صفحہ اول / بلاگرز فورم / ہندوستانی حملے کے پس پردہ اسباب۔۔۔محمد فہیم شاکر

ہندوستانی حملے کے پس پردہ اسباب۔۔۔محمد فہیم شاکر

ہندوستانی حملے کے پس پردہ اسباب
تحریر: محمد فہیم شاکر

پاکستان پر حملے کے لیے ہندوستان پر تول رہا ہے یہ تو کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں لیکن یہ خواہش اس وقت اس قدر شدید ہو چکی ہے جیسے کسی منشیات کے عادی کا نشہ ٹوٹ رہا ہو
لیکن آخر ایسا کیوں ہے کہ ہندوستان بہرصورت پاکستان پر حملہ کرنا چاہتا ہے کہیں ایسا تو نہیں کہ انڈیا بھارت کی مدد سے پاکستانی سرحدوں پر حملہ کر کے دراصل عمران خان حکومت کی بساط لپیٹنا چاہتا ہے
اور اس بات میں اس لیے سچائی نظر آرہی ہے کہ پیپلز پارٹی کے مرکزی راہنما اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو گھر بھیجنے کے لیے کوششوں کا آغاز کر رہے ہیں
اور اس پر عمران خان نے ریپلائی دیتے ہوئے کہا کہ بڑے شوق سے اسلام آباد میں دھرنا دیں ہم دھرنے والوں کو کھانا بھی فراہم کریں گے، بس زرداری صاحب! آپ حکومت گرانے کا شوق بھی فرمالیں
اور بلاول جبکہ پہلے ہی انڈیا سے مدد مانگ چکا ہے
جبکہ دوسری طرف عمران خان کی حکومت کو گرانے کےلیے میڈیا کو اربوں روپے دیے گئے تاکہ وہ اس حکومت کی معمولی سی غلطی کو بھی پہاڑ بنا کر دکھائیں، وزیراعظم کے ناشتے اور ٹوتھ پیسٹ کا خرچہ، ان کے لباس گاڑی کا خرچہ، ان کے چایے پانی کا خرچہ، وغیرہ وغیرہ
افسوس اس بات پر ہے کہ پاکستان کے حقیقی مسائل کو اجاگر کر کے حل کرنے کی بجائے لا یعنی چیزوں کو خوامخواہ کی اہمیت دی جا رہی ہے
اور کیا آپ نے محسوس نہیں کیا کہ اسد عمر کو ناکام وزیر خزانہ ثابت کرنے کے لیے اچانک سے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو میڈیا پر نجات دہندہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے بڑے بڑے میڈیا ہاوسز نے اس پر کام شروع کر دیا ہے

