاکھ کے قریب طلبا و طالبات پڑھتے ھیں۔۔۔

جماعت اسلامی کے تحت چلنے والے مدارس کے وفاق کا نام رابطہ المدارس ھے۔۔۔ اس کے تحت 1018 مدارس ہیں، جن میں 140500 طلباء و طالبات زیر تعلیم ھیں۔۔۔

بریلوی مدارس کے نظم تنظیم المدارس سے ملحق اداروں کی تعداد 9000 کے قریب ھے۔۔۔ اس میں تقریبا 13لاکھ طلباء و طالبات زیر تعلیم ھیں۔۔۔

اہل حدیث مدارس کے نظم وفاق المدارس السلفیہ کے زیر اہتمام 1400مدارس فعال ہیں، جن میں 58000 کے قریب طلباء و طالبات پڑ رھے ھیں۔۔۔

اہل تشیع مکتبہ فکر کے پاکستان میں کل 460 مدارس ہیں۔ جن میں تقریبا 20 ہزار طلبا زیر تعلیم ہیں۔۔۔

ان مدارس کے علاوہ جماعت الدعوة کے 22 مدارس، دارالعلوم کراچی کے زیر انتظام 8 مدارس، لال مسجد سے تعلق رکھنے والے 16مدارس۔۔۔ اقرا روضة الاطفال، مدینة الاطفال، حدیقة الاطفال وغیرہ کا سسٹم، اور دعوت اسلامی، منہاج القرآن وغیرہ کے تحت بھی دینی تعلیمی ادارے کام کر رھے ھیں۔۔۔ بہت سے مقامی ادارے جو صرف حفظ و ناظرہ یا ترجمہ قرآن وغیرہ کی تدریس کا کام کررھے ھیں وہ اس اعداد و شمار کے علاوہ ھیں۔۔۔

اور مساجد، افراد یا دیگر نجی اور اداراتی انتظام کے تحت چلنے والے تبلیغی ادارے اور اسلامک سنٹرز جیسا کہ الہدی، النور، محسن فاؤنڈیشن، المدرار، المورد، مثالی فاؤنڈیشن، البصیرہ، جیسے بے شمار ادارے بھی ھیں۔۔۔

بڑے مسالک کے علاوہ اقلیتی طبقات جیسے قادیانی، اسماعیلی، بروھی، پارسی، سکھ، ھندو اور عیسائی مشنری ادارے اسکے علاوہ ھیں۔۔۔

1947ء میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مغربی اور مشرقی پاکستان دونوں کو ملا کر بھی مدارس کی تعداد 245 سے زیادہ نہیں تھی۔۔۔ آج پاکستان میں مدارس کی تعداد میں اضافہ کے حیران کن اور مبہم اعداد و شمار سے یہ بات ظاھر ھوتی ھے کہ جہاں سرکاری سطح پر مانیٹرنگ اور رجسٹریشن کا نظام نہ ھونے کے برابر ھے وھیں مسالک اور تنظیموں کا خود اپنے مدارس پر کنٹرول کچھ زیادہ موثر و موقر نہیں ھے۔۔۔

عوام کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں جہاں ریاست ناکام رھی تو پرائیویٹ تعلیمی ادارے اور دینی مدارس بھی کوئی بہت نمایاں کارگزاری نہیں دکھا سکے۔۔۔ ھمارے مدارس ملکی آبادی کی 15فیصد تعلیمی ضرورت پوری کرتے ھیں۔۔۔ اسکے باوجود بھی ملک کے تعلیمی نظام میں کوئی خاص مقام نہیں رکھتے۔۔۔ برطانوی راج میں مدارس کو دانستہ طور پر صرف مذہبی تعلیم تک محدود رکھا گیا تاکہ ان کو زیر تسلط رکھ کر نظام تعلیم پر غالب آنے سے باز رکھا جا سکے۔۔۔ مگر قیام پاکستان کے بعد جہاں حکومتیں سامراج کی اس فکر کو تبدیل کرنے میں ناکام رھیں۔۔۔ وھاں خود اھل مدارس بھی اصلاحات کی کوششوں کی ناکامی کے ذمہ دار ھیں۔۔۔

چیدہ چیدہ ذمہ دار جامعات اور مدارس کے علاوہ بیشتر مدارس کا حال یقینا وھی ھے جو مجھ جیسے بہت سے لوگ سننے اور ماننے پر تیار نہیں ھیں۔۔۔ اور میری اگلی سطور کے بعد مجھ پر فتووں کی برسات ھونے والی ھے۔۔۔ اسلئے اس سے آگے اپنی ذمہ داری پر پڑھیے۔۔۔

