صفحہ اول / جنگ / ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

پاکستان میں آج کل ‘ففتھ جنریشن وار فئیر’ کی اصطلاح کا استعمال کافی عام ہو گیا ہے۔ حکومت کے وزرا ہوں یا پاکستانی فوج کے ترجمان یا سوشل

میڈیا پر صارفین، سب نے مخلتف مواقع پر اس بات کو دہرایا ہے کہ ہمیں ففتھ جنریشن وار فئیر کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
یوں تو ففتھ جنریشن وار ہر زبان زد عام ہے مگریہ جاننا ناازحد ضروری ہے کہ یہ ہے کیا؟
جس طرح فورتھ جنریشن وار فیصلہ کن اور ایک مہلک جنگی حکمت عملی تھی۔اس میں بھاری اور قیمتی اسلحہ کا استعمال کرتے ہوئے دشمن کو زیر کیا جاتا تھا جیسے عراق کا کویت پر حملہ پھر سویت یونین اورافغانستان کی جنگ کے بعد سویت یونین کاٹوٹ کر بکھر جانا اور امریکی حمایت یافتہ ملیشیا کا قابل پر قبضہ۔
پھر امریکہ کا ہی افغانستان پر حملہ کرکےدوبارہ جنگ میں دھکیلنا وغیرہ ایسی بہت سی مثالیں ہیں جن میں طاقت اور قوت کے ساتھ دشمن پر حملہ کیا جاتا اور بہت جلد اس کو تباہ و برباد کر دیا جاتا تھا۔اسی طرح اب روایتی ہتھیاروں کی جنگ کی جگہ ایک نئی حکمت عملی نے لے لی ہے جو آج کل ففتھ جنریشن وار فئیر کے نام سے مشہور ہے۔
نوے کی دہائی میں عراق کو مسلسل اقتصادی پابندیوں کے ذریعے اندر سے کھوکھلا کرنا اور کیمیائی و حیاتیاتی اسلحہ اور وسیع تر تباہی والے ہتھیاروں کے ذخیرے اور صلاحیت کے متعلق انتہائی مبالغہ آمیز پراپیگنڈوں کے ذریعے عالمی سطح پر تنہا کرنا اور پھر شدید بمباری کرتے ہوئے مختلف شہروں کو تباہ کردینا بغداد اور دوسرے علاقوں کے اندر امریکی اور امفوج کو داخل کرکےبہت جلد مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ففتھ جنریشن وار کا ہی شاخسانہ ہے۔
یہ طریقہ جنگ کم خرچ بالا نشیں کے مصداق سمجھاجاتا ہے۔
اور کم خرچ میں میں بہت زیادہ بہتر نتائج حاصل کئے جاتے ہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ اور اسرائیل کی مہربانی کی بدولت القاعدہ سے داعش کوپیدا کیا اور ففتھ جنریشن وار کے ذریعے مسلمانوں کے اندر زہر قاتل کی صورت اس کو بڑھاوا دیا تاکہ اس شدت پسند تنظیم کی مدد سے دنیا میں اسلام کو دہشت گرد مذہب گردانہ جائے اور اسی کی مدد سے مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جانے لگا۔ الغرض مختلف متحارب گروہوں اور عوام کو انکی افواج کے خلاف کھڑا کیا گیا جیسا کہ شام لیبیا یمن اور عراق جیسے ممالک کے ساتھ ہوا۔
اسی طرح ففتھ جنریشن وار کو پاکستان میں بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔بلوچستان میں علیحدگی پسند تنظیموں کی جانب سے گمشدہ افراد کا واویلہ کیا جاتا ہے اور بیرونی این جی اوز موم بتی مافیہا کی مددسےاسکو ایک بڑا ایشو بنا دیتی ہیں۔جبکہ وہ لوگ انہی تنظیموں کے کارکن ہوتے ہیں۔
اسکو سمجھنے کے لیے کراچی میں چائنہ کے سفارت خانے پر حملے کا ملزم جو گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھا اسی طرح گزشتہ ماہ گوادر میں ایک ہوٹل پر ہوئےحملے کے ملزم بھی نام ونہاد گمشدہ افراد کی لسٹ میں شامل تھے جو آپریشن کے دوران مارے گئے
اسی طرح مختلف مذہبی و سیاسی جماعتوں کو استعمال کرتے ہوئے سوشل میڈیا کے ذریعے عوام کے اندر مختلف لسانی صوبائی اور مسلکی تفرقات کو ہوا دی جا رہی ہے۔
اور دشمن قوتوں کی طرف سے مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے سکیورٹی کے مختلف اداروں کے خلاف پراپیگنڈا مہم لانچ کی گئی ہے جس کا مقصد اداروں اور عوام میں دوریاں پیدا کرنا ہے۔
پی ٹی ایم۔ایم کیو مسلم لیگ ن اور ان جیسی بہت سی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں استعمال ہورہی ہیں۔
تاکہ عوام کے اذہان کو تسخیر کرتے ہوئے افواج پاکستان کے خلاف غلط فہمیاں پیدا کی جائیں۔
موجودہ حالات کا تقاضہ ہے کہ ہم بحیثیت قوم تمام قسم کے لسانی صوبائی اور مسلکی اختلافات کے ساتھ ساتھ شخصیت پرستی کے ناسور سے بھی بالاتر ہوکر ایک قوم بنیں اور اپنی مسلح افواج اور ایجنسیز کے ساتھ کھڑے ہوں تاکہ وہ اپنی بھر پور قوت کے ساتھ ملکی دفاع کو مزید مضبوط اور مستحکم بنائیں یہ تبہی ممکن ہے جب ہم اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وطن عزیز پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔
ہر فورمز پر اپنے نظریات کا دفاع کریں۔
اور منفی پروپیگنڈوں کے خلاف سینہ سپر ہو جائیں مضبوط اور طاقتور پاکستان ہی ہماری بقا کا ضامن ہے اور اسی طرح اسلامی فلاحی ریاست کے خواب کی تعبیر ممکن ہے

متعلقہ محمد نعیم شہزاد

.......................... محمد نعیم شہزاد ایک ادبی، علمی اور سماجی شخصیت ہیں۔ لاہور کے ایک معروف تعلیمی ادارہ میں انگریزی زبان و ادب کی تعلیم دیتے ہیں۔ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں نظم اور نثر نگاری پر قادر ہیں۔ ان کی تحاریر فلسفہ خودی اور خود اعتمادی کو اجاگر کرتی ہیں اور حسرت و یاس کے موسم کو فرحت و امید افزاء بہاروں سے ہمکنار کرتی ہیں۔ دین اسلام اور وطن کی محبت ان کی روح میں بسی ہے۔ اسی جذبے کے تحت ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں پیش پیش رہتے ہیں۔

تجویز کردہ

فرشتے اتریں گے تیری نصرت کو

اس وقت ملکی صورت حال انتہائی نازک حالت میں ہے ۔الحمداللہ امن تو ہے دہشت …

سیاسی لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ شعبہ اخلاقیات خطرے میں پڑگیا، ذمہ دار کون؟

پاکستان میں دیگر شعبہ جات کی طرح میدان سیاست بھی کسی تعارف کا محتاج نہیں …

Send this to a friend

Hi, this may be interesting you: ففتھ جنریشن وار اور ہماری زمہ داری ۔۔۔ ملک سعادت نعمان! This is the link: https://pakbloggersforum.org/5th-generation-warfare-and-our-responsibilities/