اور اس پر مستزاد یہ کہ ہندوستان کا حملہ سونے پر سہاگے کا کام کرے گا
اس وقت جہاں مدھیہ پردیش اور اتر پردیش سے آرمی فارمیشنز پاکستانی سرحدوں کی جانب موو کر چکی ہے وہیں دوسری طرف راجستھان اور پنجاب کی اکثر علاقوں میں ہندوستان نے پاکستان کی جانب ٹینک متعین کر دیے ہیں اور مودی نے پاکستان پر حملہ کرنے کی خاطر اپنی افواج کو تمام تر اختیار سونپ دیے ہیں
گذشتہ چھیڑ چھاڑ میں انڈین آرمی چیف پاکستانی طیاروں کے نشانے پر تھا اور پاکستان نے اسے دانستہ ہٹ نہ کر کے پیغام دیا تھا کہ جنگ سے باز رہنا لیکن یہ گدھا تو بالکل ہی الو کا پٹھا نکلا اور پھر سے مودی کی چکنی چپڑی باتوں میں آکر پاکستان میں سرجیکل سٹرائیک کی دھمکی دے رہا ہے لگتا ہے کمبخت کو جان پیاری نہیں،
ایسا کیوں ہے کہ ہندوستان 1965 اور 1971میں بھی انٹرنیشنل بارڈر کی بجائے کشمیر سائیڈ سے حملہ کرنے کی کوشش کرتا رہا اور اب بھی مقبوضہ کشمیر سے آزاد کشمیر پر حملے کی سوچ رہا ہے تاکہ جہاں ایک طرف آزاد کشمیر پر حملہ کر کے اسے بھی مقبوضہ بنایا جائے تاکہ پاکستان، ہندوستانی مقبوضہ کشمیر کو آزادی دلانے بارے سوچ بھی نہ سکا اور آزاد کشمیر بھی اس کے ہاتھ سے جاتا رہے وہیں دوسری طرف لائن آف کنٹرول کے راستے پاکستان سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر
ہندوستان پر کوئی خاص بیرونی دباو بھی نہیں آیے گا
اور وہ حملہ کیے بغیر رکنا والا نہیں، کیونکہ روس نے بھی پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ ہندوستانی تینوں مسلح افواج پاکستان پر حملے کےلیے بالکل تیار اور اشارے کی منتظر ہیں
اور انڈیا اس کوشش میں ہے کہ ایک ہی ساتھ پاکستان پر پانچ مختلف اطراف سے ہلہ بول دیا جائے
تاکہ پاکستان کو ایک ساتھ کئی محاذوں پر مصروف کر کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں
یہ تو سب تو وہ کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے وہ جو کر چکے ہیں وہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر پراپیگینڈہ زور پکڑ رہا ہے اور روز بروز ایسی خبریں دی جا رہی ہیں کہ انڈیا فلاں تاریخ فلاں فلاں بارڈر سے حملہ کرے لہذا پاکستانیو! خوراک ذخیرہ کر لو اور ایسے کر لو ویسے کر لو، اس سب کا فائدہ پاکستان سے زیادہ ہندوستان کو ہوگا
کیونکہ بظاہر تو یہ پاکستانی قوم کے فائدے کی بات ہے کہ وہ محتاط ہوجائے لیکن اگر بغور دیکھا جائے تو اس سے پاکستانی قوم کے حوصلے پست ہوں گے
آپ کو یاد ہوگا کہ فروری کے آخر پر جب ہندوستان نے پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تھی تو باوجود ٹینشن کے پوری پاکستانی قوم پی ایس ایل دیکھنے میں مصروف تھی اور اس پر مستزاد کہ ہندوستانیوں کو جی بھر کر جگتیں بھی لگائیں اور تو اور وزیراعظم عمران خان نے بھی پانچ دن بعد جواب دینا مناسب سمجھا اور انڈیا کی بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کو جنگ کی دھمکیوں کو پاکستانی قوم اور حکومت نے درخور اعتناء ہی نہیں سمجھا
یہ وہ عالی حوصلہ تھا جو پاک فوج کی شاندار اسٹریٹجی کا نتیجہ تھا اور قوم کا مورال اس قدر بلند رہا کہ جنگ کی سنجیدہ دھمکیوں کو جگتوں میں اڑا کر رکھ دیا یقینا اسی لیے اب دشمن جنگ سے پہلے خوف اور ڈر کی فضاء پیدا کر کے اس قوم کا وہ حوصلہ توڑنا چاہتا ہے
افسوس اس بات پر ہے کہ پاکستانی قوم میں سے بہت سے لوگ ثواب سمجھ کر دشمن کی چالوں کو کامیاب ہونے میں مدد دے رہے ہیں، کیونکہ دشمن کی چالیں بہت ہی مزین ہیں،
مفتی تقی عثمانی پر حملہ کر کے جس طرح سے مسلکی بنیادوں پر قوم کو لڑانے کی بھیانک سازش رچی تھی وہ تو ناکام ٹھہری لیکن یہ ایک ریہرسل تھی آنے والے وقتوں میں اس طرح کی خوفناک سازشیں تیار ہیں
لہذا قوم خبردار رہے کہ دشمن ہماری اس کمزوری سے فائدہ اٹھانے کے چکروں میں ہے تاکہ اگر بالفرض زمینی جنگ کو پاک فوج ٹال دیتی ہے تو کم از کم ذہنوں اور عقیدوں میں وہ جنگ بپا کر دی جائے تو نظر نہیں آتی۔

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

فرشتے اتریں گے تیری نصرت کو

اس وقت ملکی صورت حال انتہائی نازک حالت میں ہے ۔الحمداللہ امن تو ہے دہشت …

دردِ کشمیر اور ہمارا ضمیر..! از قلم مغیرہ حیدر

وادی کشمیر اور اس میں رہنے والے مظلوم کشمیری عوام جو گزشتہ پچاس دن سے …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: ہندوستانی حملے کے پس پردہ اسباب۔۔۔محمد فہیم شاکر! This is the link: https://pakbloggersforum.org/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86%db%8c-%d8%ad%d9%85%d9%84%db%92-%da%a9%db%92-%d9%be%d8%b3-%d9%be%d8%b1%d8%af%db%81-%d8%a7%d8%b3%d8%a8%d8%a7%d8%a8/