عام طور پر مدارس میں اساتذہ کی اہلیت اور نصاب پر سوال اٹھاتے ہوئے یہ بات ذھن میں رھنی چاھئے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں بھی گرچہ حقائق کچھ مختلف نہیں ہیں۔۔۔ مگر مدارس اس باب میں بالکل ھی بے کار و بے اعتبار نکلے ھیں۔۔۔

ایک ھی مسلک اور وفاق کے مدارس کے طریقہ ھائے تدریس و تعلیم و تربیت میں مشرق و مغرب کا فرق ھے۔۔۔ 2 سالہ، 4 سالہ، 6 سالہ، 8 سالہ درس نظامی کرنے کی سہولت کے ساتھ ھر ادارہ اپنا نصاب اور نظام خود وضع کرنے میں آزاد ھے۔۔۔ صرف امتحان وفاق لیتا ھے۔۔۔ اور نہ ھی کوئی ایسا معیار یا قانون ھے جو استاد کی اھلیت کا تعین کرے۔۔۔ کئی مدارس میں پڑھائے جانے والے نصاب پر ایک صدی سے کوئی نظر ثانی کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔۔۔

ھمارے تعلیمی نظام میں مدارس کے کردار کا جائزہ لینا ھر محب وطن اور دین پسند جماعت، تنظیم، سرکار، علماء اور ماہرین تعلیم کی ذمہ داری ھے۔۔۔

مدارس کے بارے سیکورٹی اور مالی خدشات بھی ایک تلخ حقیقت ھیں۔۔۔
یقینا یہ مدارس سیاسی اور سماجی اثرو رسوخ رکھتے ھیں۔۔۔ پاکستان کے 82 فیصد مدارس کسی نہ کسی سیاسی جماعت کو سپورٹ کرتے ھیں یا اسکی سپورٹ سے چلتے ھیں۔۔۔ ان سیاسی جماعتوں میں انتہا پسند اور مفاد پرست ٹولہ بھی ھے۔۔۔ اور ریاست مخالف اور متشدد منہج رکھنے والے مدارس بھی اسی نظام کا حصہ ھیں۔۔۔ لہذا جب مدارس سیاسی مقاصد کے لئے استعمال ھوتے ھیں تو یہ مقاصد مثبت کم اور منفی زیادہ ھوتے ھیں۔۔۔

مدارس کو سب سے زیادہ تحفظات اپنے فنڈز کا آڈٹ کروانے پر ھیں۔۔۔ اس انکار کی وجہ سے بھی مدارس کے حوالے سے معاشرہ میں ابہام پایا جاتا ھے۔۔۔

ایک سروے کے مطابق ھم پاکستانی اپنی آمدن کا تقریبا 30 فیصد یعنی کل 71 ارب روپے صدقہ و خیرات میں دیتے ھیں۔۔۔ اور اس بنیاد پر ھم دنیا میں سب سے زیادہ چیریٹی کرنے والی قوم ھیں۔۔۔ (یاد رھے قربانی کی کھالیں، زکوة و عشر اور محکمہ اوقاف کو خانقاھوں کی مد میں ملنے والے ھدایا اس شمار کے علاوہ ھیں) اور جو فنڈز بیرون ممالک سے آتے ھیں انکا تخمینہ بھی بڑا مبہم اور حیران کن ھے۔۔۔ گویا ایک رپورٹ کے مطابق ھماری آبادی کے 6.2 فیصد کا ذریعہ معاش ھی خیرات ھے۔۔۔
مذھبی سیاسی جماعتیں یا دینی مدارس اس فنڈ کا اگر مثبت اور درست استعمال کریں تو ملک کے ایک تہائی معاشی مسائل تو حل ھو سکتے ھیں۔۔۔

اپنے ملک کے سب سے بڑے مسئلہ تعلیم کے حل کے لئے ضروری ھے کہ مدارس کو تعلیمی اصلاحات کا پابند کیا جائے۔۔۔ نصاب، طریقہ تدریس، نظام تعلیم، اور معاشرے کو اھل افراد فراھم کرنے حوالے مدارس کے نظم کو بڑی تبدیلیوں کا سامنا کرنا ھوگا۔۔۔ اور ریاست اور علماء کو بڑی حکمت اور دور اندیشی کے ساتھ اب اس مرحلے سے گزر ھی جانا چاہیے۔۔۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

ھم یہ جنگ کیسے لڑیں۔۔۔؟ عبدالرب ساجد

میں نہ جنگی حکمت عملیوں کا ماھر ھوں۔۔۔ نہ ھی جیو پولیٹیکس کی گہرائیوں کا …

لارڈ میکالوی مطالعہ پاکستان سے حقیقی مطالعہ پاکستان تک تحقیقی و تفتیشی جائزہ!!! بلال شوکت آزاد

(نوٹ: یہ ایک غیر جذباتی مگر بہت زیادہ تلخ اور کڑوے سوالات اور اظہارات پر …

Send this to a friend